لومڑی اور جگنو

لومڑی اور جگنو

گھنے جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ وہ خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ طاقت اور چالاکی ہی زندگی میں کامیابی دلاتی ہیں۔ وہ اکثر چھوٹے جانوروں کا مذاق اڑاتی اور کہتی،

“تم میں سے کسی کی کیا حیثیت؟ جنگل صرف طاقتوروں کا ہوتا ہے۔”

ایک رات جنگل پر ایسی گھپ اندھیری چھا گئی کہ چاند بھی بادلوں میں گم ہو گیا۔ راستے نظر آنا بند ہو گئے۔ بڑے بڑے جانور بھی اپنی پناہ گاہوں تک نہ پہنچ سکے۔

اسی وقت ایک ننھا سا جگنو اپنی معمولی سی روشنی کے ساتھ اڑتا ہوا آیا۔

لومڑی ہنس پڑی۔ “تمہاری اتنی سی روشنی سے کیا ہوگا؟”

جگنو نے مسکرا کر کہا، “اندھیرے سے لڑنے کے لیے سورج بننا ضروری نہیں، بس اپنی روشنی بجھنے نہ دو۔”

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اس کے پیچھے ہرن، خرگوش، کچھوے، پرندے، یہاں تک کہ وہ مغرور لومڑی بھی چلنے لگی۔ جگنو کی چھوٹی سی روشنی پورے جنگل کو روشن تو نہ کر سکی، مگر اتنی ضرور تھی کہ سب کو صحیح راستہ دکھا دے۔

صبح سورج نکل آیا۔ سب جانور محفوظ تھے۔

لومڑی نے شرمندہ ہو کر جگنو سے کہا، “میں ہمیشہ بڑے کاموں کے پیچھے بھاگتی رہی، لیکن آج ایک چھوٹی سی روشنی نے مجھے سکھا دیا کہ اصل عظمت روشنی کے سائز میں نہیں، اس کے فائدے میں ہوتی ہے۔”

جگنو مسکرایا اور بولا، “جو اپنی روشنی دوسروں کے لیے استعمال کرے، وہ کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔”

اخلاقی سبق: عظمت طاقت، شہرت یا جسامت میں نہیں، بلکہ اس بھلائی میں ہے جو انسان اپنی صلاحیت کے مطابق دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ چھوٹی سی نیکی بھی بڑے اندھیروں کو شکست دے سکتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner