ماں کی خدمت

ماں کی خدمت

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے

گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔

گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔

کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔

امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔

اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔

خط میں لکھا تھا:

“میرے پیارے بیٹے!

تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ اللہ نے تمہیں روزگار دے دیا ہے۔

ایک روپے کا میں نے آٹا خرید لیا ہے اور دوسرا روپیہ بنئے کو دے دیا ہے۔ وہ ہمارے پانچ روپے مانگتا ہے۔ اگر تم اسی طرح تھوڑے تھوڑے پیسے بھیجتے رہے تو ان شاء اللہ چند مہینوں میں ہمارا سارا قرض اتر جائے گا۔

اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور تمہارے رزق میں برکت دے۔

**تمہاری ماں”

خط پڑھتے پڑھتے امیر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

اسے حیرت ہوئی کہ یہ لڑکا اپنی معمولی سی آمدنی میں سے بھی اپنی ماں کا خیال رکھتا ہے، جبکہ خود شاید بہت کم میں گزارا کرتا ہے۔

امیر نے خاموشی سے اپنی جیب سے پانچ روپے نکالے اور خط کے ساتھ لڑکے کی جیب میں رکھ دیے۔

پھر واپس کمرے میں جا کر آواز دی:

“ارے! پانی تو لاؤ۔”

آواز سنتے ہی لڑکا گھبرا کر اٹھا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسے پانچ روپے محسوس ہوئے۔ وہ حیران اور خوف زدہ ہو گیا۔

وہ فوراً پانی کا گلاس لے کر امیر کے پاس پہنچا اور بولا:

“حضور! مجھے معاف کر دیجیے۔ ابھی تھوڑی دیر کے لیے میری آنکھ لگ گئی تھی۔ میری جیب میں کسی نے یہ پانچ روپے رکھ دیے ہیں۔ خدا گواہ ہے، میں نے یہ روپے چوری نہیں کیے!”

امیر مسکرایا اور بولا:

“گھبراؤ نہیں۔ یہ روپے تمہیں کسی نے چوری کے الزام میں پھنسانے کے لیے نہیں دیے۔ یہ تمہیں تمہاری ماں کی خدمت اور تمہاری نیک نیتی کا صلہ ملے ہیں۔”

لڑکا خاموش کھڑا رہا۔

امیر نے پوچھا:

“اب بتاؤ، اگر یہ روپے واقعی تمہارے ہوں تو کیا کرو گے؟”

لڑکے نے فوراً جواب دیا:

“حضور! میں اپنی ماں کو بھیج دوں گا، تاکہ وہ بنئے کا قرض اتار سکے۔”

امیر کا دل مزید خوش ہوگیا۔

اس نے کہا:

“شاباش! یہی تمہاری اصل دولت ہے۔ یہ پانچ روپے تمہارے ہیں، اپنی ماں کو بھیج دو۔ اور آج سے تمہیں تمہاری سچائی اور محنت کے انعام میں ہر ماہ ایک روپیہ اضافی بھی ملے گا۔”

لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر اپنی ماں کے لیے دعا کی۔

سبق:
ماں کی خدمت اور سچائی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ انسان نیکی کا صلہ فوراً نہ دیکھ سکے، مگر اللہ کے ہاں کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی۔

Leave a Reply

NZ's Corner