مصیبت کا ذمہ دار

مصیبت کا ذمہ دار

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چند آدمی جنگل میں درخت کاٹ رہے تھے کہ اچانک موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ سب نے قریب ہی ایک جھونپڑی میں پناہ لی اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگے۔

اسی دوران آسمانی بجلی چمکنے اور گرجنے لگی۔ بجلی کی گھن گرج سے جھونپڑی بھی لرزنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں بجلی کی شدت مزید بڑھ گئی تو تمام آدمیوں نے آپس میں مشورہ کیا۔

ایک شخص نے کہا، ’’لگتا ہے ہم میں سے کسی ایک پر بجلی گرنے والی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس ایک شخص کی وجہ سے ہم سب مارے جائیں۔ کیوں نہ ہم ایک ایک کرکے باہر جائیں؟ جس پر بجلی گرنی ہوگی، گر جائے گی اور باقی لوگ محفوظ رہیں گے۔‘‘

سب نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور باری باری باہر جانے لگے۔ ہر شخص کچھ دیر باہر رہ کر واپس آ جاتا۔ آخر میں صرف ایک آدمی باقی رہ گیا۔ اب سب کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔ سب کو یقین ہو چکا تھا کہ یہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے بجلی بار بار جھونپڑی کے اوپر چمک رہی ہے۔

بالآخر سب نے مل کر اسے اٹھایا اور جھونپڑی سے باہر پھینک دیا۔

ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ آسمانی بجلی زور سے کڑکی اور سیدھی جھونپڑی پر آ گری۔ جھونپڑی سمیت اندر موجود تمام آدمی جل کر راکھ ہو گئے۔

یہ منظر دیکھ کر باہر موجود شخص کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا۔

حقیقت یہ تھی کہ اس آخری شخص کی موجودگی ہی کی وجہ سے باقی تمام لوگ اب تک محفوظ تھے، لیکن انہوں نے اسے منحوس اور اپنی مصیبت کی وجہ سمجھ کر باہر نکال دیا۔ یوں جس شخص کو وہ اپنی تباہی کا سبب سمجھ رہے تھے، دراصل وہی ان کی حفاظت کا ذریعہ تھا۔

سبق:

اکثر زندگی میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو اپنی پریشانیوں اور مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے رہتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔

بعض اوقات ہم کسی شخص کو اپنے لیے مصیبت سمجھ رہے ہوتے ہیں، حالانکہ ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اسی کی وجہ سے ہم کتنی بڑی آزمائش یا نقصان سے محفوظ ہیں۔

لہٰذا کسی کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے سوچ لیا کریں، کیونکہ ضروری نہیں کہ جو شخص ہمیں اپنی مشکلات کی وجہ دکھائی دے، حقیقت میں بھی وہی ان کا سبب ہو۔

بعض اوقات جسے ہم اپنی بدقسمتی سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہی درحقیقت ہماری حفاظت کا وسیلہ ہوتا ہے

Leave a Reply

NZ's Corner