وہ زمانہ
جب زمین پر اندھیروں کا راج تھا،
اور آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہیں کم ہو چکی تھیں
مگر انہی اندھیروں میں ایک چراغ تھا
حضرت ابراہیم علیہ السلام۔
وہ صرف ایک نبی نہیں تھے،
وہ تلاش تھے
وہ سوال تھے
وہ یقین تک پہنچنے کا سفر تھے۔
شام کا وقت تھا
سورج سمندر کے کنارے ڈوب رہا تھا
لہریں آہستہ آہستہ ساحل کو چھو رہی تھیں
حضرت ابراہیمؑ تنہا کھڑے تھے
خاموش
سوچ میں ڈوبے ہوئے
ان کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی
ایک مردہ جسم
جسے مچھلیاں کھا رہی تھیں
پھر پرندے آئے
پھر درندے
ایک ہی جسم کے ٹکڑے
مختلف مخلوقات کے پیٹ میں جا رہے تھے
یہ منظر عام انسان کو شاید نظرانداز کر دیتا
لیکن ایک نبی کی نگاہ میں یہ سوال بن گیا۔
ایک سوال، جو ایمان کے اندر سے اٹھا
حضرت ابراہیمؑ کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوئی
یہ شک نہیں تھا
یہ انکار نہیں تھا
یہ صرف ایک خواہش تھی
“میں دیکھنا چاہتا ہوں”
انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا:
“اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں ؟”
یہ سوال علم کا نہیں تھا
یہ دل کے سکون کا سوال تھا
اللہ ث نے فرمایا:
“کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟”
کتنا گہرا سوال تھا یہ
جیسے کوئی کہہ رہا ہو:
“کیا تمہیں ابھی بھی یقین نہیں؟”
حضرت ابراہیمؑ نے عرض کیا:
“یقین تو ہے
مگر دل کا اطمینان چاہتا ہوں”
یہ جملہ انسان کی فطرت کی سب سے سچی تصویر ہے
ہم مانتے ہیں
مگر دیکھنا بھی چاہتے ہیں
ہم یقین رکھتے ہیں
مگر دل کو سکون بھی چاہیے ہوتا ہے
پھر اللہ نے ایک ایسا حکم دیا
جو بظاہر عجیب تھا، مگر اپنے اندر پوری کائنات کا راز لیے ہوئے تھا:
“چار پرندے لو”
سوچیں
ایک نبی
اور ایک غیر معمولی تجربہ
حضرت ابراہیمؑ نے چار پرندے لیے
(روایات میں مختلف نام آتے ہیں: مور، کبوتر، مرغ، کوا)
انہوں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا
پھر ان کے پر الگ کیے
گوشت کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا
اور سب کو آپس میں ملا دیا۔
پھر حکم ہوا:
“ان کے ٹکڑے مختلف پہاڑوں پر رکھ دو”
حضرت ابراہیمؑ نے ایسا ہی کیا
ہر پہاڑ پر زندگی کے بکھرے ہوئے ٹکڑے
ہر جگہ ایک نامکمل وجود
پھر فرمایا گیا:
“اب انہیں آواز دو”
حضرت ابراہیمؑ نے پکارا
ایک آواز
جو صرف الفاظ نہیں تھی
وہ یقین تھی
وہ حکمِ الٰہی کا حصہ تھی
اور پھر
کائنات نے وہ منظر دیکھا
جو عقل سے باہر تھا۔
ٹکڑے حرکت کرنے لگے
گوشت اپنی جگہ تلاش کرنے لگا
پر اپنے جسموں کی طرف اڑنے لگے
ہر حصہ
اپنے اصل کی طرف لوٹنے لگا
پہاڑوں پر بکھری ہوئی زندگی
آہستہ آہستہ جمع ہونے لگی۔
اور پھر
وہ پرندے
دوڑتے ہوئے
اپنے سروں سے جا ملے
زندہ ہو گئے
اور آسمان کی طرف اڑ گئے
حضرت ابراہیمؑ کھڑے تھے
خاموش
آنکھوں میں حیرت نہیں تھی
کیونکہ وہ پہلے ہی یقین رکھتے تھے
لیکن اب
دل مطمئن تھا۔
اخلاقی سبق (گہری وضاحت کے ساتھ)
یہ واقعہ صرف ایک معجزہ نہیں
یہ انسان کے اندر چلنے والے سب سے بڑے سفر کی کہانی ہے
1. ایمان اور اطمینان میں فرق
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ایمان کافی ہے
مگر حقیقت یہ ہے:
ایمان ماننے کا نام ہے
اطمینان محسوس کرنے کا نام ہے
حضرت ابراہیمؑ مومن تھے
مگر پھر بھی انہوں نے کہا:
“دل کو سکون چاہیے”
یہ کمزوری نہیں
یہ انسانیت ہے
2. سوال کرنا گناہ نہیں، نیت اہم ہے
آج بہت لوگ سوال سے ڈرتے ہیں
یا سوال کرنے والوں کو غلط سمجھتے ہیں
مگر یہاں ایک نبی سوال کر رہا ہے
فرق صرف یہ ہے:
سوال شک سے نہ ہو
سوال سچ کی تلاش میں ہو
3. اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں
ہم موت کو اختتام سمجھتے ہیں
اللہ کے لیے یہ صرف ایک مرحلہ ہے
بکھرے ہوئے جسم
مختلف جگہوں پر موجود اجزاء
سب دوبارہ جڑ گئے
یہی قیامت کا تصور ہے
4. جو بکھر جائے، وہ ختم نہیں ہوتا
زندگی میں بھی:
خواب ٹوٹتے ہیں
تعلق بکھرتے ہیں
امیدیں ختم ہوتی ہیں
مگر یہ انجام نہیں ہوتا
اللہ چاہے تو بکھرا ہوا بھی دوبارہ جڑ سکتا ہے
5. اللہ دلوں کو بھی زندہ کرتا ہے
یہ صرف جسموں کی زندگی نہیں تھی
یہ دل کی زندگی بھی تھی
جیسے مردہ جسم زندہ ہوا
ویسے ہی مردہ دل بھی زندہ ہو سکتا ہے
