جنگل میں اس سال بارشیں وقت پر ہوئیں، تالاب لبالب بھر گئے اور درختوں پر پھل اس کثرت سے لگے کہ بادشاہ شیر نے اپنی خوشی میں شاہی دعوت کا اعلان کر دیا۔ حکم ہوا کہ تمام بڑے وزیر، مشیر، امیر اور جنگل کے معزز جانور محل میں جمع ہوں؛ کھانے پینے کا انتظام شاہی خزانے سے ہوگا اور مہمانوں کی خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ رہنے دی جائے گی۔ دعوت کے دن محل کے وسیع ہال میں رنگ برنگے قالین بچھائے گئے، دسترخوان سجائے گئے اور بڑے بڑے پنکھے چلا دیے گئے۔ شیر اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا، وزیر اپنے مرتبے کے مطابق نشستوں پر بیٹھے تھے اور ہر طرف خوش گپیوں کا شور تھا۔ انہی مہمانوں میں ایک لومڑی بھی تھی۔ اس کی کھال سردی کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی حساس تھی۔ پنکھوں کی ہوا جب اس کے جسم سے ٹکراتی تو وہ کبھی اپنی دم لپیٹتی، کبھی اگلے پنجے سمیٹتی اور کبھی گردن کو کندھوں میں چھپا لیتی۔ پہلے اس نے خیال کیا کہ شاید کچھ دیر میں پنکھے بند ہو جائیں گے، مگر جب کھانا آنے کے بعد بھی ان کی رفتار کم نہ ہوئی تو اس کے لیے وہاں بیٹھنا دشوار ہو گیا۔ اس کا دل چاہا کہ اٹھ کر کسی ملازم سے کہہ دے کہ پنکھا بند کر دو، مگر پھر اسے خیال آیا کہ اگر باقی مہمانوں کو گرمی لگ رہی ہو تو؟ اور اگر بادشاہ نے پوچھ لیا کہ آخر پنکھے بند کرنے کی ضرورت کیا ہے تو وہ کیا جواب دے گی؟ وہ جانتی تھی کہ محض اپنی تکلیف کا ذکر کرے گی تو شاید کوئی توجہ نہ دے؛ اسے کوئی ایسی بات کہنا ہوگی جس سے بادشاہ کو بھی اپنی بھلائی نظر آئے اور اس کی خواہش بھی پوری ہو جائے۔ لومڑی نے ایک نگاہ پنکھوں پر ڈالی، پھر تخت پر بیٹھے شیر کو دیکھا۔ اور آہستہ سے اٹھی، بادشاہ کے قریب پہنچی اور ادب سے سر جھکا کر اس کے کان میں بولی، ’’حضور، ایک بات عرض کرنی تھی، مگر ڈرتی ہوں کہ کہیں گستاخی نہ سمجھی جائے۔‘‘ شیر نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’بلا جھجک کہو، لومڑی!‘‘ لومڑی نے پہلے ہال میں بیٹھے جانوروں پر نظر دوڑائی، پھر نہایت سنجیدگی سے بولی، ’’حضور، آپ اس جنگل کے بادشاہ ہی نہیں، سب کے لیے زندگی گزارنے نمونہ بھی ہیں۔ آپ کے عمل کو دیکھ کر رعایا سیکھتی ہے کہ اسے کیسے رہنا ہے، کیسے خرچ کرنا ہے اور اپنی ذمہ داریاں کیسے نبھانی ہیں۔‘‘ شیر نے فخر سے گردن اٹھائی۔ لومڑی نے بات آگے بڑھائی، ’’اب ذرا ان پنکھوں ہی کو دیکھیے۔ شاہی محل میں اتنے پنکھے چل رہے ہیں، بجلی خرچ ہو رہی ہے اور خزانے سے رقم نکل رہی ہے۔ آج آپ کی دعوت ہے، اس لیے کسی نے کچھ نہیں کہا؛ مگر کل اگر دوسرے امیر جانور بھی اپنے گھروں میں آپ کی دیکھا دیکھی اسی طرح پنکھے چلانے لگے، محفلیں سجانے لگے اور شاہی انداز اپنانے لگے تو خزانے پر بھی بوجھ پڑے گا اور رعایا میں بھی یہ تاثر جائے گا کہ بادشاہ فضول خرچی کو پسند کرتا ہے۔‘‘ شیر نے پنکھوں کی طرف دیکھا۔ لومڑی نے فوراً موقع پہچان لیا۔ ’’حضور، آپ تو اکثر فرماتے ہیں کہ خزانہ رعایا کی امانت ہے اور اس کا ہر سکہ سوچ سمجھ کر خرچ ہونا چاہیے۔ بات صرف الفاظ کی نہیں، عمل کی ہے۔ اگر ہم خود بے دریغ خرچ کریں اور رعایا کو کفایت شعاری کا درس دیں تو ہمارے الفاظ میں وہ اثر کہاں رہے گا جو ہمارے عمل میں ہونا چاہیے؟ لوگ ہماری تقریریں بھول سکتے ہیں، مگر ہمارے طرزِ زندگی کو دیکھ کر ضرور سیکھتے ہیں۔‘‘ شیر چند لمحے خاموش رہا، پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’واہ لومڑی! تم نے تو بڑی حکمت کی بات کہی۔ ہم رعایا کو کفایت شعاری کا درس دیتے ہیں، مگر ہمیں خود بھی اس پر عمل کرنا چاہیے۔‘‘ اس نے فوراً ملازموں کو حکم دیا کہ پنکھے بند کر دیے جائیں۔ چند ہی لمحوں میں ہال کی ہوا ساکن ہو گئی۔ لومڑی نے اپنی دم کھولی، سکون کا سانس لیا اور اپنی جگہ واپس آ بیٹھی۔ اس کے چہرے پر ایسی سنجیدگی تھی جیسے ابھی ابھی اس نے جنگل کے خزانے کو کسی بڑی تباہی سے بچا لیا ہو۔ البتہ باقی جانوروں کو کچھ دیر بعد گرمی محسوس ہونے لگی، مگر کسی میں یہ پوچھنے کی جرأت نہ ہوئی کہ اگر پنکھے واقعی فضول خرچی تھے تو دعوت کے آغاز ہی میں کیوں چلائے گئے تھے۔ شیر بھی اپنی دانائی پر خوش تھا۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس نے ایک دانش مندانہ فیصلہ کیا ہے، اور لومڑی کو اس بات کی خوشی تھی کہ اس کی تکلیف بھی دور ہو گئی اور بادشاہ کی نگاہ میں اس کی حکمت کا چرچا بھی ہو گیا۔
حاصلِ سبق:
بعض مکار لوگ اپنے ذاتی مفاد کو دوسروں کی بھلائی کا لباس پہنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی زبان پر قومی خزانہ، عوامی مفاد اور اصولوں کی حفاظت ہوتی ہے، مگر دل میں اپنا فائدہ چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کی بات سے متاثر ہونے سے پہلے یہ بھی دیکھیے کہ وہ جو اصول دوسروں کو سمجھا رہا ہے، خود اس پر کتنا عمل کرتا ہے اور اس اصول کے نافذ ہونے سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔ کیونکہ مفاد پرستی جب حکمت کا لباس پہن لے تو فریب بھی دانائی دکھائی دینے لگتا ہے۔


