ایک سرسبز تالاب کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔ وہ عام مینڈکوں جیسا نہ تھا۔ باقی مینڈک کیچڑ میں خوش رہتے، مکھیاں پکڑتے اور شام کو ٹرٹر کی محفل جماتے تھے، مگر اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔
اس کی ایک ہی خواہش تھی:
“کاش میں بھی پرندوں کی طرح آسمان پر اڑ سکتا!”
ہر صبح وہ گردن اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھتا اور حسرت سے سوچتا:
“یہ بطخیں بھی کیا قسمت والی ہیں! کبھی جھیل پر، کبھی کھیتوں پر، کبھی بادلوں کے درمیان۔ اور ایک میں ہوں کہ ساری عمر اسی تالاب کے کنارے ٹرٹر کرتا رہوں!”
ایک دن اس نے بطخوں کا ایک غول آسمان میں اڑتے دیکھا۔
اس کا دل مچل اٹھا۔
وہ اچھلتا کودتا ان کے پاس پہنچا اور بولا:
“محترم بطخ بہنو! مجھے بھی اڑنا سکھا دیجیے۔”
بطخوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر ہنس پڑیں۔
ایک بطخ بولی:
“بھئی، اڑنے کے لیے پر بھی تو چاہیے ہوتے ہیں!”
مینڈک نے فوراً جواب دیا:
“پر نہ سہی، عقل تو ہے!”
بطخوں نے حیرت سے پوچھا:
“وہ کیسے؟”
مینڈک نے فاتحانہ انداز میں سینہ پھلایا اور بولا:
“تم دونوں ایک مضبوط لاٹھی کو اپنے اپنے منہ میں پکڑ لو۔ میں درمیان سے لاٹھی کو دانتوں سے پکڑ لوں گا۔ پھر تم اڑنا، اور میں بھی ہوا کی سیر کروں گا!”
بطخوں نے ماتھا پکڑ لیا۔
“یہ ترکیب خطرناک ہے۔”
“اگر تم نے منہ کھولا تو سیدھے زمین پر آ گر و گے!”
مگر مینڈک اپنی ذہانت پر اس قدر فریفتہ تھا کہ کسی نصیحت کو خاطر میں نہ لایا۔
آخرکار بطخوں نے کہا:
“چلو، ایک بار آزما لیتے ہیں۔”
چنانچہ ایک مضبوط لاٹھی لائی گئی۔
دونوں بطخوں نے سروں سے پکڑی، مینڈک نے درمیان سے دانت گاڑ دیے، اور پھر…
پھڑ پھڑ پھڑ!
بطخیں آسمان کی طرف بلند ہونے لگیں۔
پہلے درختوں کی چوٹیوں سے اوپر۔
پھر کھیتوں کے اوپر۔
پھر جھیلوں اور پہاڑیوں کے اوپر۔
مینڈک کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
وہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا:
“واہ! آج تو میں بھی آسمان کا بادشاہ ہوں!”
نیچے لوگ حیرت سے اس عجیب منظر کو دیکھ رہے تھے۔
کسی نے کہا:
“ارے! یہ کیا ماجرا ہے؟”
کسی نے کہا:
“مینڈک اڑ رہا ہے!”
کسی نے آنکھیں مل کر دوبارہ دیکھا۔
آخر ایک کسان نے یہ انوکھا تماشا دیکھا تو بے اختیار تالیاں بجانے لگا اور بلند آواز میں بولا:
“سبحان اللہ! یہ زبردست ترکیب کس ذہین آدمی نے سوچی ہوگی؟”
یہ سن کر مینڈک کا سینہ فخر سے دوگنا ہو گیا۔
اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
دل نے کہا:
“اب اگر میں خاموش رہا تو دنیا میری ذہانت سے ناواقف رہ جائے گی!”
وہ فوراً جواب دینا چاہتا تھا:
“میں نے! یہ ترکیب میری—”
مگر “میں نے” کا “میں” بھی پورا نہ ہوا تھا کہ اس کا منہ کھل گیا۔
اور جیسے ہی دانت لاٹھی سے چھوٹے…
وہ ہوا میں ایک لمحہ معلق رہا۔
پھر…
نیچے۔
اور نیچے۔
اور مزید نیچے۔
پھٹاک!
وہ سیدھا زمین پر آ گرا۔
بطخوں نے افسوس سے سر ہلایا۔
کسان نے آہ بھری۔
اور ہوا میں اڑتی لاٹھی گویا خاموشی سے کہہ رہی تھی:
“کاش، تم نے اپنی عقل کا اتنا ہی استعمال کیا ہوتا جتنا اپنی زبان کا!”
سبق
کامیابی حاصل کرنا مشکل ضرور ہے، مگر اسے برقرار رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
بہت سی اچھی تدبیریں، محض وقتِ بے وقت بولنے کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں۔
ہر تعریف کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، اور بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بڑی دانش مندی ہوتی ہے۔
اور جیسا کہ اس مینڈک نے ثابت کر دیا:
کبھی کبھی انسان اپنی بلندی سے دشمن کی وجہ سے نہیں، اپنی شیخی کی وجہ سے گرتا ہے۔
“زبان اگر عقل سے آگے دوڑے تو انسان آسمان سے بھی زمین پر آ گرتا ہے۔”
