برصغیر کی ریاست بہاولپور میں ایک زمانہ تھا جب ریاستوں کے فیصلے شاہی درباروں میں ہوتے، بڑے بڑے جاگیردار اپنی زمینوں پر فخر کرتے، نواب اپنی شان و شوکت کے قصے سناتے اور مہاراجے اپنے خزانوں کی چمک سے دنیا کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی زمانے میں بہاولپور میں ایک ایسا تاجر رہتا تھا جس کی دولت کے چرچے صرف مقامی بازاروں تک محدود نہ تھے، بلکہ دور دراز ریاستوں کے ایوانوں میں بھی اس کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ اس کے دروازے پر کبھی کسی ریاست کا دیوان قرض کی درخواست لیے کھڑا ہوتا، کبھی کوئی نواب اپنی جاگیر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس سے مدد مانگتا اور کبھی کسی راجے کا ایلچی شاہی مہر لگی چٹھی لیے حاضر ہوتا۔ اس کے پاس سونے چاندی کے ذخیرے تھے، وسیع کاروبار تھا، دور دراز شہروں میں اس کے کارندے تھے اور ایسے تجارتی تعلقات تھے جن تک پہنچنا ہر تاجر کے بس کی بات نہ تھی۔ مگر اس شخص کی سب سے حیران کن بات اس کی دولت نہیں تھی؛ حیرت اس بات پر ہوتی تھی کہ اتنی دولت، اتنی شہرت اور اتنے بااثر لوگوں سے تعلق رکھنے کے باوجود اس کی زبان میں غرور نہ تھا، اس کے لہجے میں تلخی نہ تھی اور اس کے دروازے سے کوئی شخص اپنی عزت گنوا کر واپس نہ جاتا تھا۔
لوگ اس کی دولت کے قصے تو سناتے تھے، مگر بہت کم لوگ اس کے کردار کی حقیقت جانتے تھے۔ بعض اسے قسمت کا دھنی کہتے، بعض اس کی کاروباری سمجھ بوجھ کو غیرمعمولی قرار دیتے اور کچھ لوگ یہ خیال کرتے کہ اتنے بڑے لوگوں سے تعلقات ہی اس کی کامیابی کا اصل سبب ہیں۔ مگر اس تاجر کے دل میں اپنی کامیابی کا ایک ایسا راز محفوظ تھا جسے وہ کسی محفل میں بیان نہیں کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دولت کا انبار انسان کو بڑا تو دکھا سکتا ہے، مگر لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں دلا سکتا۔ دلوں میں جگہ بنانے کے لیے ایک ایسی دولت درکار ہوتی ہے جسے نہ چور چرا سکتا ہے، نہ وقت چھین سکتا ہے اور نہ بازار میں خریدا جا سکتا ہے۔
اس تاجر کا ایک بیٹا تھا۔ وہ ذہین تھا، اچھے لباس پہنتا تھا، عمدہ گھوڑوں پر سواری کرتا تھا اور بچپن ہی سے اپنے گھر میں نوکروں کی ایک جماعت کو ہر وقت خدمت کے لیے حاضر دیکھتا آیا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے گھر میں کبھی کسی چیز کی کمی نہ دیکھی تھی۔ دسترخوان پر عمدہ کھانے، اصطبل میں بہترین گھوڑے، صندوقوں میں قیمتی کپڑے اور گھر کے دروازے پر ایسے لوگوں کی آمدورفت رہتی جنہیں دیکھ کر کسی عام آدمی کے قدم خودبخود ٹھہر جاتے۔ مگر دولت کی چھاؤں میں پلنے والے اس نوجوان نے ابھی دنیا کی دھوپ نہیں دیکھی تھی۔ اسے معلوم نہ تھا کہ کسی شخص کا حکم مان لینا اور اس شخص کی عزت کرنا دو مختلف باتیں ہیں؛ پہلی چیز دولت، منصب اور اختیار سے حاصل ہو سکتی ہے، دوسری صرف کردار سے۔
ایک دن وہ اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ باہر سے ایک شاہی ایلچی آیا، اس نے ادب سے سلام کیا اور ایک ریاست کے حاکم کی طرف سے قرض کی درخواست پیش کی۔ تاجر نے خط پڑھا، چند سوالات کیے، حساب دیکھا اور نہایت اطمینان سے جواب بھجوا دیا۔ نوجوان یہ سب دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد جب ایلچی رخصت ہو گیا تو اس نے اپنے باپ سے پوچھا، ’’ابا حضور! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ برصغیر میں بڑے بڑے تاجر موجود ہیں، بعض کے پاس آپ سے زیادہ زمینیں بھی ہوں گی، دولت بھی ہو گی، مگر نوابوں، راجاؤں اور مہاراجاؤں کو آپ ہی کا خیال کیوں آتا ہے؟ آخر آپ کے اندر ایسی کون سی خاص بات ہے کہ اتنے بڑے بڑے لوگ آپ سے قرض لیتے ہیں، آپ کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں اور آپ کی بات پر اعتماد کرتے ہیں؟‘‘
تاجر نے بیٹے کو غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی، جیسے وہ اس سوال کا جواب جانتا ہو، مگر ابھی اسے زبان پر لانا مناسب نہ سمجھتا ہو۔ اس نے کہا، ’’بیٹا! کچھ باتیں کتابوں سے سیکھی جا سکتی ہیں، کچھ دوسروں کے تجربات سے اور کچھ زندگی انسان کو خود سکھاتی ہے۔ تمہارا سوال اچھا ہے، مگر اس کا جواب ابھی تمہارے لیے محض الفاظ ہو گا۔ وقت آنے دو، تم خود سمجھ جاؤ گے۔‘‘ نوجوان کو یہ جواب کچھ خاص پسند نہ آیا۔ اسے امید تھی کہ باپ کوئی کاروباری راز بتائے گا، کسی خاص تدبیر کا ذکر کرے گا یا دولت بڑھانے کا کوئی ایسا طریقہ سمجھائے گا جو دوسروں کو معلوم نہ ہو۔ مگر وہ خاموش ہو گیا۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے سوال کا جواب اس کے اپنے کردار کے امتحان میں چھپا بیٹھا ہے۔
چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک صبح گھر میں معمولی سی بات پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا۔ ایک ملازم نے نوجوان کے سامنے پانی کا پیالہ رکھا۔ نوجوان نے ایک گھونٹ لیا تو پانی کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ اس نے پیالہ ایک طرف رکھا اور ملازم کو ایسی سخت باتیں سنائیں کہ بیچارہ سر جھکائے کھڑا رہ گیا۔ تاجر نے یہ منظر دیکھا تو اس کے دل میں ایک چبھن سی اٹھی۔ اسے اپنے بیٹے کی ناراضی سے زیادہ اس کی زبان کی تلخی نے پریشان کیا۔ اس نے کبھی اسے یہ نہیں سکھایا تھا کہ کسی کی غربت اس کی عزت کم کر دیتی ہے، یا کسی کا ملازم ہونا اسے گالی سننے کا حق دار بنا دیتا ہے۔ لیکن جوانی کا غرور اکثر انسان کو یہ دھوکا دیتا ہے کہ اس کے پاس جو اختیار ہے، وہی اس کا حق بھی ہے۔
تاجر نے اس وقت بیٹے کو کچھ نہ کہا۔ وہ جانتا تھا کہ بعض نصیحتیں زبان سے ادا کی جائیں تو کانوں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں، مگر جب زندگی خود ان کی گواہی دیتی ہے تو وہ دل میں اتر جاتی ہیں۔ اس نے خاموشی اختیار کر لی، لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک فکر مسلسل سر اٹھاتی رہی۔ یہ نوجوان اس کی اولاد تھا، اس کے کاروبار کا وارث تھا، اس کی برسوں کی محنت کا مستقبل تھا۔ ایک طرف اسے یہ خیال ستاتا کہ اگر بیٹا اسی طرح لوگوں سے پیش آتا رہا تو اس کی قائم کی ہوئی ساکھ مٹی میں مل سکتی ہے؛ دوسری طرف اسے اس سے بھی بڑا اندیشہ تھا کہ کہیں دولت کی کثرت اس کے بیٹے سے انسانیت کی وہ دولت نہ چھین لے جس کے بغیر باقی تمام دولت بے معنی ہو جاتی ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا صرف ایک امیر تاجر کا وارث نہ بنے، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر پہچانا جائے جس کے پاس بیٹھ کر لوگوں کو عزت محسوس ہو۔
چند روز بعد اسی فکر نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس کا نوجوان کو گمان تک نہ تھا۔ ایک صبح وہ نماز اور ناشتے کے بعد پانی پینے بیٹھا۔ ملازم نے حسبِ معمول پیالہ سامنے رکھ دیا۔ نوجوان نے پہلا گھونٹ لیا، پھر دوسرا، اور اچانک اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اس نے پیالہ دور کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پانی کس کنویں سے لائے ہو؟‘‘ ملازم نے ادب سے جواب دیا، ’’حضور، گھر کے قریب والے کنویں سے۔‘‘ نوجوان نے فوراً کہا، ’’تمہیں کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ اس کنویں کا پانی کڑوا ہے! کیا تم لوگوں کے کانوں میں بات نہیں پڑتی؟ میں نے کہا تھا کہ دور والے کنویں سے پانی لایا کرو، وہاں کا پانی میٹھا ہے۔ پھر وہی پرانی حرکت‘‘
اس کی آواز بلند ہوتی گئی۔ ملازم نے وضاحت کرنے کی کوشش کی، مگر نوجوان نے اسے بولنے کا موقع نہ دیا۔ آخر ملازم نے سر جھکا لیا اور خاموش کھڑا رہا۔
اتفاق سے تاجر بھی وہیں آ پہنچا۔ اس نے بیٹے کی آواز سنی، ملازم کا جھکا ہوا سر دیکھا اور پھر پیالے کی طرف نظر ڈالی۔ نوجوان باپ کو دیکھ کر گویا اپنی شکایت کو مضبوط سہارا ملنے کی امید میں بولا، ’’ابا حضور! میں اس ملازم کو بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس کنویں کا پانی کڑوا ہے۔ اسے سمجھ ہی نہیں آتی کہ گھر کے لیے اچھا پانی لانا چاہیے۔‘‘
تاجر نے پہلے ملازم کی طرف دیکھا، پھر بیٹے سے کہا، ’’اسے میں نے اسی کنویں سے پانی لانے کی تنخواہ دیتا ہو۔ گھر کے دوسرے لوگوں کو اس پانی سے کوئی شکایت نہیں۔ اگر تمہیں اس کنویں کا پانی پسند نہیں تو اپنا پانی خود لے آیا کرو۔‘‘
نوجوان کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اچانک اس کے سامنے ایک ایسا دروازہ بند کر دیا ہو جسے وہ ہمیشہ کھلا سمجھتا آیا تھا۔ اسے توقع تھی کہ باپ ملازم کو ڈانٹے گا، اسے پانی بدلنے کا حکم دے گا اور اس کی شکایت کو درست تسلیم کرے گا۔ مگر یہاں معاملہ الٹ ہو گیا تھا۔ اس کے باپ نے نہ صرف ملازم کو قصوروار نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کے سامنے ایک ایسی بات کہہ دی جسے وہ اپنی توہین سمجھ رہا تھا۔ وہ کچھ لمحے باپ کا چہرہ دیکھتا رہا۔ اس کے لب ہلے، مگر الفاظ نہ نکل سکے۔ آخر اس نے پیالے کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے اٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔
اگلی دن نوجوان ہمیشہ کی طرح سورج نکلنے کے بعد اٹھا اور اصطبل میں پہنچا۔ اس نے اپنے گھوڑے پر زین کسی، پانی کے لیے ایک بڑا برتن لیا اور گھر کے قریب والے کنویں کے بجائے دور واقع میٹھے پانی کے کنویں کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کے دل میں باپ کے الفاظ ابھی تک چبھ رہے تھے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ کسی کا محتاج نہیں، اپنا کام خود کر سکتا ہے اور اپنے لیے بہتر پانی خود لا سکتا ہے۔
لیکن جب وہ کنویں کے قریب پہنچا تو اس کی ساری خود اعتمادی ایک حیرت میں بدل گئی۔
وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔
کسی کے کندھے پر مشک تھی، کسی کے ہاتھ میں مٹکا، کوئی بیل گاڑی پر خالی برتن لایا تھا اور کوئی گھوڑے پر پانی لادنے کی تیاری کر رہا تھا۔ دور دراز دیہات کے لوگ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے۔ چند افراد کے لباس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ عام کسان نہیں بلکہ کسی بڑے گھرانے کے ملازم ہیں۔ کچھ لوگ اپنی باری جلد آنے کی امید میں آگے پیچھے ہوتے، پھر دوسروں کی باری کا خیال کر کے خاموشی سے اپنی جگہ کھڑے ہو جاتے۔ کنویں کے گرد ایسی چہل پہل تھی جیسے کسی بازار میں میلے کا سماں ہو۔
نوجوان نے ایک شخص سے پوچھا، ’’بھائی، یہاں اتنا رش کیوں ہے؟ کیا آس پاس پانی کی کمی ہو گئی ہے؟‘‘
اس شخص نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا، ’’تم شاید پہلی مرتبہ آئے ہو؟‘‘
نوجوان نے جواب دیا، ’’ہاں، پہلی مرتبہ۔‘‘
وہ شخص مسکرایا۔ ’’پانی کی کمی نہیں، مگر ایسا پانی ہر جگہ کہاں ملتا ہے؟ اس کنویں کا پانی میٹھا ہے۔ یہاں سے آس پاس کے دیہات ہی نہیں، دور کی ریاستوں کے لوگ بھی پانی لے جاتے ہیں۔‘‘
نوجوان نے کہا، ’’لیکن آس پاس اور بھی کنویں ہوں گے۔ لوگ وہاں سے پانی کیوں نہیں لیتے؟‘‘
اس شخص نے کندھے اچکائے، جیسے اس سوال کا جواب اتنا واضح ہو کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو۔ ’’بیٹا، پانی تو ہر کنویں میں ہوتا ہے، مگر ہر پانی پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ گھر کے قریب کڑوا پانی بھی مل جائے تو آدمی اسے چھوڑ دیتا ہے، اور میٹھا پانی دور ہو تو اس کے لیے سفر بھی کرتا ہے اور انتظار بھی۔‘‘
یہ بات نوجوان کے دل میں کہیں اتر گئی، مگر اس وقت اسے ابھی معلوم نہ تھا کہ یہی چند الفاظ اس کی زندگی کا رخ بدلنے والے ہیں۔
وہ برتن لیے اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ پہلے اسے خیال آیا کہ شاید چند لمحوں میں پانی مل جائے گا، مگر وقت گزرتا گیا۔ لوگ آتے رہے، پانی بھرتے رہے اور اپنی باری کے مطابق واپس جاتے رہے۔ سورج بلند ہو گیا۔ نوجوان کبھی اپنے گھوڑے کو دیکھتا، کبھی خالی برتن کو اور کبھی ان لوگوں کو جو اس سے پہلے آئے تھے، مگر ابھی تک اپنی باری کے منتظر تھے۔ ایک موقع پر اس کے جی میں آیا کہ واپس چلا جائے، مگر پھر اسے باپ کے الفاظ یاد آ گئے: ’’اگر تمہیں پانی پسند نہیں تو اپنا پانی خود لے آیا کرو۔‘‘ اب واپس جانا اسے اپنی شکست محسوس ہوتا تھا۔ وہ وہیں کھڑا رہا۔
بالآخر دن کا اچھا بھلا حصہ گزرنے کے بعد اس کی باری آئی۔ اس نے برتن میں پانی بھروایا، پھر اپنے ہاتھوں سے ایک پیالہ بھر کر پیا۔ پانی واقعی میٹھا تھا۔ اس نے ایک اور گھونٹ لیا، پھر کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ اسے تعجب اس بات پر نہیں تھا کہ پانی میٹھا کیوں ہے؛ تعجب اس بات پر تھا کہ ایک کنویں کی مٹھاس نے اتنے سارے لوگوں کو اپنے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ ان لوگوں میں کوئی غریب تھا، کوئی امیر، کوئی عام کسان، کوئی کسی نواب کا ملازم اور کوئی شاید کسی ریاست کے شاہی محل سے آیا تھا۔ سب کی حیثیت الگ تھی، مگر پانی کے سامنے سب کی ضرورت ایک جیسی تھی۔
وہ برتن لے کر گھر لوٹا تو اس کے ذہن میں ایک نیا سوال جنم لے چکا تھا۔ اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ کسی چیز کی اصل قدر ہمیشہ اس کی قیمت سے طے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک معمولی سی چیز بھی اپنی خوبی کے باعث ایسی اہمیت اختیار کر لیتی ہے کہ لوگ اس کے لیے اپنا وقت، اپنی محنت اور اپنا آرام قربان کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
اگلی صبح وہ اندھیرے میں اٹھا۔ گھوڑے پر سوار ہوا اور کنویں کی طرف چل پڑا۔ اس بار اس کا مقصد صرف پانی لانا نہ تھا؛ وہ رش سے پہلے پہنچنا چاہتا تھا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ دیر سے پہنچنے کا مطلب طویل انتظار ہے۔ چند دن اسی طرح گزرے۔ اب اس کے لیے یہ معمول بن چکا تھا کہ وہ صبح سویرے اٹھے، گھوڑے پر سوار ہو اور میٹھے پانی کے کنویں سے پانی لے آئے۔ اس کی ناراضی آہستہ آہستہ کم ہونے لگی، لیکن باپ کے الفاظ کا مطلب ابھی تک اس کے سامنے مکمل طور پر واضح نہیں ہوا تھا۔
ایک صبح تاجر نے اسے گھوڑے پر سوار ہوتے دیکھا تو پوچھا، ’’بیٹا، تم روزانہ اتنی صبح کہاں چلے جاتے ہو؟‘‘
نوجوان نے لگام درست کی اور کچھ تلخی سے بولا، ’’ابا حضور، آپ نے ہی تو فرمایا تھا کہ اگر گھر کے قریب والے کنویں کا پانی پسند نہیں تو اپنا پانی خود لے آیا کرو۔ میں روزانہ دور والے کنویں سے پانی لانے جاتا ہوں۔ وہاں اتنا رش ہوتا ہے کہ کبھی کبھی آدھا دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔‘‘
تاجر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ پھر اس کے لبوں پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو اس دن تھی جب بیٹے نے پہلی مرتبہ اپنے باپ کے کاروبار کا راز پوچھا تھا۔ اس نے کہا، ’’تو پھر بیٹا، تم نے اس کنویں سے کچھ سیکھا بھی یا صرف پانی ہی لاتے رہے؟‘‘
نوجوان چونکا۔ ’’سیکھا؟‘‘
’’ہاں، سیکھا۔ تم روزانہ اتنی دور جاتے ہو، گھنٹوں انتظار کرتے ہو، پھر ایک برتن پانی لے کر واپس آتے ہو۔ آخر اس کنویں میں ایسی کیا بات ہے کہ تم اس کی خاطر اپنا آرام چھوڑنے پر تیار ہو؟‘‘
نوجوان نے فوراً جواب دیا، ’’ابا حضور، اس کا پانی میٹھا ہے۔‘‘ تاجر نے سر ہلایا۔ ’’بالکل! اس کا پانی میٹھا ہے۔ لیکن ذرا غور کرو، برصغیر میں پانی کے کتنے کنویں ہیں۔ تمہارے گھر کے قریب بھی ایک کنواں ہے۔ اس میں پانی موجود ہے، مگر تم اسے پینا پسند نہیں کرتے۔ اس کنویں کا پانی میٹھا ہے، اس لیے تم روزانہ میلوں کا سفر کرتے ہو۔ تم اکیلے نہیں ہو؛ تمہارے ساتھ سیکڑوں لوگ یہی کرتے ہیں۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ، دور دراز ریاستوں کے مسافر اور یہاں تک کہ وقت کا بادشاہ بھی اپنے محل کے لیے اسی کنویں سے پانی منگواتا ہے۔ کیا تم نے کبھی سوچا کہ بادشاہ کے پاس دولت کی کمی نہیں، اس کے حکم پر سیکڑوں ملازم حاضر ہو سکتے ہیں، اس کے لیے کہیں سے بھی پانی منگوایا جا سکتا ہے، پھر بھی وہ اسی کنویں کا پانی کیوں پسند کرتا ہے؟‘‘
نوجوان نے کچھ سوچ کر کہا، ’’کیونکہ اس کا پانی میٹھا ہے، ابا حضور۔‘‘ تاجر نے جواب دیا، ’’اور یہی وہ بات ہے جسے میں تمہیں سمجھانا چاہتا تھا۔ دنیا میں دولت مند لوگوں کی کمی نہیں، طاقتور لوگوں کی کمی نہیں، بڑے بڑے تاجروں کی بھی کمی نہیں۔ لیکن ہر شخص ایسا نہیں ہوتا جس کے ساتھ دوسرے لوگ اطمینان سے بیٹھ سکیں، جس کے وعدے پر بھروسا کر سکیں اور جس کے ہاتھ میں اپنا مال دے کر بے فکر ہو جائیں۔ میں نے بھی پچیس سال پہلے اسی کنویں سے ایک سبق سیکھا تھا۔ میں پہلی مرتبہ یہاں پر گیا تو لوگوں کا ہجوم دیکھ کر حیران رہ گیا۔ آدھا دن انتظار کرنے کے بعد جب میں نے پانی پیا تو مجھے اس کی مٹھاس نے صرف پیاس نہیں بجھائی، میرے اندر ایک خیال بھی جگا دیا۔ میں نے سوچا کہ اگر ایک کنواں اپنے پانی کی مٹھاس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا سکتا ہے تو انسان اپنے اخلاق کی مٹھاس سے لوگوں کے دلوں میں جگہ کیوں نہیں بنا سکتا؟‘‘
نوجوان اب پوری توجہ سے اپنے باپ کی بات سن رہا تھا۔
تاجر نے بات جاری رکھی، ’’اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے کاروبار کو صرف دولت کے سہارے نہیں چلاؤں گا، بلکہ اپنے کردار کو اس کی بنیاد بناؤں گا۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر کوئی شخص میرے پاس اپنی مجبوری لے کر آئے گا تو میں اس کی مجبوری کو اپنی طاقت نہیں بناؤں گا؛ اگر کوئی میرے ساتھ کاروبار کرے گا تو اسے میرے حساب پر شک نہ ہو گا؛ اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہو گا تو میں اس کی عزت کو اپنی انا کے نیچے نہیں کچلوں گا۔ میں نے کوشش کی کہ میری زبان سے کسی کا دل نہ دکھے، میرے معاملات میں کسی کا حق نہ مارا جائے اور میری دولت کسی کو ذلیل کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے زندگی میں کبھی غلطی نہیں کی، مگر میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری غلطی کسی دوسرے کی عزت اور حق کو پامال نہ کرے۔‘‘
وہ ذرا رکا، پھر بولا، ’’وقت گزرتا گیا۔ پہلے چند لوگ میرے پاس آئے، پھر ان کے ساتھ کاروبار کرنے والے آئے، پھر ان کے دوستوں اور تعلق داروں نے مجھ پر اعتماد کیا۔ بعض نوابوں نے مجھ سے قرض لیا، بعض راجاؤں نے کاروباری معاملات میرے سپرد کیے اور بعض تاجروں نے اپنے مال کے بڑے فیصلوں میں مجھ سے مشورہ مانگا۔ ان سب کے پاس دولت بھی تھی، اختیار بھی اور دوسرے لوگوں تک رسائی بھی، مگر انہیں میرے پاس آ کر ایک ایسی چیز ملتی تھی جس کی قیمت کسی خزانے میں نہیں لکھی جا سکتی تھی: اعتماد۔ انہیں معلوم تھا کہ میں ان کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جسے میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ آہستہ آہستہ میرا کاروبار بڑھتا گیا، مگر میں نے کبھی یہ نہ سمجھا کہ لوگ میری دولت کے اسیر ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ دولت نے میرے دروازے کو بڑا کیا تھا، مگر میرے اخلاق نے اس دروازے کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بنایا تھا۔‘‘
نوجوان نے دھیرے سے پوچھا، ’’تو کیا ابا حضور، صرف اچھے اخلاق ہی سے اتنا بڑا کاروبار قائم کیا جا سکتا ہے؟‘‘
تاجر نے جواب دیا، ’’اچھے اخلاق اکیلے ہر کاروبار کو کامیاب کرنے کی ضمانت نہیں، بیٹا۔ محنت، عقل، دیانت، وقت کی پابندی، صحیح فیصلے اور حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہیں۔ لیکن اگر ان سب کے ساتھ اخلاق نہ ہو تو انسان شاید کچھ دولت جمع کر لے، مگر لوگوں کے دلوں میں وہ مقام نہیں پا سکتا جس کی بنیاد اعتماد پر ہو۔ کاروبار میں لوگ تمہارا مال دیکھتے ہیں، تمہاری صلاحیت دیکھتے ہیں، مگر آخرکار تمہارے ساتھ اپنا مستقبل اس وقت جوڑتے ہیں جب انہیں یقین ہو جائے کہ تمہارے پاس ان کی عزت بھی محفوظ رہے گی۔‘‘
پھر اس نے اپنے بیٹے کو اس کی چند روز پہلے کی حرکت یاد دلائی۔ ’’تمہیں یاد ہے، تم نے ایک ملازم کو گالی دی تھی؟ تمہیں لگا ہو گا کہ وہ تمہارا ملازم ہے، اس لیے تمہیں اسے کچھ بھی کہنے کا حق ہے۔ مگر سوچو، اگر تم ایک ایسے شخص سے بدزبانی کرتے ہو جو تمہارے سامنے اپنی روزی کے لیے خاموش کھڑا ہے تو کل کوئی ایسا شخص بھی تمہارے سامنے آ سکتا ہے جو تمہاری دولت سے زیادہ دولت رکھتا ہو، تمہارے اختیار سے زیادہ اختیار رکھتا ہو۔ کیا تم اس کے سامنے بھی اسی طرح بات کرو گے؟ اور اگر نہیں کرو گے تو کیوں؟ کیا غریب انسان کی عزت، امیر انسان کی عزت سے کم ہوتی ہے؟ کیا ایک ملازم کا دل دکھانے سے تمہارے کردار پر کوئی فرق نہیں پڑتا؟‘‘
نوجوان کی نظریں جھک گئیں۔ وہ اس دن کی بات بھولنا چاہتا تھا، مگر اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کے باپ نے اس معمولی واقعے کو اتنی اہمیت کیوں دی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی گالی ایک لمحے کی ناراضی تھی، لیکن باپ کی نگاہ میں وہ اس کردار کی علامت تھی جو آنے والے وقت میں اس کے کاروبار، تعلقات اور پوری زندگی پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔
تاجر نے کہا، ’’بیٹا! گھر کے قریب والا کنواں اس لیے کڑوا نہیں کہ وہ لوگوں سے دور ہے؛ وہ گھر کے قریب ہے، پھر بھی لوگ اس سے دور رہتے ہیں۔ اور میٹھا کنواں اس لیے میٹھا نہیں کہ لوگ اس کے پاس جمع ہوتے ہیں؛ لوگ اس کے پاس جمع ہوتے ہیں کیونکہ اس کے پانی میں مٹھاس ہے۔ اسی طرح کسی انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ کتنے لوگ اس کے حکم پر حاضر ہو جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ اس کے پاس اپنی خوشی سے آنا چاہتے ہیں۔ خوف سے آنے والے لوگ موقع ملتے ہی دور ہو جاتے ہیں، ضرورت کے تحت آنے والے ضرورت پوری ہونے پر چلے جاتے ہیں، مگر اعتماد کے ساتھ آنے والے لوگ تعلق کو نبھاتے ہیں۔ تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ تم اپنی زندگی میں کیا بننا چاہتے ہو: ایسا شخص جس کے پاس لوگ مجبوری میں آئیں، یا ایسا شخص جس کے پاس لوگ اطمینان سے آئیں؟‘‘
اس دن نوجوان کے اندر جیسے کوئی بند گرہ کھل گئی۔ اسے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ اس کے باپ کی اصل امارت وہ رقم نہیں تھی جسے اس نے اپنی آنکھوں سے صندوقوں میں دیکھا تھا؛ اصل امارت وہ اعتبار تھا جسے اس کے باپ نے لوگوں کے دلوں میں برسوں کی محنت سے جمع کیا تھا۔ اسے یہ بھی سمجھ آ گیا کہ بدزبانی محض چند الفاظ کا نام نہیں؛ بعض اوقات یہ ان رشتوں میں دراڑ ڈال دیتی ہے جنہیں بنانے میں برسوں لگتے ہیں۔ ایک سخت جملہ کسی شخص کو وقتی طور پر خاموش تو کر سکتا ہے، مگر اس کے دل سے عزت حاصل نہیں کر سکتا۔ اور جو انسان اپنے سے کمزور کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتا، وہ دراصل اپنے کردار کی کمزوری ظاہر کرتا ہے، نہ کہ اپنی طاقت۔
اس نے باپ کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، ’’ابا حضور، اب مجھے آپ کی بات سمجھ آ گئی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ لوگ آپ کے پاس اس لیے آتے ہیں کہ آپ کے پاس دولت ہے، مگر آج معلوم ہوا کہ دولت کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ بنائی ہے۔ میں اب تک اپنے گھر کی قربت، اپنے اختیار اور اپنی حیثیت کو اپنی بڑائی سمجھتا رہا، لیکن اس میٹھے کنویں نے مجھے بتا دیا کہ اصل بڑائی وہ ہے جس کی طرف لوگ خود کھنچے چلے آئیں۔‘‘
تاجر نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’بس بیٹا، یہی بات یاد رکھنا۔ انسان کی زندگی میں بہت سے کنویں آتے ہیں۔ کچھ دولت کے ہوتے ہیں، کچھ طاقت کے، کچھ شہرت کے اور کچھ علم کے۔ مگر ان سب میں سب سے قیمتی کنواں انسان کا کردار ہے۔ اگر اس میں اخلاق کی مٹھاس ہو تو لوگ تمہارے پاس آئیں گے، تمہارے ساتھ بیٹھیں گے اور تم پر اعتماد کریں گے۔ اگر اس میں کڑواہٹ ہو تو تمہارے گھر کے دروازے پر پہرے دار کھڑے ہوں گے، خزانے بھرے ہوں گے اور حکم چلانے کے لیے لوگ بھی موجود ہوں گے، مگر دلوں تک پہنچنے کا راستہ بند ہو جائے گا۔‘‘
اس گفتگو کے بعد نوجوان کے اندر ایک تبدیلی آنے لگی۔ اس نے اپنے ملازمین سے بات کرنے کا انداز بدلا، اپنی غلطی پر معذرت کرنا سیکھا اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کسی شخص کا عہدہ اس کی عزت کا پیمانہ نہیں ہوتا۔ ابتدا میں اسے اپنے غصے پر قابو پانے میں دشواری ہوئی، کیونکہ عادتیں ایک دن میں نہیں بدلتیں؛ مگر جب بھی اس کی زبان سخت ہونے لگتی، اسے میٹھے کنویں کے سامنے کھڑا وہ ہجوم یاد آ جاتا، وہ لوگ یاد آ جاتے جو کئی گھنٹے انتظار کر کے بھی مایوس نہیں ہوتے تھے، اور وہ باپ یاد آ جاتا جس نے اسے کاروبار کا راز کسی کتاب سے نہیں بلکہ زندگی کے ایک سادہ منظر سے سمجھایا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ نوجوان نے اپنے باپ کے کاروبار کو سنبھالنا شروع کیا۔ اسے بھی بڑے بڑے لوگوں سے ملنے کے مواقع ملے، اسے بھی ایسے فیصلے کرنے پڑے جن میں دولت، مفاد اور دیانت کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تھا۔ مگر اب وہ جانتا تھا کہ کامیابی صرف اس بات کا نام نہیں کہ کتنے لوگ تم سے قرض لینے آتے ہیں؛ کامیابی یہ بھی ہے کہ قرض لے کر جانے والا شخص تمہارے بارے میں کیا سوچتا ہے، تمہارے ساتھ کاروبار کرنے والا تمہاری غیرموجودگی میں تمہارا نام کس انداز سے لیتا ہے، اور تمہارا ملازم تمہارے سامنے کھڑے ہوتے وقت خوف محسوس کرتا ہے یا عزت۔
برسوں بعد جب اس نوجوان نے خود ایک دن اپنے بیٹے کو کاروبار کے بارے میں سوال کرتے سنا تو اس کے چہرے پر ایک مانوس مسکراہٹ آ گئی۔ اسے اپنے باپ کی بات یاد آئی، وہ کڑوا کنواں یاد آیا جسے کوئی پسند نہیں کرتا تھا، اور وہ میٹھا کنواں بھی جس کے پانی کے لیے بادشاہ تک انتظار کرنے پر آمادہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو پاس بٹھایا اور کہا، ’’میں تمہیں دولت کمانے کے بہت سے طریقے سکھا سکتا ہوں، مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: اپنے کردار کو اتنا میٹھا رکھنا کہ لوگ تمہارے پاس آنے کے لیے راستوں کی دوری نہ گنیں۔ کیونکہ دولت انسان کو لوگوں کے سامنے بڑا بنا سکتی ہے، مگر اخلاق اسے لوگوں کے دلوں میں بڑا بناتے ہیں۔‘‘
اور یوں ایک میٹھے کنویں سے شروع ہونے والا سبق نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ کنواں اپنی جگہ موجود تھا، لوگ آج بھی اس کا پانی لینے آتے تھے، مگر ایک نوجوان کے لیے اس کی مٹھاس اب صرف پانی کا ذائقہ نہیں رہی تھی۔ وہ اسے ایک ایسی حقیقت سمجھ چکا تھا جو زندگی کے ہر کاروبار، ہر رشتے اور ہر تعلق پر صادق آتی ہے۔
کیونکہ دنیا میں پانی کے بہت سے کنویں ہوتے ہیں، مگر لوگ اسی کنویں پر جمع ہوتے ہیں جس کا پانی میٹھا ہو؛ اور انسانوں کے ہجوم میں بھی لوگ اسی شخص کی طرف لوٹتے ہیں جس کے کردار میں مٹھاس، زبان میں نرمی اور معاملات میں دیانت ہو۔

