کچھ بندروں کی ایک ٹولی کسی پہاڑ پر رہتی تھی اور وہاں کے پھل پھول اور گھاس پھوس پر گزارا کرتی تھی۔ اچانک ایک اندھیری رات میں برف باری ہونے لگی اور سردی کی شدت سے انھیں اپنا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوا۔ وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر دوڑنے لگے اچانک انہوں نے راستے میں ایک جگنو پڑا ہوا پایا اور اس خیال سے کہ یہ چنگاری ہے اس کے ارد گرد لکڑیاں جمع کرنے لگے اور پھونک مارنے لگے۔
ان کے قریب ہی ایک درخت پر ایک پرندہ بیٹھا ہوا تھا اس نے آواز لگائی۔
یہ آگ نہیں ہے اس کی طرف راغب مت ہونا
لیکن اس لاحاصل کام سے وہ باز نہ آئے ۔ اتفاقاً اس جگہ ایک دوسرا پرندہ آگیا اور پہلے پرندے سے کہنے لگا۔
غم مت کرو۔ تمہاری بات سن کر وہ باز نہ رہیں۔ بلکہ الٹا تمہیں ہی غم ہو گا۔ ایسے لوگوں کی بھلائی کی کوشش کرنا پتھر پر تلوار چلانے اور زہر سے تریاق نکالنے کے برابر ہے۔
پرندے نے جب دیکھا کہ اس کی بات کو کوئی سنتا ہی نہیں تو مہربانی کے خیال سے درخت سے نیچے اتر آیا تا کہ ایک بار پھر انہیں نصیحت کر سکے۔ اور ان کو اس بے فائدہ کوشش اور محنت سے روک سکے ۔ بندر اس کے اطراف جمع ہو گئے اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔


