بہت پرانی بات ہے۔ ایک جگہ شجاع اور فیاض نام کے دو بھائی رہتے تھے۔ دونوں کے مزاج بالکل مختلف تھے۔ بڑا بھائی شجاع بڑا لالچی اور چالاک تھا۔ باپ کی موت کے بعد اس نے پوری جائداد پر قبضہ کر لیا اور چھوٹے بھائی کو کچھ نہ دیا۔ چھوٹا بھائی فیاض سیدھا سادہ اور ایماندار تھا۔ باپ کی جائداد سے کچھ نہ ملنے پر اس نے کوئی شکایت نہ کی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرتا تھا اور اس طرح محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتا رہا۔
ایک مرتبہ چھوٹا بھائی فیاض ایک شہد بیچنے والے کے ہاں مزدوری کر رہا تھا۔ ایک دن اسے دو بالٹی شیرہ پہاڑ کے اس پار ایک دکاندار کو پہنچانا تھا۔ چنانچہ وہ بالٹیاں لے کر چل پڑا۔ ابھی اس نے پہاڑ پر آدھا راستہ بھی طے نہیں کیا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی، ذرا سی دیر میں راستے میں کیچڑ ہو گیا۔ چلتے چلتے یکایک فیاض کا پاؤں پھسلا اور وہ دونوں بالٹیوں سمیت نیچے لڑھکتا چلا گیا۔
ابھی فیاض اٹھ بھی نہ پایا تھا کہ دیوؤں کا ایک گروہ وہاں آپہنچا۔ اس وقت تک فیاض سر سے پاؤں تک شیرے میں نہا چکا تھا۔ یہ دیکھ کر دیوؤں نے سوچا کہ یہ ضرور کوئی بڑی مٹھائی ہے۔ وہ فیاض پر ٹوٹ پڑے اور اس پر لگا ہوا شیرہ چاٹنے لگے۔
“دیکھو تو، یہ قدِ آدم مٹھائی کتنی لذیذ ہے!” ایک نے کہا۔
“ذرا ٹھہرو، اسے گھر لے چلتے ہیں۔ وہاں اسے آہستہ آہستہ کھائیں گے۔” یہ تجویز سب کو پسند آئی اور وہ فیاض کو اپنے ساتھ غار میں لے گئے۔ انہوں نے ایک پتھر کی میز پر اسے لٹا دیا اور اس کے چاروں طرف کھڑے ہو گئے۔
لمبے سینگوں والا ایک دیو بولا: “آؤ، پہلے کھانا کھائیں۔ اس کے بعد پہاڑ کی وادی میں جا کر ناچ گانا کریں گے۔” ایک چھوٹا دیو چھوٹا سا ڈھول لے آیا اور اسے بجانے لگا۔ ڈھول کا بجنا تھا کہ پل بھر میں بہت سے اچھے اچھے کھانے وہاں آ گئے۔ کھانے کی خوشبو سے فیاض کے منہ میں پانی آ گیا لیکن وہ ذرا بھی نہ ہلا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر دیوؤں کو پتہ چل گیا کہ وہ آدمی ہے تو وہ اسے فوراً کھا جائیں گے۔ وہ بالکل سیدھا لیٹا رہا اور دیکھتا رہا کہ اس جادوئی ڈھول کو وہ کہاں رکھتے ہیں۔
کھانا کھانے کے بعد سب دیو چھلتے کودتے باہر نکل گئے۔ فیاض پتھر کی میز سے اٹھا اور جادوئی ڈھول کو کوٹ کے اندر اچھی طرح چھپا کر پوری رفتار سے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔
جادوئی ڈھول کے مل جانے کے بعد فیاض کو کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں رہی تھی۔ وہ جس چیز کی خواہش کرتا پل بھر میں آ جاتی۔ جب بڑے بھائی شجاع کو پتہ چلا کہ فیاض کے پاس ایک جادوئی ڈھول ہے جو اس کی ہر خواہش پوری کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایسا ہی ڈھول حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ وہ زیادہ دنوں تک برداشت نہ کر سکا اور ایک دن وہ فیاض کی ہی طرح دو بالٹی شیرہ لے کر پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ آدھا راستہ طے کرنے کے بعد وہ جان بوجھ کر نیچے گر پڑا، حالانکہ راستہ بالکل خشک تھا۔ وہ پہاڑی ڈھلان پر گرتا اور لڑھکتا رہا اور شیرہ اس پر گرتا رہا۔ آخر نیچے جا کر وہ رک گیا اور وادی میں لیٹا بڑی امید سے دیوؤں کا انتظار کرتا رہا۔
کچھ دیر بعد دیو آ گئے۔ اسے دیکھتے ہی وہ بھڑک اٹھے: “ذرا دیکھو تو! ہم سوچ رہے تھے کہ مٹھائی کھو گئی ہے، لیکن یہ تو یہیں پڑی ہوئی ہے۔ اسے جلدی سے غار میں لے چلو۔”
یہ سن کر شجاع بے حد خوش ہوا۔ اس نے سوچا کہ جلد ہی اسے بھی کوئی جادوئی چیز ملے گی۔ غار میں لے جاتے وقت اس نے دیوؤں سے اپنے آپ کو چھڑانے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی۔ لمبے سینگ والا ایک دیو بولا: “پچھلی مرتبہ یہ مٹھائی ہمارا ڈھول لے کر بھاگ گئی تھی۔ اس مرتبہ ہم اسے ابال کر پہلے ہی اس کا میٹھا شربت بنا لیں گے، اس کے بعد اپنا جادوئی ڈھول نکالیں گے جو ہمیشہ ہمارے قبضے میں رہیں گے۔”
دوسرے دیو بھی اس بات پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے شجاع کو ایک بڑے برتن میں ڈالا اور اس میں پانی بھر دیا۔ پھر برتن کو ڈھک کر اس کے نیچے آگ جلا دی۔ شجاع برتن میں سجتا پڑا رہا۔ پانی آہستہ آہستہ گرم ہونے لگا۔ جب اس کی برداشت سے باہر ہو گیا تو وہ اچھل کر باہر کودا اور دروازے کی طرف بھاگا۔ ایک ننھا دیو جو آگ سلگا رہا تھا، گھبرا کر زمین پر گر پڑا۔ مگر جلد ہی وہ سنبھل گیا اور زور سے چیخا: “پکڑو! پکڑو! مٹھائی بھاگ رہی ہے!”
سبھی دیو شجاع کے پیچھے دوڑ پڑے۔ شجاع کے کپڑے گیلے ہو گئے تھے۔ وہ بے حد خوفزدہ بھی تھا اور زخمی بھی ہو گیا تھا، اس لیے دیوؤں سے زیادہ تیز نہیں دوڑ پایا۔ تھوڑی دور ہی پہنچا تھا کہ دیوؤں نے اسے پکڑ لیا۔ لمبے سینگ والا ایک دیو بولا: “اس کو ضرور سزا دینی چاہیے۔ ہم نہ اسے ماریں گے اور نہ کھائیں گے بلکہ اس کی ناک کو اتنا لمبا کر دیں گے، اتنا لمبا کہ اس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔”
یہ کہتے ہی اس نے اس کی ناک پکڑ کر زور سے کھینچی اور اسے اور بھی لمبا کر دیا۔ پھر جب سب نے دیکھا کہ شجاع کی ناک اس کے قد کے برابر ہو گئی ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے شجاع کو غار سے باہر دھکیل دیا۔
شجاع اپنی لمبی ناک ہاتھ میں اٹھائے گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں آرام کرنے کے لیے اسے بار بار رکنا پڑا۔ اس کے بازوؤں میں درد ہونے لگا۔ وہ پسینے میں شرابور تھا، جیسے تیسے گھر پہنچ کر اس نے چیخ کر اپنی بیوی کو پکارا۔ بیوی نے سوچا کہ شجاع ضرور کوئی جادوئی چیز لایا ہے۔ اس نے دروازہ کھولا۔ جوں ہی وہ آگے بڑھی شجاع چیخ اٹھا: “اوہ! یہ کیا کر رہی ہو؟ تم میری ناک اپنے پاؤں سے کچل رہی ہو۔”
“کیا کہہ رہے ہو؟ تمہاری ناک میرے پاؤں کے نیچے کیسے آ سکتی ہے؟” حیران ہو کر بیوی نے پوچھا۔ ساتھ ہی اس نے شوہر پر سر سے پاؤں تک نظر دوڑائی۔ جب اسے شجاع کی ہاتھی کی سونڈ جیسی لمبی ناک دکھائی دی تو وہ دنگ رہ گئی۔ وہ زور سے چلائی: “یہ کیا ہو گیا؟”
شجاع نے تمام ماجرا شروع سے آخر تک اسے سنا دیا۔ بیوی نے ٹھنڈا سانس بھرا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی: “فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور نکلے گا۔ دیو جس چیز کا حشر خراب کرتے ہیں، اس کو وہ صحیح بھی ضرور کر سکتے ہیں۔ فیاض کو بھیج کر تمہارے علاج کا کوئی طریقہ سوچتی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ فیاض کی تلاش میں نکل پڑی۔
فیاض کا جادوئی ڈھول اب ایک اصلی خزانہ بن چکا تھا۔ وہ ڈھول اب اسے نہ صرف کھانا دیتا تھا، بلکہ اس کی ہر مانگ پوری کر سکتا تھا۔ لیکن فیاض ایک سیدھا سادہ اور محنتی آدمی تھا۔ وہ گھر پر بیٹھ کر کھانا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے جادوئی ڈھول سے کچھ رقم مانگی اور اس رقم سے کدال، درانتی اور ہل وغیرہ خرید لیا۔ جب اس کے پاس کافی اوزار جمع ہو گئے تو اس نے جادوئی ڈھول کو صندوق میں بند کر دیا اور اپنی محنت سے روزی کمانی شروع کر دی۔
اس دن فیاض کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا تو اس کی بھابی نے اسے ساری بات بتائی کہ کس طرح دیوؤں نے شجاع کی ناک لمبی کر دی ہے۔ پھر وہ اس سے بولی کہ تم کسی طرح دیوؤں کے پاس جاؤ اور یہ معلوم کرو کہ تمہارے بھائی کی ناک کس طرح چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جلدی جاؤ، تمہارے بھائی تڑپ رہے ہیں۔” کہتے کہتے وہ پھوٹ کر رونے لگی۔
فیاض بڑا نیک انسان تھا۔ اپنے بھائی کی پریشانی کے بارے میں سن کر وہ پہاڑ کی طرف چل پڑا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دیوؤں کے غار کے پاس جا پہنچا اور ہوشیاری سے اندر داخل ہو گیا۔ اس وقت دیو غار میں نہیں تھے۔ فیاض دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔
تھوڑی دیر بعد دیو لوٹ آئے۔ “ارے، یہ اجنبی کی بو کہاں سے آ رہی ہے؟” غار میں داخل ہوتے ہی سب دیو ایک زبان ہو کر چلا اٹھے۔ “کیا کوئی ہمارا خزانہ چرانے دوبارہ آ گیا ہے؟” انہوں نے پورا غار چھان مارا لیکن کوئی دکھائی نہیں دیا کیونکہ وہ تو دروازے کے پیچھے چھپا کھڑا تھا۔ جب دیو فیاض کی تلاش میں ناکام رہے تو وہ سب پتھر کی میز کے چاروں طرف بیٹھ گئے۔
ایک دیو نے تانبے کا ایک چھوٹا سا گھنٹہ نکالا اور اسے بجانے لگا۔ گھنٹے کی آواز کے ساتھ ہی اچھے اچھے کھانے میز پر آنے لگے۔ اتنے میں لمبے سینگ والا دیو بولا: “ہم اپنا چھوٹا ڈھول کھو چکے ہیں، اب ہمارے پاس یہی ایک گھنٹہ ہے۔ اسے احتیاط سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ اسے ہمیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہیے اور غار میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔” یہ کہتے ہی اس نے اپنے گلے میں اس گھنٹے کو باندھ لیا۔
کھانا کھاتے وقت تمام دیو شجاع کی ناک کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ ایک نے کہا: “میرا خیال ہے وہ آدمی کل ہمارا خزانہ چرانے آیا تھا۔ اچھا ہوا کہ ہم نے اس کی ناک کھینچ کر لمبی کر دی۔ یہ اس کے لیے ایک اچھی سزا ہے، آئندہ وہ یہاں کبھی نہیں آئے گا۔”
“تمہاری بات بالکل صحیح ہے۔” دوسرے نے اس کی تائید کی۔
تیسرے نے کہا: “اسے یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ناک کیسے چھوٹی ہو سکتی ہے۔”
چوتھا دیو بولا: “وہ بھلا کیا جانے کہ جادوئی گھنٹے پر ہلکی سی تھاپ دے کر اگر ‘سکرو’ کہا جائے، تو ہر تھاپ کے ساتھ اس کی ناک سکڑتی جائے گی۔”
“خبردار! ایسی باتیں یہاں مت کرو۔” لمبے سینگ والے دیو نے ٹوکا۔ “کسی نے سن لیا تو!”
کچھ دیر تک خاموشی رہی۔ سب دیو چپ چاپ کھانا کھاتے رہے۔ کھانے کے بعد وہ مست ہو کر اچھل کود کرنے لگے اور پھر باہر چلے گئے۔ موقع پاتے ہی فیاض چپکے سے باہر نکل گیا اور تیزی سے اپنے بھائی شجاع کے گھر کی طرف دوڑا۔ اس نے اپنے بھائی کو ساری بات بتائی اور پھر بھاگ کر اپنے گھر گیا اور جادوئی گھنٹہ (اشارہ سمجھ کر) لے کر واپس آیا۔
جوں ہی اس نے گھنٹے پر تھاپ دی اور کہا “سکرو!” تو اس کے بھائی کی ناک چھوٹی ہونے لگی۔ اس نے پھر گھنٹے پر تھاپ دی اور پھر یہی دہرایا۔ ناک آہستہ آہستہ چھوٹی ہوتی گئی لیکن اس کی بھابی بے صبر ہو گئی اور بولی: “یہ کام تو بہت سست ہو رہا ہے۔ اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا، گھنٹہ مجھے دو!”
اس نے فیاض کے ہاتھ سے گھنٹہ چھین لیا اور اس پر جلدی جلدی تھاپ دے کر جلدی جلدی “سکرو سکرو” کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ شجاع کی ناک چھوٹی ہوتے ہوتے اتنی سکڑی کہ کھوپڑی میں دھنس گئی اور گھنٹہ ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
اس طرح لالچی شجاع اپنی بیوی کے صبر نہ کرنے کی وجہ سے اپنی ناک ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھا۔
