نیند میں اڑان

نیند میں اڑان

سمندر کنارے جہازوں کی رہنمائی کیلئے ایک روشنی کا مینار کھڑا تھا جس کے اوپر ایک گھونسلہ بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک سمندری بگلا اور ایک کھٹ بڑھئی رہتے تھے۔وہ دونوں بہت گہرے دوست تھے اور ہمیشہ سے اکٹھے رہ رہے تھے۔لیکن ننھا کھٹ بڑھئی پریشان تھا کیونکہ اُس کا دوست ایک بری اور خطرناک عادت میں مبتلا ہو گیا تھا۔

وہ ہر رات جیسے ہی سوتا بگلا اپنے گھونسلے سے اُڑتا اور سمندر کے اوپر چلا جاتا۔جب کبھی وہ ایسا کرتا تھا اُس کی زندگی خطرے میں ہوتی تھی کیونکہ کئی مرتبہ اُسے شارک مچھلیاں ہڑپ کرنے لگیں تھیں۔کیونکہ وہ رات کو جب اُڑتا تھا تو وہ دراصل سویا ہوتا تھا۔کھٹ بڑھئی خوفزدہ تھا کہ کہیں وہ سوتے میں اُڑتا ہوا اُتنی دور نہ نکل جائے کہ پھر واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔


ننھے کھٹ بڑھئی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کرے۔وہ بگلے کو جگائے رکھنے کی کوشش کرتا لیکن وہ آخر اتنا تھک جاتا کہ گر جاتا۔کھٹ بڑھئی ہر وقت اُس مصیبت سے نکلنے کی ترکیب سوچتا اور پھر اُسے ایک ترکیب سوجھی۔اُس نے سوتے میں بگلے کی ٹانگ سے ایک سمندر کشتی کا لنگر باندھ دیا۔رات کو بگلے نے سوتے میں اُڑنے کی کوشش کی تو وہ لنگر کو گھسیٹ کر سمندر کے پانی میں لے گیا اور اس کے وزن سے ڈوبنے لگا لیکن پھر ٹھنڈے پانی نے اُسے جگا دیا۔
وہ دوست سے ناراض ہوا لیکن پھر ٹھیک ہو گیا کیونکہ آخر وہ اُس کی بہتری کیلئے کوشش کر رہا تھا۔
کھٹ بڑھئی پھر سوچنے لگا اور پھر اُس کے ذہن میں ایک اور ترکیب آ گئی۔جب بگلا سو گیا تو اُس نے ایک لمبی رسی اُس کی ٹانگوں سے باندھی اور اُس کا دوسرا سرا موسم بتانے والے مرغے سے باندھ دیا جو روشنی کے مینار پر بنا ہوا تھا۔
جلدی بگلا سو گیا اور معمول کے مطابق ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب سوئے سوئے اُس نے پَر پھڑ پھڑائے اور اُڑنے لگا۔
لیکن کیونکہ وہ مرغے سے بندھا ہوا تھا وہ سمندر میں نہیں گر سکتا تھا۔نہ اُسے ڈوبنے کا ڈر تھا اور نہ راستہ بھولنے کا۔اب وہ روشنی کے مینار کے اردگرد چکر لگاتا رہتا تھا۔اب کھٹ بڑھئی روز بگلے کی ٹانگوں سے رسی باندھ دیتا ہے اور پھر خود اپنے گرم بستر میں آرام سے سوتا ہے اور بگلا روشنی کے مینار کے اردگرد اُڑتا رہتا۔

Leave a Reply

NZ's Corner