😢 جس شخص نے اُس کی جان بچائی… سالوں بعد وہی شخص اُس کے دروازے پر مدد مانگنے آ گیا!
زندگی عجیب ہے…
آج آپ کسی کی مدد کرتے ہیں، کل وہی نیکی کسی اور شکل میں آپ کے پاس لوٹ آتی ہے۔
یہ کہانی آخر تک ضرور پڑھیں
📖 کہانی
شدید سردی کی رات تھی۔
بارش مسلسل برس رہی تھی۔
شہر کی سڑکیں تقریباً سنسان ہو چکی تھیں۔
ایک نوجوان حمزہ اپنی دکان بند کر کے گھر جا رہا تھا کہ اُس کی نظر سڑک کنارے گرے ہوئے ایک بوڑھے آدمی پر پڑی۔
لوگ گزر رہے تھے…
مگر کوئی رُک نہیں رہا تھا۔
حمزہ فوراً اُس کے پاس گیا۔
بوڑھا کانپ رہا تھا۔
اُس نے اسے سہارا دیا، گرم چائے پلائی اور اسپتال پہنچا دیا۔
ڈاکٹر نے بتایا:
“اگر آدھا گھنٹہ اور تاخیر ہو جاتی تو شاید یہ زندہ نہ بچتے۔”
بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس نے حمزہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
“بیٹا، میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں… مگر اللہ تمہیں اس نیکی کا بہترین بدلہ دے گا۔”
حمزہ مسکرا کر چلا گیا۔
وقت گزرتا گیا۔
سال بیت گئے۔
حمزہ کا کاروبار بہت اچھا چل پڑا۔
پھر اچانک ایک حادثہ ہوا۔
دکان میں آگ لگ گئی۔
ساری جمع پونجی ختم ہو گئی۔
قرض الگ چڑھ گیا۔
چند ہی مہینوں میں وہ خوشحال تاجر سے ایک پریشان حال انسان بن گیا۔
ایک دن وہ اپنی بند دکان کے باہر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے۔
اچانک ایک قیمتی گاڑی اُس کے سامنے آ کر رکی۔
گاڑی سے ایک معزز شخص باہر نکلا۔
حمزہ نے غور سے دیکھا…
یہ وہی بوڑھا آدمی تھا جس کی اُس نے برسوں پہلے جان بچائی تھی۔
بوڑھے نے اُسے گلے لگا لیا۔
اور بولا:
“میں نے تمہیں بہت تلاش کیا۔”
پتہ چلا کہ بوڑھا شخص ایک کامیاب کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
وہ حمزہ کی مشکل کے بارے میں جان چکا تھا۔
اس نے کہا:
“جس دن تم نے میری جان بچائی تھی، اُس دن تم نے بدلے کی امید نہیں رکھی تھی۔ آج مجھے موقع ملا ہے کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑ سکوں۔”
کچھ ہی دنوں میں اُس نے حمزہ کی نئی دکان کھلوا دی۔
حمزہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اُس دن اُسے احساس ہوا کہ:
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی… وہ صرف صحیح وقت کا انتظار کرتی ہے۔
