وحشی بن حرب۔۔۔🙂!

وحشی بن حرب۔۔۔🙂!

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے

وحشی بن حرب : حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے بنے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا
“تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا”

یہ سن کر سب کے دل کانپ گئے
وقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئے
صرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ

یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہا
حتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے

مگر نبی ﷺ کی وہ بات ابوہریرہؓ کے ذہن میں رہ گئی
وہ ہر بار رجّال کو دیکھ کر ڈرتے کہ کہیں وہی نہ ہو جس کا ذکر نبی ﷺ نے فرمایا تھا

پھر وقت آیا جب مسَیلمہ کذّاب نے یمامہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا
خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے رجّال بن عنفوہ کو یمامہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اسلام پر قائم رکھے

مگر جب رجّال وہاں پہنچا تو مسیلمہ نے اسے عزت، مال اور سونا پیش کیا
اسے کہا کہ “اگر تو میرے ساتھ ہو جائے تو آدھی حکومت تجھے دے دوں گا”

مال و دولت نے اس کے دل کا ایمان چھین لیا
اور وہ شخص جو نبی ﷺ کا ساتھی رہا، قرآن پڑھتا تھا، نماز و روزے کا پابند تھا
وہی جھوٹے نبی کا مددگار بن گیا

رجّال نے اعلان کیا کہ “میں نے محمد ﷺ سے سنا کہ مسیلمہ ان کے ساتھ نبی بنایا گیا ہے”
اس ایک جھوٹ نے ہزاروں کو گمراہ کر دیا
یہ فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا بن گیا

پھر حضرت ابوبکرؓ نے خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا
اسی لشکر میں وحشی بن حربؓ بھی تھے — وہی جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا
وحشیؓ نے توبہ کی تھی اور کہا تھا “میں اس جرم کا کفارہ جہاد سے ادا کروں گا”

جب جنگ یمامہ شروع ہوئی، تو سخت ترین لڑائی ہوئی
ابتدا میں مسلمان پسپا ہوئے مگر پھر صحابہ نے نعرہ لگایا، قرآن والے جمع ہوئے، اور اللہ نے مدد فرمائی
وحشیؓ نے موقع پا کر مسیلمہ کذاب کو قتل کر دیا
اور رجّال بن عنفوہ بھی اپنے جھوٹے نبی کے ساتھ مارا گیا — کفر پر، ذلت کے ساتھ

جب ابوہریرہؓ کو اس کی خبر ملی تو وہ سجدے میں گر گئے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ نجات ان کے حصے میں آئی

وحشی بن حرب : حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے بنے

لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِ‌ۚ: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ھو
ﷲ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئیے اور سچے دل سے توبہ کرلی جائے تو وہ رحم کرنے والا نہایت مہربان ہے جو اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے…يہاں ایک صحابی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا قبولِ اسلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس میں ﷲ پاک کی اپنے بندوں سے محبت قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لیے روشن مثال ہے ـــ
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنهما فرماتے ھیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قاتل وحشی بن حرب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے پاس دعوت اسلام دینے کے لیے آدمی بھیجا.. حضرت وحشی بن حرب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے جواب میں پیغام بھیجا کہ “آپ مجھے کیسے اسلام کی دعوت دے رھے ھیں حالانکہ آپ خود یہ فرماتے ھیں کہ قاتل اور مشرک اور زانی دوزخ میں جائیں گے اور قیامت کے دن ان پر عذاب دگنا ھوگا اور ھمیشہ ذلیل ھوکر جہنم میں پڑے رھیں گے اور میں نے یہ سب کام کیے ھیں تو کیا میرے لیے آپ کے خیال میں ان برے کاموں کی سزا سے بچنے کی کوئی گنجائش ھے..؟ ” تب اللہ عزوجل کی طرف سے یہ آیت نازل ھوئی..سورہ فرقان.. آیت 70.
“إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً۬ صَـٰلِحً۬ا فأولئك يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَـٰتٍ۬‌ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورً۬ا رَّحِيمً۬ا “
ترجمہ..”مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے’ سو اللہ انکی برائیوں کو (معاف فرما کر) نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ھے.. “
اس آیت کریمہ کو سن کر حضرت وحشی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا.. “توبہ اور ایمان اور عمل صالح کی شرط بہت کڑی ھے.. شائد میں اسے پورا نہ کرسکوں..” تب اللہ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی.. سورہ النساء 48
“إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٲلِكَ لِمَن يَشَآءُ‌ۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا (٤٨)
ترجمہ.. “بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک ٹھہرائے اور بخشتا ھے اس سے نیچے کے گناہ ‘ جس کے چاھے..”
اس پر حضرت وحشی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا.. “مغفرت تو اللہ کے چاھنے پر موقوف ھوگئی’ پتہ نہیں اللہ مجھے بخشیں گے یا نہیں.. کیا اس کے علاوہ کچھ اور گنجائش (بھی) ھے..؟” تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی. “سورہ الزمر آیت 52
قُلۡ يَـٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِ‌ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًا‌ۚ إِنَّهُ ۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ”
ترجمہ.. “اے میرے بندو ! جنہوں نے زیادتی کی ھے اپنی جان پر’ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ھوجاؤ.. بےشک اللہ بخشتا ھے سب گناہ.. وہ جو (اللہ) ھے’ وھی ھے گناہ معاف کرنے والا مہربان..”
اس پر حضرت وحشی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے فرمایا کہ ھاں.. اب یہ ٹھیک ھے اور مسلمان ھوگئے.. اس (واقعہ) پر لوگوں نے عرض کیا.. “یا رسول اللہ! ھم نے بھی (زمانہ جہالت میں) وھی گناہ کیے ھیں جو حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کیے تھے تو یہ آیات ھمارے لیے بھی ھے..؟” آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. “ھاں.. یہ تمام مسلمانوں کے لیے ھے..” طبرانی.. جلد 7 صفحہ 100.. بحوالہ “حیات الصحابہ” جلد اول صفحہ 93.. یہاں چند باتوں کی وضاحت ضروری ھے تاکہ جن کو سمجھ نہ آئی ھو وہ بھی بخوبی سمجھ لیں..
حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ تعالٰی عنہ کیونکہ خود کو بہت گناہ گار جانتے تھے اور ان سے زمانہ جاھلیت میں باقی سب گناھوں کے ساتھ ساتھ غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کرنے کا گناہ بھی ھوا تھا تو ان کو یقین نہ تھا کہ ان کے اتنے بڑے گناہ بھی بخشے جاسکتے ھیں..
تب اللہ نے بظاھر تو حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے لیکن درحقیقت روز قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں جن کے مطابق کوئی جتنا بھی بڑا گناہ گار کیوں نہ ھو اگر وہ اللہ پر ایمان لے آۓ اور توبہ کرلے اور پھر نیک اعمال کرے تو اللہ نہ صرف اس کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف فرمادے گا بلکہ اس کے اعمال نامہ میں درج گناھوں کو مٹا کر نیکیوں میں بدل دے گا.. اور اگر کوئی ایمان تو لے آیا ‘ توبہ بھی کرلی لیکن عمل صالح کی شرط پر پورا نہ اتر سکا اور پھر گناھوں میں مبتلا ھوگیا تو تب بھی وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ھو اور پھر سے توبہ کرکے نیک اعمال کی کوشش شروع کردے.. اللہ اسے پھر سے معاف فرمادے گا.

یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے —
رجّال بن عنفوہ قرآن پڑھتا تھا، عبادت گزار تھا، مگر انجام بد پر ہوا
اور وحشی بن حربؓ نے سب سے بڑا گناہ کیا مگر توبہ کی اور انجام ایمان پر پایا

تو اے انسان
اپنی عبادت پر فخر نہ کر
اپنی نیکیوں پر گھمنڈ نہ کر
دعا کر کہ اللہ تیرا انجام ایمان پر کرے۔

تحریر آپ کو پسند آئی ہے تو اس کے متعلق اپنے دوستوں کو بھی بتائیں فقہ و اصولِ فقہ . فقہِ عبادات (عبادات سے متعلق شرعی مسائل) تفسیر و احادیث’ سیرت النبی ﷺ ‘ سیرت الصحابہ ‘ تصوف’ اسلامی تاریخی واقعات’ دینی احکام و مسائل’ سبق آموز حکایات’ اقوال و فرمودات’ اقتباسات اور خوبصورت اصلاحی تحاریر کے لیے لائک کریں~
صوفی محمد شاھد حمید قادری نوری
قبیلہ صوفیاء سلسلہ عالیہ قادریہ نوریہ
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیہ

Leave a Reply

NZ's Corner