وزیر کی آزمائش

وزیر کی آزمائش

ایک دن شاہی دربار میں ایک مشہور جادوگر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ محل کے ستونوں سے لے کر سنہری جھاڑ فانوس تک، ہر چیز اس کے کرتبوں کی چمک سے دمک رہی تھی۔ درباری حیرت سے منہ کھولے کھڑے تھے، اور سلطان خود مسحور ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“سبحان اللہ! کیا کمال ہے، کیا غیر معمولی صلاحیت ہے!” سلطان نے جوش سے کہا۔

دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب سلطان کے دانا وزیر نے ادب سے سر جھکا کر عرض کیا:

“جہاں پناہ، یہ کوئی آسمانی عطیہ نہیں۔ یہ فن مسلسل محنت، مشق اور صبر کا نتیجہ ہے۔”

وزیر کے یہ الفاظ سلطان کے غرور پر بجلی بن کر گرے۔ اس کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔

“گستاخ!” سلطان دھاڑا۔ “تم نے ہماری بات کی تردید کی؟ ہم نے کہا کہ صلاحیت یا تو پیدائشی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اور یہی سچ ہے!”

پھر اس نے نفرت بھری نگاہ وزیر پر ڈالی اور حکم دیا:

“اسے قید خانے میں ڈال دو! وہاں بیٹھ کر اپنی عقل پر غور کرے۔اور ایک بچھڑا بھی اس کے ساتھ بند کر دو۔”
تاکہ اسے تنہائی محسوس نہ ہو،
سپاہیوں نے فوراً حکم کی تعمیل کی، اور وزیر کو قلعے کے تاریک برج میں قید کر دیا گیا۔



قید کے پہلے ہی دن وزیر نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے بچھڑے کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور برج کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیں۔ روزانہ… بغیر ناغہ… وہ یہی کرتا رہا۔

دن مہینوں میں بدلے، مہینے سال کی دہلیز تک جا پہنچے۔

وہ ننھا بچھڑا اب ایک طاقتور، خوفناک بیل بن چکا تھا۔

لیکن ساتھ ہی وزیر کے بازو فولاد بن گئے تھے، اس کی کمر چٹان کی مانند مضبوط ہو گئی تھی، اور اس کے ارادے پہاڑوں سے زیادہ بلند۔



ایک دن سلطان کو اچانک اپنے قیدی وزیر کی یاد آئی۔

“اسے ہمارے سامنے پیش کیا جائے!”

جب دربار کے دروازے کھلے، تو سب کی سانسیں رک گئیں۔

وزیر اندر داخل ہوا… اور اس کے دونوں بازوؤں میں ایک دیوہیکل بیل اٹھا ہوا تھا!

درباری خوف اور حیرت سے پیچھے ہٹ گئے۔ سلطان کی آنکھیں پھیل گئیں، لب کانپنے لگے۔

“یا خدا! یہ کیا معجزہ ہے؟ کیا حیرت انگیز صلاحیت ہے!” سلطان بے اختیار چلّا اٹھا۔

وزیر نے سکون سے بیل کو زمین پر رکھا، سلطان کی طرف دیکھا اور نہایت وقار سے بولا:

“جہاں پناہ… یہ نہ معجزہ ہے، نہ پیدائشی صلاحیت۔”

پھر اس نے آہستہ سے کہا:

“یہ آپ کی عطا کردہ آزمائش تھی… اور میری مسلسل محنت، صبر اور روزانہ کی مشق کا نتیجہ۔”



اسی لمحے سلطان کا سر جھک گیا، کیونکہ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ صلاحیت دراصل محنت کے سامنے جھک جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner