ویران حویلی کا آخری مہمان

ویران حویلی کا آخری مہمان

بارش کی بوندیں ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں سے اندر گر رہی تھیں۔ گاؤں کے کنارے ایک ایسی حویلی تھی جس کا دروازہ برسوں سے بند تھا۔ لوگ کہتے تھے، “جو رات کے بعد اس حویلی میں داخل ہوا، وہ کبھی پہلے جیسا واپس نہیں آیا۔”

لیکن صحافی فراز ایسی کہانیوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ہر خوف کے پیچھے کوئی نہ کوئی حقیقت ضرور ہوتی ہے۔

ایک طوفانی رات وہ کیمرہ اور ٹارچ لے کر حویلی کے اندر داخل ہوا۔

اندر ہر طرف گرد، مکڑی کے جالے اور عجیب سی خاموشی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے دیواریں بھی سانس لے رہی ہوں۔

اچانک اوپر والی منزل سے کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز آئی…

ٹھک…

ٹھک…

ٹھک…

فراز نے ٹارچ اوپر ڈالی، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔

پھر اسے ایک پرانا کمرہ ملا جس کے دروازے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“دروازہ کھولنے والا، خود دروازہ بن جاتا ہے۔”

وہ مسکرایا۔ “لوگ بھی کیسی فضول باتیں لکھ جاتے ہیں۔”

جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، کمرہ بالکل خالی تھا۔

صرف درمیان میں ایک لکڑی کی کرسی رکھی تھی…

اور کرسی پر ایک گرد آلود ڈائری۔

ڈائری کے پہلے صفحے پر لکھا تھا:

“اگر تم یہ پڑھ رہے ہو، تو میں آزاد ہو چکا ہوں…”

فراز چونک گیا۔

اس نے اگلا صفحہ پلٹا۔

وہاں لکھا تھا:

“اب یہ ڈائری تمہاری ہے۔ اگلی کہانی تم لکھو گے۔”

اسی لمحے کمرے کا دروازہ خود بخود بند ہوگیا۔

ہوا یکدم رک گئی۔

اور سامنے رکھی کرسی… آہستہ آہستہ اس کی طرف مڑنے لگی۔

کرسی پر اب کوئی بیٹھا ہوا تھا۔

ایک دھندلا سا وجود…

جس کا چہرہ بالکل فراز جیسا تھا۔

وہ مسکرایا اور بولا:

“شکریہ… میں پچاس سال سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔”

فراز چیخنے ہی والا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا… اس کے ہاتھ شفاف ہونے لگے ہیں۔

اس کی آواز ختم ہو رہی تھی۔

اور دوسری طرف وہ اجنبی، جو اب فراز کا روپ اختیار کر چکا تھا، آرام سے کیمرہ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

اگلی صبح گاؤں والوں نے دیکھا…

حویلی کا دروازہ پھر بند تھا۔

مگر گیٹ کے باہر تازہ قدموں کے نشان موجود تھے۔

اور اندر…

کرسی پر ایک نیا سایہ خاموشی سے بیٹھا تھا…

اپنے اگلے مہمان کا انتظار کرتا ہوا۔

اختتام؟

شاید نہیں…

اگر کسی رات آپ کو ایک پرانی ڈائری ملے، تو پہلا صفحہ ہرگز مت کھولیے۔

کیونکہ کچھ کہانیاں پڑھی نہیں جاتیں…

Leave a Reply

NZ's Corner