ایک زمانے کی بات ہے، چین پر ایک عظیم اور بہت امیر بادشاہ حکومت کرتا تھا، جسے سب سلطان کہتے تھے۔ یہ کہانی دراصل اس کی بیٹی، ایک لاڈلی شہزادی کی ہے۔
سلطان اپنے خاندان کے ساتھ ایک خوب صورت محل میں رہتا تھا۔ محل میں شہزادی کے بہت سے کمرے تھے۔ اسے اتنے زیادہ کمروں کی ضرورت اس لیے تھی کہ اس کے پاس بے شمار چیزیں تھیں۔ تمام کمرے چھت تک اس کی قیمتی اشیا اور تحائف سے بھرے ہوئے تھے۔
شہزادی کو قیمتی تحائف وصول کرنا بہت پسند تھا۔ ہر دفعہ جب اس کے بابا کہیں جاتے تو واپسی پر اپنی بیٹی کے لیے کوئی نہ کوئی قیمتی تحفہ ضرور لاتے۔ اگر کوئی سیاح یا مہمان سلطان سے ملنے محل میں آتا تو وہ بھی ہمیشہ شہزادی کے لیے کوئی تحفہ ضرور لاتا۔
ملک کے تمام لوگوں نے سن رکھا تھا کہ شہزادی کے پاس ہر وہ چیز موجود ہے جو اسے پسند ہے۔ جب بھی شہزادی کی سالگرہ آتی، سلطان اس کے لیے پہلے ہی سے کوئی نہ کوئی نیا تحفہ خرید چکا ہوتا۔
لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ شہزادی کی سالگرہ ہر ہفتے آتی تھی، جبکہ عام لوگوں کی سالگرہ سال میں صرف ایک بار آتی ہے۔
ایک دن سلطان نے اپنی بیٹی سے کہا:
“ہم نے تمہاری سالگرہ پچھلے ہفتے ہی تو منائی تھی!”
“اچھا، واقعی؟” شہزادی نے بے پروائی سے کہا۔ “اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اس ہفتے دوبارہ اپنی سالگرہ مناؤں گی۔”
جیسے جیسے شہزادی بڑی ہوتی گئی، اس کے پاس تحائف کا ڈھیر بھی بڑھتا گیا۔ انہیں رکھنے کے لیے مزید کمروں کی ضرورت پڑنے لگی۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جیسے ہی اسے کوئی نئی چیز ملتی، وہ فوراً کسی دوسری چیز کے بارے میں سوچنے لگتی کہ اب اسے وہ چاہیے۔
ایک دن شہزادی نے ایک امیر آدمی کے باغ میں ایک نہایت خوب صورت فوارہ دیکھا۔ فوارے سے پانی ہوا میں اچھلتا اور پھر نیچے بنے ایک چھوٹے سے تالاب میں گرتا تھا۔ یہ منظر واقعی بہت دلکش تھا، خاص طور پر جب سورج کی سنہری شعاعیں پانی کے قطروں پر پڑتیں تو وہ موتیوں کی طرح چمکنے لگتے۔
شہزادی محل واپس پہنچی اور اس نے اپنے بابا سے اسی طرح کا فوارہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
سلطان نے فوراً اپنے ملازموں کو ایک خوب صورت فوارہ بنانے کا حکم دیا۔ ملازموں نے بہت محنت کی اور چند دنوں میں فوارہ تیار کر دیا۔
جب کام مکمل ہوا تو شہزادی فوارہ دیکھنے آئی۔
“یہ واقعی بہت خوب صورت ہے!” وہ خوشی سے چلائی۔
وہ اچھلتے ہوئے پانی کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک پانی کا ایک ننھا سا قطرہ اس کے ہاتھ پر آ گرا اور پھسلتا ہوا اس کی انگلی کے کنارے پر آ کر ٹھہر گیا۔ چند لمحوں تک وہ قطرہ اس کی انگلی پر موجود رہا۔ سورج کی روشنی میں وہ قطرہ ایک چمکتے ہوئے موتی کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔
شہزادی اس قطرے کو دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتی رہی۔ پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔
وہ بولی:
“بابا جان! ایک اور چیز ہے جو مجھے چاہیے۔”
سلطان خاموش رہا۔
شہزادی نے کہا:
“مجھے ایک پیارا سا ہار چاہیے، جو میری گردن کے گرد نہایت خوب صورتی سے لٹکتا رہے۔”
سلطان نے حیرانی سے کہا:
“لیکن تمہارے پاس تو پہلے ہی ہزاروں ہار ہیں!”
“وہ ہار بالکل مختلف ہوگا،” شہزادی نے جواب دیا۔
“مجھے بس ایک ہی چیز چاہیے، اور وہ ہے… پانی کے قطروں سے بنا ہوا ہار!”
“پانی کے قطروں سے؟” سلطان نے حیرت سے پوچھا۔ “لیکن کوئی پانی کے قطروں سے ہار کیسے تیار کر سکتا ہے؟”
“مجھے کوئی پروا نہیں کہ یہ ہار کیسے بنے گا،” شہزادی نے ضد کرتے ہوئے کہا۔ “مجھے یہ ہر حال میں چاہیے، کیونکہ آج تک مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملی۔ میں چاہتی ہوں کہ جب ہم اگلی بار دعوت کریں تو میں یہ ہار پہنوں۔”
شہزادی کے لہجے میں اتنی ضد تھی کہ سلطان خاموش ہو گیا۔
اگلے دن اس نے اپنے غلاموں کو ملک کے سب سے بہترین جوہری کو بلانے بھیجا۔
جوہری کے محل میں پہنچنے پر سلطان نے کہا:
“میں چاہتا ہوں کہ تم میری بیٹی کے لیے ایک خاص ہار تیار کرو۔ دراصل میں چاہتا ہوں کہ تم پانی کے شفاف قطروں سے ایک خوب صورت ہار بناؤ۔”
جوہری یہ سن کر پریشان ہو گیا۔
“لیکن جناب! میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟”
سلطان نے غصے میں کہا:
“مجھے پروا نہیں کہ تم یہ کیسے کرو گے، لیکن کام شروع کرو!”
بیچارہ جوہری واپس اپنی دکان پر گیا اور ہار بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس نے مختلف قسم کے دھاگے جمع کیے اور ایک مرتبان میں تھوڑا سا پانی بھر لیا۔
پھر اس نے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا اور باہر نکال لیا۔ اس کے ہاتھ پر پانی کے چند قطرے چمک رہے تھے۔ اس نے ان قطروں کو دھاگے پر رکھنے کی کوشش کی، لیکن پانی کے قطرے پھسل کر زمین پر گر گئے۔
اس نے دوبارہ کوشش کی۔
پھر تیسری بار۔
پھر چوتھی بار۔
وہ بار بار کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح پانی کے قطروں کو دھاگے پر ٹھہرا دے، لیکن ہر بار قطرے پھسل کر نیچے گر جاتے۔
آخرکار اس کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
وہ واپس سلطان کے محل میں پہنچا اور شرمندگی سے کہا:
“بادشاہ سلامت! میں یہ ہار نہیں بنا سکتا۔”
سلطان بہت ناراض ہوا۔ اس نے چاہا کہ جوہری کو سزا دے۔ چنانچہ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا:
“اسے محل کے سب سے اندھیرے قید خانے میں ڈال دو!”
پھر سلطان چلایا:
“کسی دوسرے جوہری کو ڈھونڈ کر لاؤ!”
دوسرا جوہری بھی آیا۔ اس نے بھی بہت کوشش کی، لیکن وہ پانی کے قطروں سے ہار نہ بنا سکا۔
سلطان نے اسے بھی قید خانے میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔
“تم سب تب تک یہاں رہو گے جب تک کوئی جوہری میری بیٹی کے لیے پانی کے قطروں سے ہار نہیں بنا لیتا!” سلطان غصے سے غرایا۔
پھر اس نے اپنے غلاموں کو تیسرا جوہری لانے بھیجا۔
ایک کے بعد دوسرا جوہری آتا گیا، لیکن کوئی بھی پانی کے قطروں سے ہار نہ بنا سکا۔ آخرکار قید خانہ جوہریوں سے بھر گیا۔
ایک دن ایک بوڑھا آدمی محل میں آیا۔
سلطان نے پوچھا:
“کیا تم جوہری ہو؟”
بوڑھے آدمی نے جواب دیا:
“نہیں، میں ایک فقیر ہوں۔ لیکن میں نے تمہاری مشکل کے بارے میں سن رکھا ہے۔”
سلطان نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا:
“کیا تم پانی کے قطروں سے ہار بنا سکتے ہو؟”
بوڑھے آدمی نے مسکرا کر جواب دیا:
“بالکل! یہ تو بہت آسان ہے۔ لیکن مجھے تھوڑی سی مدد چاہیے۔”
سلطان نے کہا:
“میں سلطان ہوں۔ میں تمہیں ہر طرح کی مدد فراہم کر سکتا ہوں۔ مجھے بتاؤ، تمہیں کیا مدد چاہیے؟”
بوڑھے آدمی نے کہا:
“مجھے شہزادی کی مدد چاہیے۔ وہ میرے لیے پانی کے قطرے جمع کرے۔ جب شہزادی میرے لیے پانی کے قطرے جمع کر لے گی تو میں اس سے ایک بہت خوب صورت ہار بنا دوں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔”
سلطان نے فوراً شہزادی کو بلا بھیجا۔
شہزادی نے بوڑھے آدمی کی بات سنی اور خوشی سے مسکرائی۔ وہ فوراً فوارے کے پاس پہنچی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پیالے کی طرح بنا کر پانی جمع کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد وہ پانی اپنے ہاتھوں میں لیے بوڑھے آدمی کے پاس واپس آئی۔
لیکن جب وہ اس کے قریب پہنچی تو اس کے ہاتھ بالکل خالی تھے۔
بوڑھے آدمی نے کہا:
“کوئی بات نہیں۔ دوبارہ جاؤ اور پانی کے کچھ قطرے لے کر آؤ۔ میں یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔”
شہزادی دوبارہ فوارے کے پاس گئی اور پانی کے قطرے جمع کرنے لگی۔ اس نے بہت احتیاط سے پانی اپنے ہاتھوں میں تھاما اور واپس آنے لگی۔
لیکن جب وہ بوڑھے آدمی کے پاس پہنچی تو اس کے ہاتھ پھر خالی تھے۔
شہزادی حیران ہو کر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔
اچانک اسے حقیقت سمجھ آ گئی۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی:
“اگر میں خود پانی کے قطرے اپنے ہاتھوں میں نہیں روک سکتی تو کوئی ان قطروں سے ہار کیسے بنا سکتا ہے؟ یہ تو ناممکن ہے!”
بوڑھے آدمی نے شہزادی کی طرف دیکھا اور کہا:
“بیوقوف لڑکی! اگر تم پانی کے قطرے جمع نہیں کر سکتیں تو میں تمہارے لیے ہار کیسے بنا سکتا ہوں؟”
شہزادی نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا۔
بوڑھے آدمی نے کہا:
“اور جب تم خود پانی کے قطرے جمع نہیں کر سکتیں تو وہ سارے جوہری تمہارے لیے پانی کے قطروں سے ہار کیسے بنا سکتے تھے؟”
شہزادی خاموش کھڑی رہی۔
بوڑھے آدمی نے ایک بار پھر کہا:
“بیوقوف لڑکی!”
پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔
سلطان نے بوڑھے آدمی کی باتوں پر غور کیا تو اسے بھی احساس ہوا کہ وہ اپنی بیٹی کی ضد کے ہاتھوں خود بھی بیوقوف بن چکا تھا۔
اس نے فوراً قید خانہ کھلوایا اور تمام جوہریوں کو آزاد کر کے ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا۔
اس کے بعد سلطان نے اپنی بیٹی کو مزید تحائف دینا بند کر دیے۔ یہاں تک کہ اس نے شہزادی کے بہت سے قیمتی تحائف فروخت کر دیے اور حاصل ہونے والی رقم ان جوہریوں کو بھیج دی جنہیں اس نے ناحق قید کیا تھا۔
شہزادی نے بھی اپنی بہت سی قیمتی چیزیں چین کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دیں۔
وقت کے ساتھ وہ ایک سمجھ دار، نرم دل اور مہربان لڑکی بن گئی۔ اب اسے ہر نئی چیز کی خواہش نہیں ہوتی تھی۔ اسے دوسروں کی مدد کرنے اور ضرورت مندوں کے کام آنے میں خوشی ملتی تھی۔
اور اب وہ اپنی سالگرہ بھی سب لوگوں کی طرح سال میں صرف ایک بار مناتی تھی۔
سبق:
انسان کو لالچ اور ضد سے بچنا چاہیے۔ دنیا کی ہر خواہش پوری ہونا ضروری نہیں۔ اصل خوشی بے شمار چیزیں جمع کرنے میں نہیں بلکہ قناعت، شکرگزاری اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے میں ہے۔

