دنیا کے فاتح کی فوج کا خوف اور دیوہیکل درندوں کی چنگھاڑ: جنگِ جہلم (Battle of Hydaspes) کی سچی داستان
تصور کریں… مئی 326 قبل مسیح۔ آدھی دنیا کو روندنے والی یونانی فوج، جس نے کبھی شکست کا ذائقہ نہیں چکھا تھا اور جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے سلطنتیں کانپتی تھیں، آج دریائے جہلم کے کنارے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ان کے سامنے مون سون کی بارشوں سے بپھرا ہوا طوفانی دریا تھا، اور دریا کے اس پار ایک ایسا خوفناک منظر تھا جسے دیکھ کر سکندرِ اعظم کے مایہ ناز جرنیلوں کے بھی پسینے چھوٹ گئے۔
دریا کے اس پار کالے بادلوں کے سائے میں سینکڑوں دیوہیکل ‘جنگی ہاتھی’ کھڑے تھے، جن کی چنگھاڑ سے زمین ہل رہی تھی۔ یونانیوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے، اور انہیں لگ رہا تھا جیسے ان کا مقابلہ انسانوں سے نہیں، بلکہ پہاڑ جیسے درندوں سے ہونے والا ہے۔
یہ تاریخ کی وہ عظیم، خونی اور فیصلہ کن جنگ تھی جہاں دنیا کے سب سے بڑے فاتح ‘سکندرِ اعظم’ (Alexander the Great) کا سامنا ہندوستان (موجودہ پنجاب) کے ایک انتہائی دراز قد اور نڈر حکمران ‘راجہ پورس’ (King Porus) سے ہوا۔ یہ وہ جنگ ہے جس نے سکندر کو جیت تو دی، لیکن اس کی فوج کا وہ غرور توڑ دیا کہ وہ مزید آگے نہ بڑھ سکے۔
وہ راجہ جس نے جھکنے سے انکار کر دیا
سکندرِ اعظم فارس (ایران) کی عظیم سلطنت کو خاک میں ملا کر جب ہندوستان (موجودہ پاکستان کے علاقے) میں داخل ہوا، تو ٹیکسلا کے حکمران ‘راجہ امبھی’ نے لڑے بغیر ہی ہتھیا ڈال دیے اور سکندر کو سونے اور ہاتھیوں کا تحفہ دیا۔
لیکن دریائے جہلم اور چناب کے درمیانی علاقے کا حکمران راجہ پورس ایک مختلف مٹی کا بنا تھا۔ یونانی مورخین (جیسے Arrian) لکھتے ہیں کہ پورس کا قد 6.5 سے 7 فٹ کے درمیان تھا اور وہ ایک دیوتا کی طرح نظر آتا تھا۔ جب سکندر نے اسے اطاعت کا پیغام بھیجا، تو پورس نے جواب دیا:
“میں تم سے ضرور ملوں گا، لیکن اپنی شرائط پر اور میدانِ جنگ میں، تلوار کے ساتھ!”
بپھرا دریا اور سکندر کی تاریخ ساز ‘نفسیاتی جنگ’
دریائے جہلم (جسے یونانی Hydaspes کہتے تھے) مون سون کی بارشوں سے سیلاب کے عروج پر تھا۔ پورس کی فوج دریا کے دوسرے کنارے خیمہ زن تھی، اور ہاتھیوں کی موجودگی میں سکندر کے گھوڑے دریا پار کرنے سے انکاری تھے۔
یہاں سکندر نے تاریخ کی سب سے شاطرانہ عسکری چال (Deception) چلی۔ اس نے اپنی فوج کو کئی راتوں تک دریا کے کنارے شور مچانے، گھوڑے دوڑانے اور آگ جلانے کا حکم دیا۔ پورس کی فوج ہر رات الرٹ ہوتی، لیکن یونانی حملہ نہیں کرتے تھے۔ مسلسل کئی راتوں کے بعد پورس کی فوج اس شور کی عادی ہو گئی اور انہوں نے سمجھا کہ سکندر صرف ڈرا رہا ہے۔
پھر ایک رات، جب شدید طوفان اور گرج چمک تھی، سکندر اپنی آدھی سے زیادہ فوج کو چھپ کر دریا کے بہاؤ کے مخالف (تقریباً 27 کلومیٹر دور) لے گیا اور رات کے اندھیرے میں طوفانی دریا پار کر لیا۔ جب صبح پورس کو خبر ملی کہ سکندر دریا پار کر چکا ہے، تو جنگ کا بگل بج گیا۔
ہاتھیوں کی یلغار اور یونانیوں کا قتلِ عام
یہ تاریخ کی ایک انتہائی خوفناک جنگ تھی۔ پورس نے اپنے 200 جنگی ہاتھیوں کو فوج کے آگے دیوار کی طرح کھڑا کر دیا۔ جب ہاتھیوں نے حملہ کیا تو یونانی فوج کی مشہورِ زمانہ صفیں (Phalanx) بکھر گئیں۔ ہاتھیوں نے یونانیوں کو پیروں تلے کچلنا شروع کر دیا اور ان کے نیزوں کو اپنی سونڈوں سے توڑ دیا۔ یونانی مورخین مانتے ہیں کہ اس سے پہلے انہوں نے اتنی خوفناک جنگ کبھی نہیں لڑی تھی۔
لیکن سکندر ایک عسکری جینئس تھا۔ اس نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ وہ ہاتھیوں کے بجائے ان پر بیٹھے ہوئے ‘مہاوتوں’ (Riders) اور ہاتھیوں کی آنکھوں کو نشانہ بنائیں۔ جب مہاوت مارے گئے اور ہاتھیوں کی آنکھوں میں تیر لگے، تو وہ دیوہیکل جانور درد اور خوف سے پاگل ہو گئے اور الٹے پاؤں بھاگتے ہوئے خود اپنی ہی (پورس کی) فوج کو کچلنے لگے۔
ایک بادشاہ کا دوسرے بادشاہ سے سلوک
جنگ کا پانسہ پلٹ چکا تھا، لیکن راجہ پورس اپنے سب سے بڑے اور جنگی ہاتھی پر بیٹھا آخری سانس تک لڑتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کے جسم پر 9 گہرے زخم آئے اور وہ خون سے لت پت ہو کر گرنے لگا۔
سکندر پورس کی اس بے مثال بہادری سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے جنگ روک دی اور اپنا سفیر بھیج کر پورس کو روکا۔ جب زخمی پورس کو سکندر کے سامنے لایا گیا، تو سکندر نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا: “بتاؤ، تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟”
پورس نے تاریخ کا وہ لافانی اور غرور سے بھرا جملہ کہا جو آج بھی ضرب المثل ہے:
“وہی سلوک… جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے!”
انجام: جیت کر بھی ہار جانے والی فوج
سکندر اس جواب اور پورس کی بہادری پر اتنا فدا ہوا کہ اس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی، بلکہ اس کی سلطنت اسے واپس کر دی اور مزید علاقے بھی اس کے حوالے کر دیے۔
تاریخی سبق: جنگِ جہلم سکندر نے جیت تو لی، لیکن راجہ پورس کے ہاتھیوں اور ہندوستانیوں کی بہادری نے یونانی فوج کے اعصاب توڑ دیے تھے۔ جب سکندر نے دریائے بیاس پار کر کے اندرونِ ہند (نند سلطنت) پر حملے کا حکم دیا، تو اس کی فوج نے بغاوت (Mutiny) کر دی اور آگے جانے سے صاف انکار کر دیا۔ پنجاب کی اس مٹی نے دنیا کے سب سے بڑے فاتح کی پیش قدمی کو ہمیشہ کے لیے روک دیا تھا، اور وہ یہیں سے واپس لوٹنے پر مجبور ہو گیا۔
