ایک پہلوان ٹرین میں سوار ہوا، مگر بدقسمتی سے اسے بیٹھنے کے لیے کہیں جگہ نہ ملی۔
کافی دیر تلاش کرنے کے بعد اسے ایک سیٹ نظر آئی، جس پر ایک انگریز بڑھیا بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ اس کا کتا بھی سیٹ پر براجمان تھا۔
پہلوان نے مؤدبانہ انداز میں کہا:
“محترمہ! اگر آپ اپنے کتے کو نیچے اتار دیں تو میں بھی بیٹھ جاؤں گا۔”
بڑھیا غصے سے بولی:
“میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!”
پہلوان خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے پوری ٹرین کا ایک چکر لگایا، مگر کہیں بھی جگہ نہ ملی۔
کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اسی سیٹ کے پاس آیا اور بولا:
“محترمہ! براہِ کرم اپنے کتے کو نیچے اتار دیجیے، مجھے واقعی بیٹھنے کی جگہ چاہیے۔”
بڑھیا پہلے سے زیادہ غصے میں بولی:
“میں نے کہا نا، میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!”
پہلوان نے کچھ نہیں کہا۔ وہ سکون سے کھڑکی کے پاس گیا، کھڑکی کھولی، کتے کو اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔ 😳
بڑھیا غصے سے لال پیلی ہو گئی اور پہلوان کو گھورنے لگی۔
اتنے میں اوپر والی نشست سے بڑھیا کے شوہر کی آواز آئی:
“پہلوان! تم بھی عجیب آدمی ہو… جسے باہر پھینکنا چاہیے تھا، وہ تو ابھی تک سیٹ پر موجود ہے!” 😂
