چالاک ملازم، کنجوس سیٹھ اور بولنے والا طوطا

چالاک ملازم، کنجوس سیٹھ اور بولنے والا طوطا

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں حاجی کریم بخش نام کا ایک بہت بڑا تاجر رہتا تھا۔ اس کے پاس بڑی دکانیں، کئی نوکر، اور سونے چاندی سے بھرے صندوق تھے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ بے حد کنجوس تھا۔

وہ اپنے نوکروں کو اتنی کم تنخواہ دیتا کہ بیچارے آدھی روٹی کھا کر کام کرتے۔ اگر کوئی ملازم ایک منٹ دیر سے آتا تو آدھے دن کی مزدوری کاٹ لیتا۔

اس کی دکان پر ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ رحیم غریب ضرور تھا مگر بہت ذہین اور خوش مزاج تھا۔ وہ ہر مشکل میں بھی ہنسنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا۔

ایک دن حاجی صاحب نے دیکھا کہ دکان میں چوہے بہت بڑھ گئے ہیں۔ کبھی کپڑے کتر دیتے، کبھی خشک میوہ خراب کر دیتے۔

حاجی صاحب غصے سے چیخا:
“اگر یہ چوہے ختم نہ ہوئے تو سب کی تنخواہ کاٹ لوں گا!”

نوکر ڈر گئے۔ اگلے دن رحیم ایک رنگ برنگا طوطا لے آیا۔

حاجی صاحب حیران ہو کر بولا:
“یہ کیا مذاق ہے؟ میں نے بلی مانگی تھی، تم طوطا لے آئے؟”

رحیم مسکرا کر بولا:
“حاجی صاحب! یہ عام طوطا نہیں۔ یہ چور اور چوہے دونوں پکڑتا ہے!”

حاجی صاحب کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“اچھا؟ پھر تو یہ بہت کام کی چیز ہے!”

اصل میں وہ طوطا صرف دو جملے بولتا تھا:
“چور آیا! چور آیا!”
اور
“حاجی کنجوس! حاجی کنجوس!”

رحیم نے دل میں سوچا:
“بس اب مزہ آئے گا!”

رات کو حاجی صاحب دکان میں سویا تاکہ دیکھ سکے طوطا واقعی کام کرتا ہے یا نہیں۔

آدھی رات ہوئی۔ ایک چوہا بوری کے پیچھے بھاگا۔ طوطا فوراً زور سے چیخا:
“چور آیا! چور آیا!”

حاجی صاحب ہڑبڑا کر اٹھا۔ اندھیرے میں دوڑتے ہوئے اس کا پاؤں تیل کے ڈبے پر پڑا اور وہ پھسل کر سیدھا آٹے کی بوری میں جا گرا۔

پورا جسم آٹے سے سفید ہوگیا۔

اسی وقت طوطا پھر بولا:
“حاجی کنجوس! حاجی کنجوس!”

یہ سن کر باہر سونے والے نوکر ہنسی نہ روک سکے۔

حاجی صاحب غصے سے لال پیلا ہوگیا۔
“اس منحوس طوطے کو باہر نکالو!”

مگر اگلی رات پھر چوہے آگئے۔ اس بار حاجی صاحب نے سوچا کہ ہوشیاری سے کام لے گا۔

وہ آہستہ آہستہ چوہے کے پیچھے گیا، مگر اچانک طوطا پھر چیخا:
“چور آیا!”

حاجی صاحب گھبرا گیا۔ اسے لگا واقعی کوئی چور آگیا ہے۔ وہ ڈنڈا لے کر بھاگا اور اندھیرے میں اپنے ہی عکس کو شیشے میں دیکھ کر چیخ پڑا۔

“بچاؤ! چور!”

اتنے میں اس کا ڈنڈا شیشے پر لگا اور پورا شیشہ ٹوٹ گیا۔

اب تو نوکر پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگے۔

صبح رحیم نے معصوم بن کر پوچھا:
“حاجی صاحب! چور پکڑا گیا؟”

حاجی صاحب شرمندگی سے بولا:
“نہیں… وہ شاید بہت خطرناک تھا!”

طوطا فوراً بولا:
“حاجی کنجوس! حاجی کنجوس!”

یہ سن کر بازار کے لوگ بھی ہنسنے لگے۔

کچھ دن بعد ایک بزرگ دکان پر آئے۔ انہوں نے حاجی صاحب سے کہا:
“کریم بخش! دولت جمع کرنے سے انسان بڑا نہیں بنتا۔ لوگوں کے دل جیتنے سے عزت ملتی ہے۔”

یہ بات حاجی صاحب کے دل پر لگ گئی۔

اس دن اس نے پہلی بار اپنے ملازموں کو اچھا کھانا کھلایا اور تنخواہیں بھی بڑھا دیں۔ سب حیران تھے۔

رحیم نے ہنستے ہوئے طوطے سے کہا:
“لگتا ہے تم واقعی جادوئی ہو!”

طوطا فوراً بولا:
“حاجی اچھا! حاجی اچھا!”

سب لوگ زور زور سے ہنسنے لگے، حتیٰ کہ حاجی صاحب بھی۔

اس دن کے بعد دکان میں سکون ہوگیا۔ نوکر دل لگا کر کام کرنے لگے، چوہے بھی کم ہوگئے، اور کاروبار پہلے سے زیادہ چلنے لگا۔

حاجی صاحب اکثر کہا کرتا تھا:
“میں نے زندگی میں بہت نقصان کیے، مگر سب سے بڑا نقصان لوگوں کے دل دکھانا تھا۔”

سبق:
کنجوسی اور سختی انسان کو اکیلا کر دیتی ہے، جبکہ اچھا اخلاق اور انصاف دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اصلاحی، سبق آموز اور مزاحیہ کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں ۔ شکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner