پرانے زمانے میں گاؤں میں گھڑی ہونا بھی ایک سٹیٹس سمبل ہوا کرتا تھا۔ 😎⌚
چوہدری شیدا کے بھتیجے نے شہر سے آتے ھوئے انہیں ایک ولایتی جیبی گھڑی تحفے میں دی۔
بس پھر کیا تھا!
چوہدری صاحب دن بھر چوپال میں بیٹھے رہتے، گھڑی کان سے لگا کر اس کی “ٹک ٹک” سنتے اور فخر سے کہتے:
“دیکھو بھئی! میرے پاس ایسی مشین ھے جو خود سارا دن بولتی رہتی ھے!” 😂
گاؤں والے بھی حیرت سے گھڑی کو دیکھتے رہتے۔
چند ماہ بعد ایک صبح چوہدری صاحب نے گھڑی کان سے لگائی تو خاموش…
نہ ٹک ٹک…
نہ حرکت…
بڑے پریشان ھوئے!
گھڑی کھولی تو اندر سے ایک مری ھوئی چیونٹی نیچے گر گئی۔ 🐜
چوہدری صاحب نے چیونٹی کو غور سے دیکھا…👁️
پھر گھڑی کو دیکھا…
اور ایک لمبی آہ بھر کر بولے:
“اوئے یارو…!
مشین نے تو رکنا ھی تھا… 😢
بیچارا ڈرائیور ھی مر گیا ھے،
اب گھڑی خاک چلے گی!” 🤣🤣🤣
اتنی معصوم سوچ صرف پرانے لوگوں میں ھی ملتی تھی! ❤️😂
