ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جس کے پاس ایک گدھا تھا۔ یہ کوئی عام گدھا نہ تھا، بلکہ کام چوری کے فن میں یکتا اور بہانوں کے باب میں کامل استاد تھا۔ جب بھی محنت کا وقت آتا، اس کے نت نئے عذر تیار ہوتے۔
ایک دن کسان نے ارادہ کیا کہ بازار لے جانے کے لیے اناج کی بھاری بوریاں گدھے پر لادی جائیں۔ ابھی پہلی بوری کمر پر رکھی ہی تھی کہ گدھا دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں، سانس مدھم کر لی اور یوں بے ہوشی کا ڈرامہ رچایا جیسے برسوں کا بیمار ہو۔
کسان پریشان ہو گیا۔ اس نے گدھے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور افسوس سے بولا:
“ارے بیچارے! آج تو لگتا ہے طبیعت ناساز ہے۔ چلو، آج آرام کر لو، کل کام کر لینا۔”
یہ کہہ کر کسان بظاہر وہاں سے چلا گیا۔
جوں ہی قدموں کی آہٹ دور ہوئی، گدھے نے ایک آنکھ کھولی، پھر دوسری۔ جب یقین ہو گیا کہ میدان صاف ہے تو وہ اٹھ بیٹھا اور اپنی کامیاب چال پر دل ہی دل میں خوب قہقہے لگانے لگا۔
مگر اسے کیا خبر تھی کہ کسان دروازے کے پیچھے کھڑا سب تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ کسان نے کچھ نہ کہا، بس مسکرا کر خاموشی سے واپس چلا گیا۔
اگلی صبح سورج نکلا تو گدھے کو یوں محسوس ہوا جیسے قسمت اس پر مہربان ہے۔ لیکن کسان نے اس کی کمر پر معمول سے دوگنی بوریاں لاد دیں۔ گدھا حیران و پریشان رہ گیا۔
کسان مسکرا کر بولا:
“کل تو تم نے آرام خوب کیا تھا، اس لیے آج دو دن کا کام ایک ہی دن میں کر لو!”
گدھے کو اپنی چالاکی کی قیمت سمجھ آ گئی۔ اس دن کے بعد نہ وہ بے ہوش ہوا، نہ بیمار پڑا، نہ کسی نئی اداکاری کا سہارا لیا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ہر تماشائی سامنے نہیں ہوتا، کچھ پردے کے پیچھے بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔
سبق:
چالاکی اگر حد سے بڑھ جائے تو اپنے ہی گلے کا ہار بن جاتی ہے۔ ڈرامہ کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں کوئی خاموش تماشائی آپ کی ساری اداکاری کا حساب تو نہیں لکھ رہا۔
#منقول
