کہتے ہیں، ایک دفعہ ایک سمندر کا مینڈک کنویں میں گر گیا تھا۔ وہاں اسکی ملاقات کنویں کے مینڈکوں سے ہوئی اور وہ ان سے کافی گھل مل گئی اور محض کچھ لمحوں میں انکی دوستی ہو گئی۔۔۔ کنویں کا مینڈک اس سے پوچھتا ہے کہ یار یہ “سمندر” آخر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ سمندر بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے….. یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک کنویں کا ایک لمبا چکر لگاتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی بڑا اور بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اس پر وہ کنویں کا مینڈک کنویں میں پہلے سے “بہت بڑا” چکر لگا دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے…. یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک کنویں کے بالکل کنارے کنارے جا کر لمبا ترین ممکنہ چکر لگا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا اتنا ہوتا ہے؟؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک بولتا ہے کہ یہ تم جھوٹ بول رہے ہو کیونکہ اس سے بڑی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ہے۔
اس کہانی سے آپ کیا سمجھیں؟ اس کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ ہم جس “ماحول” میں رہتے ہیں، وہ ہم پر بہت حاوی ہوتا ہے اور وہ ہماری “حدود” طے کرتا ہے۔ اسکے باہر ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔۔ اس حوالہ سے “افلاطون کی غار” کی مثال بھی کافی اہم ہے، جس کے مطابق ہماری اکثریت اپنے سامنے ‘”دیوار/سکرین” پر موجود سائے کے علاوہ کچھ بھی دیکھنے سے قاصر ہے حالانکہ “حقیقت” اس سے بالکل مختلف ہے اور غار کے اندر نہیں بلکہ غار سے باہر موجود ہے، یعنی افلاطون کے مطابق ہم انسان بھی محض “کنویں کے مینڈک” کی طرح ہی ہے، جنکو حقیقت محض وہ دکھتی ہے، جو ہماری آنکھوں (کنویں) کے سامنے موجود ہے. اس سے پرے یعنی کنویں سے باہر “اصل حقیقت” کیا ہے تو یہ ہم انسان جانتے ہی نہیں اور جانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
