کوا اور ہنس کی اڑان

کوا اور ہنس کی اڑان

سمندر کے کنارے ایک بڑا سا ہوٹل تھا۔ وہاں روز سیاح آتے، کھاتے پیتے اور بہت سا کھانا ضائع کر جاتے۔

اسی ہوٹل کے آس پاس ایک کوا رہتا تھا۔

مفت کے کھانے کھا کھا کر وہ خوب موٹا تازہ ہو چکا تھا۔ جسم بھاری، آواز اونچی اور غرور آسمان سے بھی بلند۔

وہ جہاں بیٹھتا، دوسرے کوؤں کو حقارت سے دیکھتا اور کہتا:

“تم لوگ عام کوا ہو… میں پرندوں کا بادشاہ ہوں!”

بیچارے دوسرے کوا اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، کیونکہ بحث کرنے سے زیادہ شور وہ کرتا تھا۔

ایک دن دور دراز علاقوں سے ہنسوں کا ایک خوبصورت جوڑا سمندر کے کنارے اترا۔

ان کے پر چاندی کی طرح چمک رہے تھے اور ان کے چہروں پر عجیب سا وقار تھا۔

کوا فوراً اکڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔

گردن ٹیڑھی کی، سینہ پھلایا اور بولا:

“سنا ہے تم لوگ بڑے اڑاکے بنتے ہو؟”

بوڑھا ہنس مسکرایا۔

“ہم تو بس اپنی ضرورت کے مطابق اڑتے ہیں۔”

کوا قہقہہ لگا کر بولا:

“ضرورت کے مطابق؟ ہاہ! مجھے اڑان کے ایک سو ایک طریقے آتے ہیں۔”

“کبھی سیدھا، کبھی الٹا، کبھی گول، کبھی قلابازی، کبھی ہوا میں ناچنا… تم لوگ کیا جانو فنِ پرواز!”

ہنس خاموش رہا۔

کوا بولا:

“ہمت ہے تو مقابلہ کر لو!”

بوڑھے ہنس نے نرمی سے جواب دیا:

“بیٹا! مقابلے انا کے لیے نہیں، صلاحیت جانچنے کے لیے ہوتے ہیں۔”

مگر کوا کہاں ماننے والا تھا۔

آخرکار مقابلہ طے پا گیا۔

اگلی صبح سورج نکلا تو دونوں سمندر کے اوپر اڑنے لگے۔

شروع کے چند منٹوں میں کوا واقعی تماشہ بن گیا۔

کبھی اوپر، کبھی نیچے۔

کبھی دائیں، کبھی بائیں۔

کبھی الٹا، کبھی سیدھا۔

وہ ہر چند لمحوں بعد ہنس کو آواز دیتا:

“یہ دیکھو میری اٹھائیسویں اڑان!”

“یہ دیکھو میری چونتیسویں اڑان!”

“اور یہ میری ستاون ویں اڑان!”

ہنس صرف مسکرا کر سیدھا اڑتا رہا۔

نہ کوئی دکھاوا، نہ کوئی شور۔

بس مسلسل، پُرسکون اور مضبوط پرواز۔

وقت گزرتا گیا۔

ساحل نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

نیچے صرف بے کنار سمندر تھا۔

اب کوے کی سانس پھولنے لگی۔

پر بھاری ہونے لگے۔

آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ قلابازیوں میں جتنی طاقت ضائع کی تھی، وہ اب کام آ سکتی تھی۔

چند لمحوں بعد اس کی چونچ پانی کو چھونے لگی۔

پھر پر بھی نیچے جھکنے لگے۔

ہنس نے مڑ کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا:

“میاں کوے! یہ کون سی اڑان ہے؟”

کوا ہانپتے ہوئے بولا:

“یہ… یہ میری ایک سو دوسری اڑان نہیں…”

“یہ تو میری بربادی ہے!”

اب اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

غرور ٹوٹ چکا تھا۔

وہ روتے ہوئے بولا:

“میں جھوٹ بولتا تھا… مجھے صرف عام اڑان آتی ہے۔”

“مجھے بچا لیجیے… ورنہ میں ڈوب جاؤں گا۔”

بوڑھے ہنس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہ بھری۔

“انا انسان کو اندھا کرتی ہے… اور غرور پرندے کو بھی۔”

پھر اس نے رحم کھاتے ہوئے کوے کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا۔

کوا خاموش تھا۔

وہی کوا جو چند گھنٹے پہلے خود کو پرندوں کا بادشاہ کہتا تھا، اب سر جھکائے بیٹھا تھا۔

جب وہ ساحل پر پہنچے تو کوا زمین پر اترا، کچھ دیر خاموش کھڑا رہا اور پھر بولا:

“آج پہلی بار سمجھ آیا کہ شور مچانا اور قابل ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔”

بوڑھا ہنس مسکرایا اور بولا:

“بیٹا! خالی برتن ہمیشہ زیادہ آواز کرتے ہیں۔”

اس دن کے بعد کسی نے اس کوے کو اپنی تعریفیں کرتے نہیں سنا۔

کیونکہ اسے اپنی اوقات نہیں، اپنی حقیقت معلوم ہو چکی تھی۔

سبق:

زندگی میں وقتی کامیابی، دولت یا شہرت انسان کو مغرور بنا سکتی ہے، لیکن اصل امتحان لمبے سفر میں ہوتا ہے۔

دکھاوے کی اڑان چند لمحے متاثر کر سکتی ہے، مگر مشکلات کے سمندر پار کرنے کے لیے خاموش مہارت، صبر اور تجربہ چاہیے ہوتا ہے۔

یاد رکھیں:

“جو لوگ اپنی تعریف خود کرتے ہیں، اکثر زندگی انہیں خاموش کرنا سکھا دیتی ہے۔”

اختتامی لائن:
“سمندر کے بیچ پہنچ کر پتا چلتا ہے کہ قلابازیاں اہم تھیں یا مسلسل اڑنے کی صلاحیت۔”

Leave a Reply

NZ's Corner