ہوشیاری زندگی بچا سکتی ہے

ہوشیاری زندگی بچا سکتی ہے

اایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک پرسکون تالاب تھا، جہاں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔ وہ اکثر تالاب کے کنارے کی نرم کیچڑ میں چھپ کر سکون سے وقت گزارتے تھے۔

ایک دن ایک بھوکا سانپ وہاں آ پہنچا۔ اس کی نظریں تالاب کے مینڈکوں پر تھیں اور وہ انہیں اپنا شکار بنانا چاہتا تھا۔ چالاکی سے اس نے ایک مینڈک کے قریب جا کر نرم لہجے میں کہا:

“مینڈک بھائی! گھبراؤ نہیں، میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں تمہیں ایک ایسی جگہ لے جانا چاہتا ہوں جو اس تالاب سے زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔”

مینڈک کو سانپ کی بات پر مکمل یقین تو نہ آیا، لیکن وہ سوچنے لگا کہ شاید سانپ سچ کہہ رہا ہو۔ وہ احتیاط سے آہستہ آہستہ کنارے کی طرف بڑھا۔

مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچا، سانپ نے جھپٹ کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔

مینڈک اگرچہ کمزور تھا، لیکن بے وقوف نہیں تھا۔ اس نے فوراً اپنی قدرتی خصوصیت کا فائدہ اٹھایا۔ اپنی پھسلن بھری کرخت جلد اور تیز حرکت کے ذریعے اس نے زور دار جھٹکا دیا اور سانپ کی گرفت سے نکل بھاگا۔

اگلے ہی لمحے وہ تالاب میں چھلانگ لگا کر گہرے پانی میں غائب ہو گیا، جبکہ سانپ حسرت سے اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔

پانی میں محفوظ پہنچ کر مینڈک نے سوچا:

“اگر میں نے اپنی عقل اور قدرتی صلاحیتوں سے کام نہ لیا ہوتا تو شاید آج میری جان نہ بچ پاتی۔”

اس واقعے نے سانپ کو بھی یہ سبق دیا کہ صرف طاقت ہر کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی، بلکہ ہوشیاری اور درست حکمتِ عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔

اخلاقی سبق

ہوشیاری اور اپنی فطری صلاحیتوں کا درست استعمال انسان کو بڑی مصیبتوں سے بچا سکتا ہے۔

ہر میٹھی بات اور خوبصورت وعدہ سچا نہیں ہوتا، اس لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔

کمزور یا چھوٹا ہونے کا مطلب بے بس ہونا نہیں، عقل و دانائی سے بڑے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

زندگی میں عقل، احتیاط اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں پر بھروسہ انسان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner