یوسف بن تاشفین: اندلس کو بچانے والا عظیم مجاہد

یوسف بن تاشفین: اندلس کو بچانے والا عظیم مجاہد

یوسف بن تاشفین مغربِ اسلامی کے عظیم سپہ سالار اور مرابطین سلطنت کے مضبوط حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی سادگی، عدل اور جہاد کے ذریعے شمالی افریقہ اور اندلس کی تاریخ بدل دی۔
انہوں نے اصلاحی و دینی تحریک عبداللہ بن یاسین کی قائم کردہ مرابطین تحریک میں شمولیت اختیار کی، جس کا آغاز تقریباً ۴۴۸ھ / ۱۰۵۶ء میں ہوا تھا اور جس کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو مضبوط کرنا تھا۔ یوسف بن تاشفین نے قیادت سنبھالنے کے بعد آپس میں لڑنے والے امازیغ قبائل کو متحد کیا اور انہیں ایک مضبوط اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں مرابطین سلطنت تیزی سے پھیلی اور موریتانیہ، مراکش، الجزائر کے کچھ علاقے اور سینیگال کے حصے ان کی حکومت میں شامل ہو گئے، بعد میں اندلس بھی ان کی سلطنت میں شامل ہو گیا۔
انہوں نے ۴۵۴ھ / ۱۰۶۲ء میں شہر مراکش کی بنیاد رکھی اور اسے مرابطین سلطنت کا دارالحکومت بنایا، جو جلد ہی علم، تجارت اور اسلامی تہذیب کا بڑا مرکز بن گیا۔
جب اندلس کے مسلمان حکمران عیسائی طاقتوں کے دباؤ میں آ گئے تو انہوں نے یوسف بن تاشفین سے مدد طلب کی۔ چنانچہ وہ ۴۷۹ھ / ۱۰۸۶ء میں اندلس پہنچے اور معرکۂ زلاقہ میں قشتالہ کے بادشاہ الفونسو ششم کو زبردست شکست دی۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً ۷۹ سال تھی۔
اس عظیم فتح کے بعد انہوں نے اندلس کو عیسائی حملوں سے بچایا اور وہاں کے ملوک الطوائف کی کمزور اور فاسد حکومتوں کو ختم کر کے پورے اندلس کو ایک مضبوط اسلامی اقتدار کے تحت متحد کر دیا، جس کے باعث اندلس کا زوال تقریباً چار سو سال تک مؤخر ہو گیا۔
یوسف بن تاشفین نہایت سادہ زندگی گزارنے والے حکمران تھے۔ وہ محلات کی بجائے خیموں میں رہنا پسند کرتے تھے اور اکثر اپنی فوج کے ساتھ میدانِ جنگ میں موجود رہتے تھے۔
آخرکار یہ عظیم مجاہد ۵۰۰ھ / ۱۱۰۶ء میں تقریباً سو برس کی عمر میں وفات پا گئے اور اپنے پیچھے ایک طاقتور اسلامی سلطنت چھوڑ گئے جو مغرب سے اندلس تک پھیلی ہوئی تھی۔

Leave a Reply

NZ's Corner