“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟”
دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہے تھے، جو حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کے بعد موصول ہوا تھا۔
“اگر میں تمہاری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تمہاری گردن اتار دیتا۔”
یہ الفاظ سن کر دروان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ خوف کے باوجود اس نے اپنا سامانِ جنگ تیار کیا اور ساتھیوں کے ساتھ اجنادین روانہ ہو گیا۔
اجنادین پہنچ کر اس نے دیکھا کہ پورا علاقہ سپاہیوں سے بھرا ہوا ہے۔ شہنشاہ روم نے اسے تمام افواج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ دروان نے سب سپاہیوں کو ہتھیار تیار کرنے کا حکم دیا اور لشکر لڑائی کے لیے تیار ہو گیا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ کے سپاہیوں کو خبر ملی کہ نوے ہزار رومی لشکر اجنادین کی طرف روانہ ہو چکے ہیں اور ان کا سپہ سالار وہی دروان ہے جسے آپ نے پہلے شکست دی تھی۔ فوراً آپ نے دیگر اسلامی سپہ سالاروں کو خطوط لکھے اور اپنی افواج کے ساتھ دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ کیا۔
اسلامی لشکر نے سامان باندھا، خیمے، مال اور جانور سمیٹے اور چلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ پیچھے رہ کر خواتین اور بچوں کی حفاظت کر رہے تھے، جبکہ حضرت امین الامۃ ؓ آگے قیادت کر رہے تھے۔
اہلِ دمشق نے مسلمانوں کے محاصرہ ختم کرکے رخصت ہوتے دیکھا تو خوشی سے چیخنے چلانے لگے۔ بولص بن بلقا، رومی لشکر کا ایک طاقتور سپہ سالار، اہلِ دمشق کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا تعاقب کرنے نکلا۔ لیکن اسلامی لشکر کی بہادری اور ذہانت نے بولص اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لیا۔
میدانِ جنگ میں خواتینِ اسلام نے بھی اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا، دشمن پر چوبیں چلائیں اور اسلامی سپاہیوں کے لیے راہ ہموار کی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ اور دیگر سالاروں کی قیادت میں مسلمانوں نے دشمن کو شکست دی، بچوں اور خواتین کو محفوظ کیا اور مال و اسباب بھی بچا لیا۔
ضرار بن ازور ؓ نے بولص کے بھائی پطرس کا سر قلم کیا اور فتح کا نعرہ بلند کیا۔ مسلمان اپنی حفاظت شدہ خواتین اور بچوں کو دیکھ کر خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے بولص کو اسلام کی دعوت دی مگر وہ انکار کر گیا، اور اپنی خواہش کے مطابق اپنے بھائی کے پاس پہنچایا گیا۔
یہ فتوحات شام کے تاریخی لمحات ہیں، جہاں ایمان، بہادری اور حکمت نے دشمن کی طاقت کو شکست دی۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں ❤️
#فتوحات_شام #حضرت_خالد_بن_ولید #اسلامی_تاریخ
