😂 چارپائی، چور اور لالچی پڑوسی! 😂

😂 چارپائی، چور اور لالچی پڑوسی! 😂

گاؤں کچا بھاگو میں اللہ دتہ نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اپنی حاضر جوابی اور شرارتوں کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کا ایک پڑوسی بھی تھا جس کا نام منیر تھا۔ منیر کی ایک بری عادت تھی، دوسروں کے گھر جھانکنا اور ہر وقت یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ کس کے گھر کیا ہو رہا ہے۔ اگر کسی کے گھر کوئی نئی چیز آ جائے تو رات تک پورے گاؤں میں خبر پھیلا دیتا تھا۔ 😄

ایک دن اللہ دتہ نے مذاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جان بوجھ کر گاؤں کے چند لوگوں کے سامنے کہا، “آج رات میرے گھر ایک بہت بڑا خزانہ آنے والا ہے، بس کسی کو خبر نہ ہو!” یہ بات سنتے ہی منیر کے کان کھڑے ہو گئے۔ شام ہوتے ہی وہ اپنے گھر کی بجائے دیوار کے ساتھ کان لگا کر بیٹھ گیا کہ دیکھوں آخر خزانہ آتا کیسے ہے۔ 🤭

رات کافی گزر گئی۔ اللہ دتہ نے صحن میں ایک پرانی چارپائی رکھی، اس پر ایک بوسیدہ صندوق رکھا اور اوپر سے چادر ڈال دی۔ پھر جان بوجھ کر اونچی آواز میں اپنی بیوی سے بولا، “دیکھنا! اس صندوق کا خاص خیال رکھنا، اس میں بہت قیمتی سامان ہے!” منیر نے یہ سنا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ 😆

آدھی رات ہوئی تو منیر دبے پاؤں دیوار پھلانگ کر صحن میں داخل ہوا۔ ادھر ادھر دیکھا، سب سوئے ہوئے تھے۔ وہ خوشی خوشی صندوق اٹھانے لگا، مگر صندوق اتنا بھاری تھا کہ خود بھی لڑکھڑا گیا۔ بڑی مشکل سے اسے کندھے پر رکھا اور جیسے ہی بھاگنے لگا، اچانک چارپائی کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ زور دار دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ پورے صحن میں ایسی آواز گونجی کہ مرغے بھی وقت سے پہلے بانگ دینے لگے۔ 😂

شور سن کر اللہ دتہ اٹھ بیٹھا، مگر غصہ کرنے کے بجائے ہنسی روک کر بولا، “ارے بھائی! اگر صندوق ہی لے جانا تھا تو پہلے بتا دیتے، ہم دو آدمی مل کر اٹھا دیتے!” یہ سن کر منیر کی حالت پتلی ہو گئی۔ وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اللہ دتہ نے صندوق کھول دیا۔ اندر سے صرف اینٹیں، پرانے جوتے، ٹوٹا ہوا لوٹا اور ایک پرچی نکلی، جس پر لکھا تھا: “لالچ کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے!” 🤣

پورا گاؤں جمع ہو گیا۔ سب لوگ منیر کو دیکھ کر ہنس ہنس کر دوہرے ہو رہے تھے۔ ایک بزرگ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، “زندگی میں پہلی بار ایسا چور دیکھا ہے جو خزانے کی جگہ اینٹیں چرانے آیا تھا!” منیر شرمندگی سے سر جھکائے وہاں سے بھاگا، جبکہ کئی دن تک بچے اسے دیکھتے ہی کہتے، “اوئے خزانہ والا چور آ گیا!” 😂

اس دن کے بعد منیر نے دوسروں کے گھروں میں جھانکنا چھوڑ دیا، اور اللہ دتہ کی یہ شرارت پورے گاؤں میں سالوں تک ہنسی کا موضوع بنی رہی۔ آج بھی جب کوئی حد سے زیادہ لالچ کرے تو گاؤں والے مسکرا کر کہتے ہیں، “بھائی! کہیں اینٹوں والا صندوق نہ مل جائے!” 😄😂

Leave a Reply

NZ's Corner