ایک بادشاہ تھا
جو ہر روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر
اپنی شان دیکھتا تھا۔
ایک دن اس نے حکم دیا
کہ ملک کا سب سے بڑا آئینہ لایا جائے
تاکہ وہ خود کو
اور بھی عظیم دیکھ سکے۔
آئینہ آیا۔
بادشاہ نے دیکھا
چہرہ وہی تھا
مگر آنکھوں میں تھکن جھلک رہی تھی۔
اس نے غصے میں آئینہ توڑ دیا۔
کچھ دن بعد
ایک درویش دربار میں آیا
اور بولا
“حضور
آئینہ تو نہیں ٹوٹا،
صرف وہم ٹوٹا ہے۔”
بادشاہ خاموش ہو گیا۔
حاصلِ سبق
آئینہ
چہرہ دکھاتا ہے
مگر حقیقت
دل میں چھپی ہوتی ہے۔
جو سچ سے بھاگے
وہ تصویر توڑتا ہے
خود کو نہیں بدلتا۔
