اللّٰہ پر بھروسہ…!

اللّٰہ پر بھروسہ…!

پھانسی گھاٹ کا راستہ صاف نظر آ رہا تھا، مگر اس 25 سالہ نوجوان کے چہرے پر خوف کے بجائے ایسی مسکراہٹ تھی جس نے مجھ جیسے سخت گیر اور پتھر دل ڈیوٹی افسر کے بھی پسینے چھڑا دیے تھے!
حوالات کی سلاخوں کے پیچھے وہ سجدے میں گرا گڑگڑا رہا تھا۔ اس پر ایک لرزہ خیز قتل کا الزام تھا، ثبوت اور گواہ سب اس کے خلاف تھے اور چند دنوں میں اسے سزائے موت سنائی جانی تھی۔ میں شروع دن سے اس کے ساتھ انتہائی درشتگی سے پیش آ رہا تھا، مگر وہ جواب میں ہمیشہ مسکرا کر بات کرتا۔
ایک دن جب وہ دعا مانگ کر اٹھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے تلخ لہجے میں پوچھا: “تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ چند دن بعد تمہیں پھانسی کا پھندا پہنا دیا جائے گا۔ تم نے قتل کیا ہی کیوں؟”
اس نے بڑی پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا اور بولا: “سر! ایک بے گناہ کا قتل تو پوری انسانیت کا قتل ہے۔ میں نے کوئی خون نہیں کیا۔” اس نے بتایا کہ علاقے کے ایک انتہائی طاقتور اور بااثر شخص نے خون کر کے سارا الزام اس پر ڈال دیا ہے اور جھوٹے گواہ بھی خرید لیے ہیں۔
مجھے اس کی معصومیت پر ترس آیا، میں نے پوچھا: “تو پھر تم اتنے مطمئن کیوں ہو؟ کیا تمہارے گھر والوں نے کوئی وکیل نہیں کیا؟”
اس کی اگلی بات نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور پر یقین لہجے میں کہا: “سر! میں نے اپنا کیس اس وکیل کے حوالے کر دیا ہے جس کی عدالت میں گواہ خریدے نہیں جاتے۔ میں نے اس کے روبرو اپنی عرضی رکھ دی ہے، اب وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا!”
میں حیرت سے اس کا چہرہ تکتا رہ گیا کہ موت سامنے کھڑی ہے اور اسے اپنے خدا پر کتنا اندھا یقین ہے۔ تین دن بعد اس کی بوڑھی ماں ملنے آئی اور رو رو کر نڈھال ہو گئی، مگر وہ بیٹا مسلسل اسے تسلیاں دیتا رہا کہ “میرا اللہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا، آپ بس تماشا دیکھیں۔”
اور پھر… عدالت میں آخری پیشی سے ٹھیک ایک رات پہلے قدرت کا ایسا تماشا لگا کہ عقلیں دنگ رہ گئیں!
جس بااثر شخص نے قتل کر کے اس معصوم کو پھنسایا تھا، وہ اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کے ساتھ ہائی وے پر جا رہا تھا کہ اس کی قیمتی گاڑی کو ایک خوفناک حادثہ پیش آیا۔ بیوی اور بچہ موقع پر ہی کٹ کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ وہ خود گاڑی کے ملبے میں بری طرح کچلا گیا۔
اسے ہسپتال لایا گیا، اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ جب اسے اپنی بیوی اور بچے کی موت کا پتہ چلا تو قدرت کا خوف اس پر طاری ہو گیا۔ موت کے اس خوفناک پہر میں اسے وہ حوالات میں قید بے گناہ نوجوان یاد آیا۔ اس نے چیخ چیخ کر ڈاکٹر کو بلایا اور کہا کہ میرا ویڈیو بیان ریکارڈ کرو۔ اپنی آخری سانسوں میں اس نے ہاتھ جوڑ کر کیمرے کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور روتے ہوئے بولا: “اس بے گناہ کو چھوڑ دو، میں نے اسے پھنسایا تھا… ورنہ میرا خدا مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا!” یہ ویڈیو بیان ریکارڈ کرواتے ہی اس کی گردن ڈھلک گئی اور وہ مر گیا۔
اگلے دن عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا تھا۔ جج کے سامنے وہ ویڈیو چلائی گئی۔ پورے کمرے میں موت جیسی خاموشی تھی، صرف ایک آواز آ رہی تھی… اور وہ اس نوجوان کی بیڑیاں اور ہتھکڑیاں کھلنے کی آواز تھی۔
باعزت بری ہونے کے بعد جب وہ لڑکا اپنی روتی ہوئی ماں کے گلے لگ رہا تھا، تو میں گم صم کھڑا بس آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا کہ واقعی… جب انسان کا یقین کامل ہو، تو خدا بند دروازوں سے بھی ایسے راستے نکالتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے!
ہماری تحریر اچھی لگے تو دوستوں کے ساتھ شئیر کریں۔ اور پیج کو فالو ضرور کر لیں۔ شکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner