پرانے اناج گھر کی تاریک دیواروں کے بیچ ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ پیدائشی اندھا تھا۔ دنیا کے رنگ، روشنی کی چمک اور سایوں کا کھیل اس کے لیے محض کہانیاں تھیں۔ مگر قدرت نے اس کی محرومی کا کچھ ازالہ کر دیا تھا؛ اس کے کان غیرمعمولی طور پر تیز تھے اور وہ ہوا کی ہلکی سی جنبش تک محسوس کر لیتا تھا۔
دوسرے چوہے اکثر اس کے گرد جمع ہوتے اور حیرت سے پوچھتے:
“تمہیں بلی کا خوف نہیں لگتا؟ تم تو اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔”
اندھا چوہا اعتماد سے مسکراتا اور کہتا:
“دیکھ نہیں سکتا، مگر پہچان لیتا ہوں۔ جب بلی آتی ہے تو اس کے قدموں سے ہوا کی رفتار بدل جاتی ہے۔ دیواروں کی خاموشی میں ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ میں ہوا کی زبان سمجھتا ہوں۔”
یہ سن کر دوسرے چوہے مطمئن ہو جاتے۔ رفتہ رفتہ اندھے چوہے کو بھی اپنے اس ہنر پر ناز ہونے لگا۔ اسے یقین ہو گیا کہ کوئی بلی اسے دھوکا نہیں دے سکتی۔
مگر زمانے کے پاس ہمیشہ ایک نیا امتحان ہوتا ہے۔
ایک شام اناج گھر پر گہری خاموشی اتری ہوئی تھی۔ سورج ڈھل چکا تھا اور اندھیرا دیواروں کے کاندھوں پر سر رکھے سو رہا تھا۔ اسی وقت ایک بلی وہاں داخل ہوئی۔
وہ عام بلیوں جیسی نہ تھی۔
اس کے قدم روئی کی مانند نرم تھے، سانس دھیمی تھی اور حرکت ایسی خاموش کہ گویا سایہ زمین پر سرک رہا ہو۔ وہ اتنی ہلکی تھی کہ اس کی آمد سے ہوا کی ایک لہر تک نہ اٹھی۔
اندھا چوہا حسبِ عادت بیٹھا ہوا ہوا کے اشاروں کا انتظار کرتا رہا۔
مگر ہوا خاموش تھی۔
اسے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا۔
اگلے ہی لمحے بلی بجلی کی طرح جھپٹی اور اس کے پنجوں میں قید ہو گیا۔
زندگی کی آخری سانسیں اس کے سینے میں ٹوٹنے لگیں۔ دوسرے چوہے خوف زدہ ہو کر اپنے بلوں میں چھپ گئے۔ اندھے چوہے نے دھندلاتی ہوئی آواز میں کہا:
“میں سمجھتا تھا کہ میں بلی کو جانتا ہوں۔ میں ہوا پر بھروسہ کرتا رہا… مگر آج معلوم ہوا کہ کچھ بلیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہوا کو ساتھ لیے بغیر آتی ہیں۔”
یہ کہہ کر اس کی آواز خاموشی میں گم ہو گئی۔
اور اناج گھر کی تاریک دیواروں نے اس دن ایک گہرا سبق سیکھا:
جو شخص اپنی کمزوری کو ہی اپنی طاقت سمجھ بیٹھتا ہے، وہ اکثر سب سے بڑے دھوکے کا شکار ہوتا ہے۔ کیونکہ دشمن ہمیشہ وہی راستہ اختیار نہیں کرتا جس کی تم توقع کرتے ہو؛ بعض اوقات وہ تمہارے علم، تمہارے تجربے اور تمہارے اعتماد سے بھی زیادہ چالاک نکلتا ہے
