انصاف نگر

انصاف نگر

کہتے ھیں ایک گرو اور اس کا چیلہ سفر کرتے ھوئے ایک عجیب شہر پہنچے۔

لوگوں نے بتایا:

“یہ انصاف نگر ھے…”

پھر ہنس کر بولے:

“نام انصاف نگر ھے مگر یہاں انصاف صرف تختی پر لکھا ھے!” 😅

دونوں بازار گئے۔

پتہ چلا کہ آٹا، گھی، دودھ، تیل، دال ہر چیز ایک ھی قیمت پر! 😕😆

چیلہ خوشی سے بولا:

“گرو جی! اس سے سستا اور بہترین شہر کہیں نہیں ھوگا، ھم یہیں رہتے ھیں!”

گرو نے مُسکرا کر کہا:

“بیٹا! جہاں ہر چیز کی ایک ھی قیمت ھو، وہاں انصاف نہیں عقل کی کمی ھوتی ھے!”

مگر چیلہ نہ مانا۔

چند دن بعد دونوں عدالت جا پہنچے۔

ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا۔

ایک چور عدالت میں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا:

“ھم چوری کرنے گئے تھے، دیوار گر گئی، میرا ساتھی مر گیا مجھے انصاف چاہیے!” 😂

بس پھر کیا تھا…

مہاجن نے معمار پر الزام لگایا کہ اس نے دیور کچی بنائی تھی 😕

معمار نے مزدور پر الزام لگا دیا کہ اس نے کام ٹھیک نہیں کیا 🙄

مزدور نے سقّا پر الزام لگایا کہ اُس نے سیمٹ میں پانی ٹھیک سے نہیں مِلایا 🤔

سقّا نے ہاتھی والے کو قصوروار ٹھہرایا کہ ہاتھی کی آواز نے میرا دھیان کھینچ لیا 😯

ہاتھی والے نے ایک عورت کو قصوروار ٹھہرایا کہ اِس کے پاؤں کی چھن چھن سے میرا ہاتھی گمراہ ھو گیا 😂

اور عورت نے سنار کو قصوروار بنا دیا کہ اس نے میری پائل زیادہ بھاری بنا دی 🤦‍♂️

آخر عدالت نے فیصلہ سنایا:

“سنار کو پھانسی دی جائے!”

مگر جب سنار کو تختۂ دار پر لایا گیا تو معلوم ھوا…

پھانسی کا پھندا اس کی گردن سے بڑا ھے! 😅

بادشاہ بولا:

“کوئی موٹا آدمی پکڑ کر لاؤ!”

لوگوں نے دیکھا…

سب سے موٹا تو گرو کا چیلہ تھا! 😳

چیلے کے تو ھوش اُڑ گئے۔

گرو نے آہستہ سے کہا:

“میں نے پہلے ھی کہا تھا، یہ انصاف نہیں، تماشہ ھے!” 🤣

😄 سبق:
جہاں انصاف عقل کے بجائے تماشہ بن جائے، وہاں انجام اکثر یہی ھوتا ھے۔

Leave a Reply

NZ's Corner