انصاف کی جیت

انصاف کی جیت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں جہاں ہر جانور صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچتا تھا، ایک شیر لوہے کے بھاری پنجرے میں قید ہو گیا۔ کئی دن تک بھوکا پیاسا رہنے کے بعد جب وہ بالکل مایوس ہو گیا، تو اس نے مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک بھیڑ کا گزر ہوا۔
شیر نے فوراً اپنی باتوں کے جال میں پھنسانا شروع کیا۔ وہ منت سماجت کرتے ہوئے بولا، “خدا کے لیے مجھے باہر نکالو۔ میں اپنی شاہی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ مجھے بس اپنی آزادی چاہیے۔”
بھیڑ اتنی بھی نادان نہیں تھی۔ وہ ہچکچائی کیونکہ وہ شیر کی فطرت سے واقف تھی، لیکن شیر نے اس قدر بے چارگی کا ناٹک کیا کہ بھیڑ کا دل پگھل گیا۔ اس نے پنجرے کی کنڈی کھول دی اور پیچھے ہٹ گئی۔
جیسے ہی دروازہ کھلا، شیر نے “شکریہ” کہنے کے بجائے اپنی بھوک کی ماری فطرت دکھائی اور بھیڑ پر جھپٹ پڑا۔
بھیڑ نے بچتے ہوئے چیخ کر کہا، “رکو! تم نے تو وعدہ کیا تھا! ہمارے درمیان معاہدہ ہوا تھا!”
اس بات پر بحث چھڑ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں جنگل کے دوسرے جانور بھی جمع ہو گئے۔ شیر اور بھیڑ دونوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ زیادہ تر جانور شیر سے ڈرتے تھے۔ وہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ شیر کی باتوں میں ہاں میں ہاں ملانے لگے اور اس کی دھوکہ دہی کے بہانے تراشنے لگے۔
صرف ایک کچھوا تھا جو بالکل پرسکون رہا اور اس نے کسی کی طرفداری نہیں کی۔
کچھوے نے اپنی عینک سے دیکھتے ہوئے کہا، “مجھے یہ سارا معاملہ سمجھنے میں ذرا مشکل ہو رہی ہے۔ میں دیکھ کر ہی کسی نتیجے پر پہنچتا ہوں۔ ذرا مجھے دوبارہ سمجھائیں، جب بھیڑ یہاں آئی تو شیر اصل میں کہاں تھا؟”
شیر نے بڑے غرور سے کہا، “ظاہر ہے، میں پنجرے کے اندر تھا۔”
کچھوے نے سر ہلاتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ لیکن ریکارڈ کے لیے مجھے یہ منظر دیکھنا پڑے گا۔ کیا تم ایک سیکنڈ کے لیے دوبارہ اندر جاؤ گے تاکہ مجھے پوری بات سمجھ آ جائے؟”
شیر کو پورا یقین تھا کہ سب جانور اس کے قبضے میں ہیں، اس لیے وہ دوبارہ پنجرے کے اندر چلا گیا۔ جیسے ہی اس کی دم اندر ہوئی، کچھوے نے فوراً دروازہ بند کیا اور کنڈی چڑھا دی۔
پورا جنگل خاموش ہو گیا۔ دوسرے جانوروں نے حیرت سے کچھوے کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی، “تم نے ایسا کیوں کیا؟”
کچھوے نے ان سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
“اگر ہم نے شیر کو آج بھیڑ کو کھانے کی اجازت دے دی صرف اس لیے کہ وہ طاقتور ہے، تو یاد رکھو کہ وہ کل پھر بھوکا ہوگا۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ اگلی باری کس کی ہوگی؟ کیا تمہاری نہیں؟”
نتیجہ (لبِ لباب)
کبھی بھی ناانصافی کو دیکھ کر اس لیے نظر انداز نہ کریں کہ وہ “آپ کا مسئلہ” نہیں ہے۔ ناانصافی ایک ایسی ڈھلان ہے جس پر ایک بار پھسل گئے تو رکنا مشکل ہے۔ آج اگر بھیڑ کا شکار ہوا ہے، تو کل آپ کی باری ہو سکتی ہے۔
ہمیشہ حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھیں، چاہے سامنے والا کتنا ہی بڑا ظالم کیوں نہ ہو۔ معاشرے کا تحفظ سچائی کے تحفظ سے شروع ہوتا ہے۔ #سچائی #سبق #زندگی #حقیقت #کہانی #انصاف

Leave a Reply

NZ's Corner