انصاف کی لکیر

انصاف کی لکیر

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ اپنے محل سے نکل کر اکثر شہر اور دیہات کا دورہ کیا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی رعایا کے حالات کو خود دیکھے اور سمجھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں اور وزیر کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر دیہات کی طرف جا رہا تھا۔
راستے میں اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک کمہار اپنے گدھوں کو ایک لمبی قطار میں لے جا رہا تھا۔ سب گدھے نہایت ترتیب سے، سیدھی لائن میں چل رہے تھے۔ نہ کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور نہ ہی کوئی ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔
بادشاہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔
اس نے اپنے گھوڑے کو روکا اور کمہار کو آواز دی۔
“اے کمہار! ذرا ٹھہرو۔”
کمہار فوراً رک گیا اور ادب سے جھک کر سلام کیا۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان گدھوں کو اتنی ترتیب سے چلنا کیسے سکھایا ہے؟ یہ ایک قطار میں کیسے چل رہے ہیں؟”
کمہار نے نہایت سادگی سے جواب دیا
“جہاں پناہ! بات بہت آسان ہے۔ جو گدھا لائن توڑنے کی کوشش کرتا ہے، میں اسے فوراً سزا دیتا ہوں۔ بس پھر باقی سب خوف سے سیدھا چلتے ہیں۔”
بادشاہ نے حیرت سے وزیر کی طرف دیکھا اور پھر کمہار سے کہا
“اگر تم گدھوں کو اس طرح سیدھا رکھ سکتے ہو تو کیا تم ہمارے ملک میں بھی نظم و ضبط قائم کر سکتے ہو؟”
کمہار نے کچھ لمحے سوچا، پھر ادب سے بولا
“جہاں پناہ! اگر آپ حکم دیں تو میں پوری کوشش کروں گا۔”
بادشاہ کو اس کی سادگی اور اعتماد پسند آیا۔ اس نے وہیں اعلان کر دیا کہ آج سے کمہار کو شہر کا قاضی اور منصف مقرر کیا جاتا ہے۔
وزیر اور درباری یہ سن کر حیران رہ گئے۔ مگر بادشاہ کا حکم تھا، اس لیے کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اگلے دن کمہار اپنی نئی کرسی پر بیٹھا تھا۔ عدالت لگی ہوئی تھی اور لوگ اپنے مقدمات لے کر آ رہے تھے۔
کچھ ہی دیر میں سپاہی ایک شخص کو باندھ کر عدالت میں لے آئے۔
سپاہی نے کہا
“جناب! یہ شخص چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ گواہ بھی موجود ہیں۔”
کمہار نے سنجیدگی سے مقدمہ سنا۔ گواہوں نے بیان دیا اور ثبوت بھی پیش کیے۔
کمہار نے کچھ دیر سوچا اور پھر زور سے کہا
“قانون کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔”
یہ سن کر عدالت میں سناٹا چھا گیا۔
جلاد آگے بڑھا مگر اس نے وزیر کی طرف دیکھا۔ وزیر کے چہرے پر عجیب سی پریشانی تھی۔
جلاد آہستہ سے کمہار کے قریب آیا اور اس کے کان میں بولا
“جناب! ذرا احتیاط کریں۔ یہ آدمی وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔”
کمہار نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دوبارہ کہا
“میں نے کہا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو۔”
یہ سن کر وزیر خود اپنی جگہ سے اٹھا اور کمہار کے قریب آ کر آہستہ سے بولا
“جناب! آپ نئے نئے آئے ہیں، اس لیے آپ کو کچھ باتوں کا علم نہیں۔ یہ شخص میرا خاص آدمی ہے۔ اسے چھوڑ دیں۔ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔”
کمہار نے وزیر کی بات غور سے سنی۔ پھر اس نے پورے دربار کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں کہا
“وزیر صاحب! اگر قانون صرف کمزوروں کے لیے ہو اور طاقتوروں کے لیے نہ ہو تو پھر ملک میں انصاف کیسے قائم ہوگا؟”
وزیر خاموش ہو گیا۔
کمہار نے دوبارہ جلاد کو حکم دیا
“چور کے ہاتھ کاٹ دو۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔”
دربار میں بیٹھے لوگ حیران تھے۔ کسی نے اس سے پہلے ایسی جرات نہیں دیکھی تھی۔
جلاد نے حکم کی تعمیل کی۔
اس واقعے کی خبر چند ہی دنوں میں پورے شہر میں پھیل گئی۔
لوگ کہنے لگے
“یہ منصف واقعی انصاف کرتا ہے۔ اسے کسی کا خوف نہیں۔”
چند ہی ہفتوں میں شہر میں چوری اور جرم بہت کم ہو گیا۔
بادشاہ نے جب یہ خبر سنی تو وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے کمہار کو دربار میں بلایا۔
بادشاہ نے کہا
“تم نے واقعی وہی کیا جو تم نے گدھوں کے بارے میں کہا تھا۔ سزا کے خوف سے سب سیدھا چلنے لگے ہیں۔”
کمہار نے عاجزی سے جواب دیا
“جہاں پناہ! گدھے ہوں یا انسان، اگر قانون سب کے لیے برابر ہو تو سب سیدھا چلتے ہیں۔ اگر کچھ لوگوں کو رعایت دی جائے تو پھر کوئی بھی قانون کی پرواہ نہیں کرتا۔”
بادشاہ نے مسکرا کر کہا
“آج تم نے مجھے بھی ایک سبق دیا ہے۔”
اس دن کے بعد بادشاہ نے پورے ملک میں یہی اصول نافذ کر دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔
کہتے ہیں کہ اسی انصاف کی وجہ سے وہ سلطنت کئی سالوں تک امن اور خوشحالی کی مثال بنی رہی۔
سبق:
جب قانون سب کے لیے برابر ہو اور انصاف بغیر خوف و دباؤ کے کیا جائے تو معاشرے میں امن خود بخود قائم ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner