وہ سب سے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا.. اس نے گھوم کر چاروں طرف دیکھا اس کے ایک طرف مشرق تھا جہاں سے سورج نکلتا تھا.. افق سے جہاں سے سورج نکلتا تھا وہاں تک اس کی بادشاھت تھی.. اس دوسری جانب مغرب تھا جہاں سورج غروب ھوتا تھا. زمین کے اس کنارے تک جہاں تک سورج ڈوبتا دکھائی دیتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی.. اس کے تیسری طرف سمندر دکھائی دیتا تھا.. سمندر کا پانی جہاں تک نظر آتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. اس کے چوتھی جانب پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا. یہ سلسلہ کوہ جہاں تک دکھائی پڑتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا صحرا تھا. اس صحرا کے ریت کے ذرے ذرے پر اس کی بادشاھت تھی.. دنیا بھر کے جنگلوں صحراؤں سمندروں پہاڑوں خشکی کے میدانوں وادیوں اور دریاؤں پر اس کی عملداری تھی اس سے پہلے اتنی بڑی بادشاھت کسی کو نصیب نہیں ہوئی تھی. اس وقت پوری دنیا میں موجود ھر انسان اس کی حکمرانی میں تھا.. اس کی عالمی حکومت میں پوری دنیا شامل تھی..
اس کی بادشاھت بہت بڑی تھی. دنیا کی پہلی اور واحد سپر پاور کا اعزاز اسی کے ملک کو حاصل تھا دوسری خاص بات یہ تھی کہ اس کے پاس تاریخ کی سب سے بڑی آرمی تھی. یعنی دنیا کی کل آبادی اسوقت ڈیڑھ کروڑ تھی اور یہ ساری کی ساری آبادی اس کی فوج تھی کیونکہ اس نے ھر شخص کو فوجی ٹریننگ دے رکھی تھی. لیکن پوری دنیا میں اس کے مقابلے میں کوئی بھی نہیں تھا.. اس نے ایک بار پھر اپنے اردگرد پوری دنیا پر نگاہ ڈالی اور پھر اپنے سامنے زمین پر موجود انسانوں کی مختصر سی ایک جماعت پر نظر ڈالی.. انسانوں کی وہ چھوٹی سی معمولی جماعت پہاڑ کی بلندی سے کیڑوں مکوڑوں جیسی ننھی منی نظر آتی تھی.. اس نے نفرت اور حقارت سے پہاڑ کی چوٹی پر زور سے پاؤں مارا اور پھر بلند آواز میں بولا.. سنو اور غور سے چاروں طرف دیکھو.. ھر طرف میری بادشاھی ھے. ھر طرف میرا ہی ڈنکا بجتا ھے میرے مقابلے میں کوئی بھی نہیں ھے اور نہ ھو سکتا ھے.. پھر وہ چند لمحے رکا اور پھر اسی طرح بلند اور گرجدار آواز میں بولا… میں خدا ھوں.. یہ کر وہ خاموش ھو گیا. اب پہاڑوں وادیوں اور چٹانوں میں اس کا آخری جملہ گونج رہا تھا. میں خدا ھوں.. میں خدا ھوں.. میں خدا ھوں… وہ اپنی آواز کی بازگشت سن رہا تھا اور تکبر کے ساتھ مسکرا رہا تھا.. جب کئی منٹ بعد اس کی آواز کی بازگشت رکی تو ایک بار پھر بلند آواز میں اسی جماعت سے مخاطب ہو کر بولا.. میں خدا ھوں.. لیکن تمہارا دعویٰ ہے کہ میرے علاوہ بھی کوئی خدا ھے جسے تم اپنا خدا کہتے ھو اور دعویٰ کرتے ھو کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ طاقتور ہے تو پھر جاؤ اس کی فوج کو لے آؤ اور میری فوج سے اس کی فوج کی جنگ کروا لو.. اگر تمہارے رب کی فوج نے میری فوج کو شکست دے دی تو میں دعویٰ ربوبیت سے ھمیشہ کے لیے باز آ جاؤں گا اور اگر میری فوج نے تمہارے رب کی فوج کو ھرا دیا تو آج کے بعد تم میری خدائی کو چیلنج نہیں کرو گے. بلکہ تم بھی میرے خدا ھونے کا اقرار کرو گے..
نیچے پہاڑ کے دامن میں کھڑی جماعت کی قیادت کرنے والے نے بہت ہی ہموار اور مضبوط لہجے میں اس کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے منظور ہے. تم جب اپنی افواج کو مقابلے کے لیے تیار کر لو تو اگلے روز مجھے بتا دینا میرے رب کی فوج پہنچ جائے گی.. .. پہاڑ پر کھڑے دیو قامت شخص کو ایک ایک لفظ اپنے کانوں کے پاس سنائی دیا…
اسے یقین تھا کہ اس دنیا میں خدا کے ماننے والوں کی اس وقت تعداد زیادہ سے زیادہ چند ھزار افراد سے زیادہ نہیں تھی. وہ چند ھزار افراد بھی عورتوں بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل تھے جن کے پاس کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں تھا اس لیے اس کی فوج کے ساتھ دور دور تک کسی جنگ کے کوئی امکانات نہیں تھے. لیکن اب وہ اس مٹھی بھر جماعت اور پوری دنیا کو اپنی فوجی طاقت دکھانے کا فیصلہ کر چکا تھا تاکہ ھمیشہ ھمیشہ کے لیے اس کی مخالفت کا قصہ پاک کر دیا جائے..
وہ پہاڑ سے اتر کر فوراً محل میں پہنچا اور فوری طور پر پوری دنیا میں قاصدوں کو تیزرفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر روانہ کرنے کا حکم جاری کیا . ان گھڑ سوار قاصدوں کے ذریعے پیغام یہ بھیجا گیا تھا کہ ھر علاقے سے فوجیوں کے دستے جتنی جلدی ممکن ہو دارالحکومت بابل (عراق) میں پہنچیں. ساتھ یہ بھی حکم تھا کہ ھر فوجی اپنے ساتھ سات دن کے کھانے کا سامان لیکر آئے. اسے یقین تھا کہ سات دن کے اندر اندر فیصلہ ھو جانا تھا..
اگلے روز سے فوجیوں کے بڑے بڑے قافلے دارالحکومت میں پہنچنے لگے. ان سب کو ایک وسیع و عریض میدان میں خیمے لگانے کا حکم دیا گیا. فوجیوں کے چاق و چوبند دستے جمع ھونے لگے. پانچ دن کے اندر میدان میں لاکھوں افراد پر مشتمل فوجی لشکر جمع ہو گیا جو دنیا کے کسی بھی لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا… اتنے بڑے تیار لشکر کے ساتھ خدا کے ماننے والوں کی جنگ ھو جاتی تو صرف چند سیکنڈ میں ہی فیصلہ ھو جانا تھا. جبکہ وہ لوگ خاموشی سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے. اس جماعت کے سربراہ کو بادشاہ کی طرف سے پیغام بھیجا گیا کہ بادشاہ کا لشکر مقابلہ کرنے کے لیے بالکل تیار ھے اگر تمہارے خدا کی فوج کہیں موجود ھے تو اسے کل صبح میدان جنگ میں اتارو.
اگلا دن جنگ کا دن قرار دے دیا گیا..
بادشاہ کی فوج کے تمام سپاہی تلواریں سونت کر جنگ کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے.. اور اللہ کی فوج کا انتظار کر رہے تھے.. لیکن دور دور تک کسی بھی لشکر کے آنے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے.. بادشاہ خود بھی لشکر کے عین وسط میں موجود تھا. فوجی اب قہقہے لگا کر ھنس رہے تھے اور خدا کی فوج کا مذاق اڑا رہے تھے.. دوپہر سے کچھ دیر پہلے جب بادشاہ سب فوجیوں کو میدان جنگ سے واپس جانے کا حکم دینے کا سوچ رہا تھا اچانک آسمان پر دوردراز سے ایک بہت بڑی سیاہ رنگ کی چادر نمودار ہوئی جو آھستہ آھستہ اس جانب بڑھ رہی تھی جہاں یہ لاکھوں فوجیوں کا لشکر موجود تھا.. یہ چادر آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی تھی.. جبکہ لمبائی کے رخ پر وہ سیاہ چادر اتنی لمبی تھی کہ اس کا آخری سرا نظر نہیں آ رہا تھا.. میدان میں موجود لاکھوں فوجی اور بادشاہ حیرت سے اس آسمان کے اس حصے کو غور سے دیکھنے لگے جدھر سے یہ سیاہ رنگ کی چادر آ رہی تھی.. کچھ لوگ اسے سیاہ بادل سمجھ رہے تھے لیکن آج تک اس طرح کا بادل پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا. جب یہ سیاہ بادل یا سیاہ چادر لشکر سے آدھا کلو میٹر دور رہ گئی تو پتہ چلا کہ وہ بادل نہیں تھا کیونکہ بادلوں کی وجہ سے ایسا سیاہ اندھیرا نہیں چھایا کرتا کہ سورج کی روشنی ہی مکمل طور پر چھپ جائے.. یہ سیاہ رنگ کا آسمانی پردہ کافی بلندی پر تھا لیکن جیسے جیسے بادشاہ کی فوج کے درمیان فاصلہ کم ھو رہا تھا یہ بادل زمین کی طرف نیچے آنے لگا.. جب اس سیاہ بادل نے پوری فوج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا اور شام جیسا اندھیرا چھا گیا تو یہ انتہائی تیزفتاری سے زمین کی طرف بڑھنے لگا. اب آسمان پر موجود اس چادر میں سے شور کی آواز بھی آنے لگی..
جیسے جیسے فاصلہ کم ھو رہا تھا شور کی آواز بلند سے بلند ھوتی جا رہی تھی.. یہاں تک فوجیوں کو آپس میں بات کرنے کی آوازیں بھی سننے میں دشواری ھونے لگی تھی.. اب فوجیوں کو اس سیاہ چادر کی حقیقت معلوم ھو گئی تھی.. یہ خونخوار سیاہ کریہہ اور خوفناک مچھروں کا بہت بڑا لشکر تھا جن کی تعداد کروڑوں میں نہیں بلکہ شاید اربوں میں تھی.. فوجیوں کے تیر تلوار اور باقی ھتھیار پکڑے کے پکڑے رہ گئے تھے.. ایک ایک فوجی پر ھزار ھزار مچھر ٹوٹ پڑے تھے اور اپنے تیزدھار ڈنکوں سے ان کے بدن چھید رہے تھے ان کو لہولہان کرکے ان کا خون پی رہے تھے.. فوجیوں کے چہرے ھاتھ اور جسمانی اعضاء میں سے خون کے فوارے ابل رہے تھے لیکن وہ سب اس افتاد کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے.. مچھروں کے اس بادل نے پوری فوج کو ڈھانپ لیا تھا اور ان کے جسموں کو چھید رہے تھے..
فیصلہ…… آدھے گھنٹے میں ہی ھو گیا تھا.. میدان جنگ میں صرف انسانی پنجر نظر آ رہے تھے اور ان کے پاس ان کی تلواریں اور دوسرے ھتھیار پڑے کے پڑے رہ گئے تھے یہ کوئی الگ ہی قسم کے مچھر تھے جو خون کے ساتھ ساتھ انسانی گوشت بھی نوچ نوچ کر کھا رہے تھے.. تھوڑی دیر بعد جب ایک بھی فوجی کے جسم پر گوشت نہ بچا تو مچھروں کی یہ فوج واپس آسمان کی طرف پلٹنے لگی..
لیکن حیرت انگیز طور پر بادشاہ کو کسی بھی مچھر نے معمولی سا بھی نقصان نہیں پہنچایا تھا.. البتہ ایک مچھر اس کے ناک میں گھس کر اوپر کسی جگہ جا کر بیٹھ گیا تھا جس کی وجہ سے بادشاہ اذیت کی وجہ سے چیخ رہا تھا چلا رہا تھا…..
یقیناً بادشاہ کو بھی آپ پہچان چکے ھونگے اور اس کے انجام کا بھی آپ کو پتہ چل گیا ھوگا.. اس بادشاہ نمرود کے متعلق ھمارے پاس بہت تھوڑی سی معلومات ہیں لیکن آج آپ کو ایک حیرت انگیز بات بتاتا ھوں کہ ابھی تک نمرود کی پوجا کرنے والے دنیا میں موجود ہیں.. وہ لوگ کون ہیں کہاں ہیں اور ابھی کیا کرتے ہیں ان کی پہچان کیا ھے ان شا اللہ تعالیٰ ایک الگ تحریر میں… .. نمرود ایسا انسان تھا جس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار خدائی کا دعوٰی کیا اور حیرت کی بات ہے کہ اس کو بطور خدا کے پوجا گیا اور موجودہ زمانے میں بھی اس کی پوجا جاری ہے….
ہمیشہ کی بادشاہی صرف ایک اللہ کی..
