ایک عبرتناک داستان، اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

ایک عبرتناک داستان، اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت کا ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے نام سے کبھی دشمنوں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ وہ اپنی جوانی میں بے مثال بہادر، دانا اور دور اندیش حکمران رہا تھا۔ اس کی تلوار نے بے شمار جنگیں جیتی تھیں اور اس کی عقل نے ان گنت سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔ دشمن جانتے تھے کہ جب تک یہ بوڑھا شیر زندہ ہے، اس کی سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی آسان نہیں۔

مگر وقت کے سامنے کون ٹھہر سکا ہے؟
آخر ایک دن وہ بہادر بادشاہ بوڑھا ہو گیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے نوجوان بیٹے کے ہاتھ میں دے دی۔ اگرچہ تخت اب بیٹے کے پاس تھا، مگر باپ اپنی عمر بھر کے تجربے کی روشنی میں ہر معاملے پر اسے مشورہ دیتا، اسے غلط فیصلوں سے روکتا اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا تھا۔
لیکن نوجوان بادشاہ اسے اپنی آزادی میں مداخلت سمجھتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اب وہ خود ایک طاقتور بادشاہ ہے، اسے کسی کی نصیحت کی ضرورت نہیں۔ دربار کے کچھ چاپلوس وزیروں نے جب یہ کمزوری دیکھی تو انہوں نے اپنی آنے والی حیثیت محفوظ کرنے کے لیے آہستہ آہستہ اس کے کان بھرنے شروع کر دیے۔
وہ کہتے: “حضور! سلطنت تو آپ چلاتے ہیں، مگر سایہ اب بھی پرانے بادشاہ کا ہے۔ لوگ آپ کی نہیں، ان کی عزت کرتے ہیں۔ جب تک وہ موجود ہیں، آپ کبھی مکمل بادشاہ نہیں بن سکیں گے۔”
ان باتوں نے آہستہ آہستہ نوجوان بادشاہ کے دل میں زہر گھول دیا۔ انسان اکثر اس شخص کی بات جلدی مان لیتا ہے جو اس کے دل کی خواہش کے مطابق بولتا ہے، چاہے وہ اس کا خیرخواہ نہ ہو۔
ایک تاریک رات آئی۔
وہ رات جس نے ایک سلطنت کی تقدیر بدل دی۔
نوجوان بادشاہ نے اپنے ہی باپ کے قتل کا حکم دے دیا۔ بوڑھا بادشاہ، جس نے زندگی بھر اپنے بیٹے کی حفاظت کی تھی، اسی کے ہاتھوں دنیا سے رخصت ہو گیا۔
مگر اس کے مرنے کی خبر ابھی سلطنت کی سرحدوں سے باہر پہنچی ہی تھی کہ چاروں طرف سے دشمنوں نے حملے شروع کر دیے۔ وہ برسوں سے اسی دن کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس سلطنت کی اصل دیوار اس کا خزانہ یا لشکر نہیں، بلکہ وہ بوڑھا بادشاہ تھا جس کے تجربے اور رعب نے سب کو روک رکھا تھا۔
دوسری طرف سلطنت کے اندر بھی آگ بھڑک اٹھی۔ صوبوں کے گورنروں نے بغاوت کر دی۔ وہی وزیر جو کل تک وفاداری کے دعوے کرتے تھے، اپنا فائدہ دیکھ کر دشمنوں سے جا ملے۔ کچھ نے نئی طاقتوں کی اطاعت قبول کر لی اور کچھ نے اپنی الگ حکومتیں قائم کر لیں۔
چند ہی دن پہلے جو نوجوان بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھا تھا، آج لوہے کی زنجیروں میں قید تھا۔
قید خانے کی تاریک دیواروں کے درمیان اسے پہلی مرتبہ اپنے باپ کی ہر نصیحت یاد آنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ آہستہ سے بولا: “میں سمجھتا رہا کہ میرے باپ کی موجودگی میری طاقت کو چھپا رہی ہے، مگر حقیقت میں وہی میری طاقت کی سب سے مضبوط دیوار تھا۔ میں دیوار کو سایہ سمجھ کر گراتا رہا، اور جب دیوار گری تو ہر طرف سے طوفان اندر داخل ہو گیا۔”

لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ چند دن بعد دشمنوں نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس کے ساتھ ایک عظیم سلطنت کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

اخلاقی سبق:

زندگی میں بعض لوگ ہمیں روک ٹوک کرنے والے، ہمارے راستے کی رکاوٹ یا ہماری آزادی کے دشمن محسوس ہوتے ہیں، حالانکہ وہی لوگ ہمارے تجربے، حفاظت اور کامیابی کی دیوار ہوتے ہیں۔ انسان اکثر اس دیوار کی قدر تب سمجھتا ہے جب وہ گر چکی ہوتی ہے، مگر اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔



Leave a Reply

NZ's Corner