ایک مچھر، افلاطون اور صبر کا سبق

ایک مچھر، افلاطون اور صبر کا سبق


کہتے ہیں افلاطون ایک دن کھانا کھا رہے تھے کہ ایک مچھر بار بار آ کر انہیں تنگ کرنے لگا۔
کبھی کھانے پر بیٹھتا، کبھی اُڑ جاتا۔

افلاطون نے نرمی سے اپنا تھوڑا سا کھانا مچھر کے سامنے رکھا۔
مچھر نے اس میں سے کچھ چوسا… مگر زیادہ دیر نہ رکا۔

افلاطون نے شاگردوں کو غور سے دیکھنے کا کہا۔
ایک شاگرد کے ہاتھ پر ہلکا سا زخم تھا، اس نے ہتھیلی آگے کی۔
مچھر فوراً کھانے کو چھوڑ کر زخم پر آ بیٹھا اور خون چوسنے لگا۔

پھر افلاطون نے قریب ہی ایک بوسیدہ سیب رکھ دیا۔
مچھر نے خون بھی چھوڑ دیا اور سیب کے کٹے حصے پر جا بیٹھا۔

اسی لمحے قریب ایک درخت پر مکڑی کا جالا تھا۔
مچھر اُڑا… اور جال میں پھنس گیا۔
جال ہلا تو مکڑی آئی اور خاموشی سے اپنے شکار کو مضبوطی سے قابو میں کر لیا۔

افلاطون نے فرمایا:

“دیکھو! مکڑی کمزور ہے مگر صبر والی ہے۔
وہ جال بچھا کر دنوں انتظار کرتی ہے، لالچ نہیں کرتی۔
اور جب شکار مل جائے تو آہستہ آہستہ اسے استعمال کرتی ہے۔

اور یہ مچھر…
لالچی ہے، بے صبر ہے،
ایک نعمت سے دوسری کی طرف دوڑتا ہے،
اور آخرکار ہلاکت کے جال میں پھنس جاتا ہے۔”

✨ سبق:
انسان کی زیادہ تر پریشانیاں لالچ اور اسراف کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
جو برائیوں اور خواہشات کے پیچھے دوڑتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے،
مگر اچانک موت کا جال اسے آ لیتا ہے۔

👉 لالچ اور صبر کی لڑائی میں جیت ہمیشہ صبر کی ہوتی ہے۔

اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
تاکہ ایسی ہی خوبصورت اور اخلاقی کہانیاں آپ کو ملتی رہیں 🌿

Leave a Reply

NZ's Corner