ایک گھڑا پانی…. ایک دلچسپ کہانی

ایک گھڑا پانی…. ایک دلچسپ کہانی



بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گرم اور ریتلے علاقے میں رہنے والا ایک غریب آدمی اپنے بادشاہ کی سخاوت کے قصے اکثر سنتا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا:

“اگر میں بھی بادشاہ کے لیے کوئی تحفہ لے جاؤں تو شاید وہ میری قدر کرے۔”

لیکن سوال یہ تھا کہ وہ تحفہ کیا لے جائے؟

اس علاقے میں پانی بہت قیمتی تھا۔ دور دور تک نہ دریا تھا، نہ کنواں۔ بارش کے بعد تالابوں میں جمع ہونے والا پانی ہی لوگوں کے لیے زندگی کا سہارا تھا۔

غریب آدمی نے سوچا، “میں بادشاہ کے لیے پانی کا ایک گھڑا لے جاؤں گا۔ میرے علاقے میں اس سے قیمتی تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؟”

اس نے ایک گھڑا صاف پانی سے بھرا اور کئی دنوں کا طویل سفر طے کرکے بادشاہ کے شہر پہنچ گیا۔

وہاں پہنچ کر اسے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ بادشاہ دریا کے کنارے کھڑا تھا اور کچھ ہی دیر میں کشتی کی سیر کے لیے روانہ ہونے والا تھا۔

غریب آدمی نے جب سامنے پھیلا ہوا وسیع دریا دیکھا تو اس کے قدم رک گئے۔

اس نے اپنے گھڑے کی طرف دیکھا اور دل میں سوچا:

“میں بھی کتنا نادان ہوں! یہاں تو پانی کی کوئی کمی ہی نہیں۔ بادشاہ کو میرے اس گھڑے کی کیا ضرورت ہوگی؟”

وہ شرمندگی سے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔

بادشاہ کی نظر اس پر پڑی۔ اس نے اسے اپنے قریب بلایا اور نرمی سے پوچھا:

“تم کہاں سے آئے ہو اور یہ گھڑا کیوں اٹھا رکھا ہے؟”

غریب آدمی نے ادب سے عرض کیا:

“بادشاہ سلامت! میں آپ کے لیے یہ پانی کا گھڑا تحفے میں لایا ہوں۔ ہمارے علاقے میں پانی بہت قیمتی ہے۔ میں کئی دن کا سفر کرکے یہ آپ کے لیے لایا ہوں۔ لیکن یہاں آکر دریا دیکھا تو مجھے لگا کہ میرا تحفہ بہت معمولی ہے۔”

بادشاہ مسکرایا۔ اسے غریب آدمی کے الفاظ سے زیادہ اس کی نیت پسند آئی۔

اس نے فوراً خزانچی کو حکم دیا:

“اس گھڑے کا پانی دریا میں ڈال دو اور گھڑا سونے کے سکوں سے بھر دو۔”

غریب آدمی حیرت سے بادشاہ کو دیکھنے لگا۔

بادشاہ نے کہا:

“تم نے مجھے پانی نہیں، اپنی محبت اور خلوص پیش کیا ہے۔ قدر دان انسان تحفے کی قیمت نہیں، دینے والے کی نیت دیکھتا ہے۔”

غریب آدمی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔

سبق:

نیک نیت سے کیا گیا چھوٹا سا عمل بھی بہت قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ اصل قدر چیز کی نہیں بلکہ نیت کی ہوتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner