ایک بہروپیا ایک مزار کے باہر لمبی سفید داڑھی، سبز عمامہ اور کندھے پر تولیہ ڈالے بزرگ بنا بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک تختی رکھی تھی:
“صرف 100 روپے میں جنت کی ٹکٹ!”
لوگ اس کی شکل و صورت اور بناوٹی بزرگی سے اتنے متاثر تھے کہ جوق در جوق ٹکٹیں خرید رہے تھے۔
اتنے میں بہروپیے نے دور سے ایک پولیس والے کو اپنی طرف آتے دیکھا۔
وہ فوراً بلند آواز میں بولا:
“بس بھائیو! آج کا وقت ختم ہوا۔ جو خوش نصیب تھے، وہ اپنی ٹکٹ لے گئے۔ فقیر کے پاس جو کچھ تھا، فقیر سب لٹا چکا!”
یہ کہہ کر اس نے جلدی سے اپنا تھیلا سمیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
گھر پہنچ کر دروازہ بند کیا، تھیلا کھولا اور نوٹ نکال کر خوشی خوشی گننے لگا۔
اچانک کھڑکی سے ایک مسلح ڈاکو اندر کود آیا۔
اس نے پستول سیدھی بہروپیے کی طرف تان کر کہا:
“خاموشی سے سارے پیسے میرے حوالے کر دو، ورنہ ابھی گولی مار دوں گا!”
بہروپیا خوفزدہ ہوگیا، لیکن اچانک اسے ایک ترکیب سوجھی۔
اس نے کانپتی آواز میں کہا:
“بھائی! اگر تم نے مجھے قتل کیا تو دوزخ میں جاؤ گے!”
ڈاکو زور سے ہنسا اور بولا:
“تم میری فکر نہ کرو۔ میں دوزخ میں نہیں جا سکتا!”
بہروپیے نے حیرت سے پوچھا:
“وہ کیوں؟”
ڈاکو نے اطمینان سے جواب دیا:
“کیونکہ آج ڈکیتی پر نکلنے سے پہلے میں نے ایک بہت پہنچے ہوئے بابے سے جنت کی دو ٹکٹیں خریدی ہیں!”
یہ سن کر بہروپیے کے ہاتھ سے نوٹ گر گئے، کیونکہ وہ بابا کوئی اور نہیں، خود وہی تھا!
