قدیم عرب کا ایک طاقتور بادشاہ تھا جسے شکار کا بے حد شوق تھا۔ اس کے پاس ایک عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا۔ وہ عقاب اس کے لیے صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ ایک وفادار ساتھی تھا جو ہر شکار میں اس کے کندھے پر بیٹھا رہتا۔
ایک دن بادشاہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ شدید گرمی اور سفر کی تھکن نے قافلے کو بکھیر دیا اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ پیاس کی شدت بڑھتی گئی، حتیٰ کہ زندگی مشکل ہونے لگی۔
اسی دوران اسے ایک چٹان سے ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے صبر سے ایک پیالہ بھرنا شروع کیا۔ قطرہ قطرہ پانی جمع ہوتا رہا، اور آخرکار جب پیالہ بھر گیا تو بادشاہ نے اسے ہونٹوں سے لگایا۔
لیکن اچانک اس کے عقاب نے جھپٹا مارا اور پیالہ گرا دیا۔
بادشاہ حیران ہوا، پھر دوبارہ کوشش کی… مگر عقاب نے پھر پیالہ گرا دیا۔ تیسری بار بھی یہی ہوا تو غصہ اس پر غالب آ گیا۔ اس نے تلوار نکالی اور عقاب کو زخمی کر دیا۔
زخمی عقاب ایک طرف گر گیا، اور بادشاہ غصے میں بولا:
“کاش میں صبر کرتا، تو تجھے یوں سزا نہ دیتا!”
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اوپر جا کر دیکھے کہ پانی آ کہاں سے رہا ہے۔
جب وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اس کے قدم تھم گئے…
وہاں ایک مردہ زہریلا اژدھا پڑا تھا، جس کا زہر پانی میں شامل ہو رہا تھا۔
بادشاہ کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔ اسے حقیقت سمجھ آ گئی۔
اس کا عقاب اسے رو نہیں رہا تھا… بلکہ موت سے بچا رہا تھا۔
اور وہی عقاب، جس نے اس کی زندگی بچانے کی کوشش کی تھی، اس کے غصے کا نشانہ بن گیا تھا۔
سبق:
غصہ اور جلد بازی اکثر انسان کو سچ دیکھنے سے اندھا کر دیتے ہیں۔
ہر رکاوٹ نقصان نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ بچاؤ ہوتی ہے۔
فیصلے ہمیشہ صبر سے کرنے چاہئیں، کیونکہ وقتی غصہ ہمیشہ دیر کا پچھتاوا چھوڑ جاتا ہے۔
بعض اوقات ہم اپنے ہی خیر خواہ کو دشمن سمجھ بیٹھتے ہیں، اور بعد میں حقیقت ہمیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتی ہے…
