بادشاہ، کمہار اور انصاف

بادشاہ، کمہار اور انصاف

ایک دن بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں سیدھا چلتے دیکھا۔ وہ حیران ہوا اور کمہار سے پوچھا: “تم انہیں کس طرح سیدھا چلنا سکھاتے ہو؟”

کمہار نے جواب دیا: “حضور! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی ڈر سے یہ سب سیدھے چلتے ہیں۔”

بادشاہ کو کمہار کی بات پسند آئی۔ اس نے کہا: “کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟” کمہار نے ہامی بھر لی۔ بادشاہ نے اسے بڑا عہدہ دے دیا۔

پہلے ہی دن کمہار کے سامنے چوری کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس نے فیصلہ سنایا کہ چور کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔

جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں چپکے سے کہا: “جناب، یہ چور وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔” کمہار نے دوبارہ حکم دیا: “چور کے دونوں ہاتھ کاٹو۔”

اس کے بعد خود وزیر کمہار کے کان میں آیا اور سرگوشی کی: “جناب کچھ خیال کریں، یہ میرا خاص بندہ ہے۔”

یہ سن کر کمہار بولا: “چور کے ہاتھ تو کاٹے ہی جائیں گے، ساتھ میں سفارش کرنے والی زبان بھی کاٹ دی جائے۔”

کمہار کے اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا، کیونکہ سب کو پتا چل گیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

جب قانون کا نفاذ بلا تفریق اور سفارش کے بغیر ہو، تو معاشرے میں خود بخود امن قائم ہو جاتا ہے۔



Leave a Reply

NZ's Corner