بادشاہ کا آخری فیصلہ… اور ایک غریب کی حیران کن بات

بادشاہ کا آخری فیصلہ… اور ایک غریب کی حیران کن بات



ایک سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جو اپنے انصاف کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔

لوگ کہتے تھے:

“اس بادشاہ کے دربار میں امیر اور غریب برابر ہیں۔”

ایک دن محل کے دروازے پر ایک غریب بوڑھا شخص پہنچا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر پریشانی تھی اور ہاتھ میں ایک پرانی لکڑی کی چھڑی تھی۔

دربان نے اسے روک لیا۔

بوڑھے نے کہا:

“مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔”

دربان ہنس کر بولا:

“بادشاہ تم جیسے فقیر سے ملنے کے لیے نہیں بیٹھا۔ واپس جاؤ!”

بوڑھے نے آہستہ سے کہا:

“میں بھیک مانگنے نہیں آیا، انصاف مانگنے آیا ہوں۔”

یہ الفاظ سن کر دربان خاموش ہو گیا اور اسے اندر جانے دیا۔

بوڑھا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور بولا:

“بادشاہ سلامت! میرے گاؤں کے امیر ترین تاجر نے میری زمین چھین لی ہے۔ میرے پاس کاغذات نہیں، گواہ نہیں، مگر زمین میری ہے۔”

بادشاہ نے تاجر کو فوراً دربار میں طلب کیا۔

تاجر قیمتی لباس پہن کر آیا اور بڑے اعتماد سے بولا:

“بادشاہ سلامت! یہ بوڑھا جھوٹ بول رہا ہے۔ زمین میری ہے۔ میرے پاس اس کے کاغذات بھی موجود ہیں۔”

بادشاہ نے کاغذات دیکھے۔

سب کچھ تاجر کے حق میں تھا۔

دربار میں موجود لوگ بھی سمجھ گئے کہ فیصلہ تاجر کے حق میں ہی ہوگا۔

لیکن بادشاہ نے بوڑھے سے پوچھا:

“اگر تمہارے پاس کاغذات نہیں تو تم کیسے ثابت کرو گے کہ زمین تمہاری ہے؟”

بوڑھے نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا:

“بادشاہ سلامت! میں اپنی زمین کا مالک ہونے کا ثبوت نہیں دے سکتا… مگر میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ زمین مجھے پہچانتی ہے۔”

دربار میں قہقہہ گونج اٹھا۔

تاجر بھی ہنسنے لگا۔

بادشاہ نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کرایا۔

پھر اس نے بوڑھے سے کہا:

“مجھے سمجھاؤ۔”

بوڑھا بولا:

“اس زمین کے بیچ ایک پرانا درخت ہے۔ وہ درخت میرے باپ نے لگایا تھا۔ جب میں بچہ تھا تو اسی کے نیچے کھیلا کرتا تھا۔ میری بیوی نے اسی کے سائے میں میرے بچوں کو جنم دیا تھا۔ اگر اجازت ہو تو مجھے صرف ایک بار اس زمین پر لے جایا جائے۔”

بادشاہ نے حکم دیا کہ بوڑھے کو زمین پر لے جایا جائے۔

بوڑھا وہاں پہنچا تو سیدھا درخت کے پاس گیا۔

اس نے درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا اور کہا:

“یہاں میرے باپ نے میرے نام کا نشان بنایا تھا۔”

سپاہیوں نے درخت کا ایک حصہ صاف کیا تو واقعی لکڑی کے اندر ایک پرانا نشان موجود تھا۔

بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:

“تم نے یہ زمین کب خریدی؟”

تاجر بولا:

“پانچ سال پہلے۔”

بادشاہ نے پوچھا:

“اور یہ درخت؟”

تاجر خاموش ہو گیا۔

بادشاہ نے حکم دیا کہ زمین کے پرانے ریکارڈ نکالے جائیں۔

تحقیق ہوئی تو معلوم ہوا کہ تاجر نے جعلی کاغذات بنوا کر بوڑھے کی زمین اپنے نام کروائی تھی۔

بادشاہ نے تاجر کو سزا سنائی اور زمین بوڑھے کے حوالے کر دی۔

بوڑھا رونے لگا۔

بادشاہ نے پوچھا:

“اب کیوں رو رہے ہو؟”

بوڑھا بولا:

“زمین واپس ملنے کی خوشی میں نہیں… بلکہ اس بات پر کہ آج مجھے یقین ہو گیا کہ انصاف ابھی زندہ ہے۔”

بادشاہ مسکرایا اور بولا:

“یاد رکھو! بادشاہ کا اصل تاج سونا نہیں، انصاف ہوتا ہے۔ جس دن حاکم انصاف چھوڑ دے، اس دن اس کا محل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، سلطنت اندر سے خالی ہو جاتی ہے۔”

سبق:

انصاف وہ نہیں جو طاقتور کے حق میں ہو، انصاف وہ ہے جو حق دار کو اس کا حق دے۔

اور کبھی کبھی سچ کے پاس کاغذات نہیں ہوتے،
مگر وقت خود اس کا گواہ بن جاتا ہے۔
حق_اور_انصاف

Leave a Reply

NZ's Corner