**”بادشاہ کا انصاف”**

**”بادشاہ کا انصاف”**

ایک زمانے میں ایک چھوٹی سی بادشاہت تھی۔ اس ملک کا بادشاہ رخصت ہوا تو عوام کو بڑی امیدیں تھیں کہ نیا حکمران ان کے دن بدل دے گا۔

نئے بادشاہ نے آتے ہی محل کی رونقیں بڑھانا شروع کیں، درباریوں کو نوازا، اور ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی — یہ کہہ کر کہ “خزانہ خالی ہے، سب کو قربانی دینی ہوگی۔”

مگر ایک عجیب بات ہوئی۔ جو تاجر پہلے سے امیر تھے، انہوں نے اپنے مال کی قیمتیں بڑھا دیں اور نیا ٹیکس بھی عوام کی جیب سے نکلوا لیا۔ ان کے گودام بھرتے گئے، ان کی حویلیاں سجتی گئیں۔

مگر جو کسان اپنے کھیت میں دن رات محنت کرتا تھا، اس کی گندم کی قیمت وہی رہی جو پہلے تھی، جبکہ بیج، کھاد اور اوزار مہنگے ہو گئے۔ جو مزدور صبح سے شام تک پتھر توڑتا تھا، اس کی مزدوری میں ایک پیسہ اضافہ نہ ہوا، مگر روٹی کی قیمت دگنی ہو گئی۔

ایک دن بادشاہ کا وزیر، جو غریبوں کے حال پر ترس کھاتا تھا، بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: “عالیجاہ، آپ نے سب پر ایک جیسا ٹیکس لگایا، مگر نتیجہ ایک جیسا نہیں نکلا۔ امیر نے اپنا بوجھ غریب کے کندھوں پر ڈال دیا، کیونکہ اس کے پاس طاقت تھی۔ غریب کے پاس نہ طاقت تھی نہ آواز، سو وہ دبتا چلا گیا۔”

بادشاہ نے پوچھا: “تو میں کیا کروں؟”

وزیر نے جواب دیا: “انصاف یہ نہیں کہ سب پر ایک جیسا بوجھ ڈالا جائے۔ انصاف یہ ہے کہ جس کے کندھے مضبوط ہیں، وہ زیادہ اٹھائے، اور جس کی کمر پہلے ہی جھکی ہے، اسے سہارا دیا جائے۔ ورنہ ہر نیا بادشاہ آئے گا، دعوے کرے گا، اور نتیجہ وہی نکلے گا — امیر اور امیر، غریب اور غریب۔”

بادشاہ نے یہ بات سنی مگر عمل نہ کیا، کیونکہ درباری اس کے قریب تھے اور کسان دور۔ سو وقت گزرتا گیا، اور ملک کی کہانی وہی رہی۔



**سبق:**
جب پالیسیاں ہر طبقے پر برابر بوجھ ڈالتی ہیں، مگر طاقتور اپنا بوجھ کمزور پر منتقل کر سکتا ہے، تو “برابری” دراصل “ناانصافی” بن جاتی ہے۔ اصل تبدیلی نعروں سے نہیں، بلکہ اس وقت آتی ہے جب حکمران اُن کی سنیں جن کی آواز سب سے دھیمی ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner