ایک بادشاہ نے ایک بے گناہ قیدی کے قتل کا حکم دے دیا۔
قیدی مایوسی کے عالم میں بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ بادشاہ نے اسے بڑبڑاتے دیکھا تو وزیر سے پوچھا:
“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”
وزیر نے جواب دیا:
“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ معاف کرنے والوں کو اللہ پاک پسند فرماتا ہے۔”
وزیر کی بات سن کر بادشاہ کا دل نرم پڑ گیا اور اس نے فوراً قیدی کی رہائی کا حکم دے دیا۔
ایک مصاحب نے فوراً کہا:
“حضور! یہ آپ کو گالیاں دے رہا تھا، وزیر جھوٹ بول رہا ہے!”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“وزیر کا وہ جھوٹ جو کسی کی جان بچا دے اور نیکی کی طرف لے جائے، تیرے اُس سچ سے بہتر ہے جو دلوں میں نفرت اور فساد پیدا کرے۔”
سبق:
ہر سچ بولنا ضروری نہیں، خاص طور پر وہ سچ جو کسی کی بھلائی کے بجائے فساد پیدا کرے۔ کبھی کبھی الفاظ کا مقصد بھی دیکھا جاتا ہے، صرف حقیقت نہیں۔

