بادشاہ کی انگوٹھی کا راز…….. ایک سبق آموز کہانی

بادشاہ کی انگوٹھی کا راز…….. ایک سبق آموز کہانی

ایک عظیم بادشاہ نے ایک دن اپنے دربار کے تمام دانا لوگوں کو بلایا اور کہا:

“مجھے ایسا جملہ بتاؤ جو خوشی میں بھی کام آئے، غم میں بھی… فتح میں بھی، شکست میں بھی۔ ایسا راز جو ہر حال میں مجھے سنبھال سکے۔”

دربار میں خاموشی چھا گئی۔

کافی دیر بعد ایک بوڑھا دانا آگے بڑھا۔ اس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا، اسے تہہ کیا اور بادشاہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا:

“حضور! اسے اپنی انگوٹھی کے نیچے چھپا کر رکھیں۔ مگر اسے صرف اس وقت پڑھیں جب آپ کو لگے کہ دنیا میں کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔”

بادشاہ نے کاغذ لے لیا اور انگوٹی کے نیچے چھپا دیا۔

کچھ عرصے بعد دشمنوں نے سلطنت پر حملہ کر دیا۔

جنگ کئی دن جاری رہی، مگر آخرکار بادشاہ کی فوج شکست کھا گئی۔

بادشاہ جان بچا کر گھوڑے پر بھاگ رہا تھا۔ دشمن اس کے پیچھے تھے۔ وہ ایک ایسے راستے پر پہنچا جہاں آگے گہری کھائی تھی اور پیچھے دشمنوں کی فوج۔

نہ آگے جا سکتا تھا، نہ پیچھے لوٹ سکتا تھا۔

بادشاہ نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا۔

“یا اللہ! اب کیا کروں؟”

تبھی سورج کی روشنی اس کی انگوٹھی پر پڑی۔

اسے بوڑھے دانا کا کاغذ یاد آ گیا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ نکالا اور پڑھا:

“یہ وقت بھی گزر جائے گا”

بادشاہ نے آنکھیں بند کیں اور آہستہ سے کہا:

“ہاں… یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ کل میں ایک طاقتور بادشاہ تھا، آج شکست خوردہ ہوں۔ اگر کل بدل گیا ہے تو آج بھی بدل جائے گا۔”

اس کے دل کو سکون ملا۔

وہ گھوڑے سے اترا، اردگرد دیکھا اور محسوس کیا کہ دشمنوں کی آوازیں دور ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ ایک چٹان کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ دشمن اسے تلاش کیے بغیر آگے نکل گئے۔

بادشاہ بچ گیا۔

وقت گزرا۔

بادشاہ نے اپنی فوج دوبارہ منظم کی اور دشمنوں کے خلاف جنگ کی۔ اس بار فتح اس کا مقدر بنی۔

وہ اپنی سلطنت میں واپس آیا تو پورا شہر جشن منا رہا تھا۔

لوگ پھول برسا رہے تھے، نعرے لگا رہے تھے اور بادشاہ کی عظمت کے گیت گا رہے تھے۔

بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہونے لگا۔

“میں عظیم ہوں! میں ناقابلِ شکست ہوں!”

تبھی سورج کی روشنی ایک بار پھر اس کی انگوٹھی پر پڑی۔

بادشاہ رک گیا۔

اس نے کاغذ نکالا اور پڑھا:

“یہ وقت بھی گزر جائے گا”

اس کا سر جھک گیا۔

اس نے سوچا:

“اگر میری شکست ہمیشہ نہیں رہی، تو میری فتح بھی ہمیشہ نہیں رہے گی۔ آج لوگ میری تعریف کر رہے ہیں، کل شاید کوئی اور تخت پر ہو۔ پھر میں کس بات پر غرور کروں؟”

اس کی آنکھوں میں عاجزی اتر آئی۔

اس نے دل میں کہا:

“نہ شکست ہمیشہ میری تھی، نہ فتح ہمیشہ میری رہے گی۔ میں تو صرف وقت کا ایک مسافر ہوں۔”

اس دن بادشاہ نے جان لیا کہ زندگی میں کوئی حال ہمیشہ نہیں رہتا۔

غم آئے تو مایوس نہ ہو، کیونکہ یہ بھی گزر جائے گا۔

خوشی ملے تو مغرور نہ ہو، کیونکہ یہ بھی گزر جائے گا۔

بادشاہ نے کاغذ دوبارہ تہہ کیا اور انگوٹھی کے نیچے رکھ دیا۔

مگر اب وہ کاغذ صرف ایک پیغام نہیں تھا…

وہ اس کی پوری زندگی کا سب سے بڑا راز بن چکا تھا۔

“یہ وقت بھی گزر جائے گا۔”

Leave a Reply

NZ's Corner