ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ سادہ مزاج اور محنتی انسان تھا۔ دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور شام کو تھکا ہارا اپنے جھونپڑے میں لوٹ آتا۔
ایک دن اس کی دوستی ایک بندر سے ہو گئی۔
بندر نہایت خوش مزاج اور وفادار تھا، مگر ایک مسئلہ تھا — وہ بہت نادان تھا۔
لکڑہارا اکثر بندر کے ساتھ وقت گزارتا، اسے کھانا کھلاتا اور اس کی معصوم حرکتوں پر ہنستا۔ بندر بھی لکڑہارے سے بے حد محبت کرتا تھا اور ہر وقت اس کی خدمت میں رہتا۔
ایک دن لکڑہارا سخت محنت کے بعد درخت کے نیچے سو گیا۔
بندر اس کے پاس بیٹھا اس کی رکھوالی کر رہا تھا۔
اتنے میں ایک مکھی آ کر لکڑہارے کے چہرے پر بیٹھ گئی۔
بندر نے ہاتھ سے مکھی کو اڑانے کی کوشش کی، مگر مکھی بار بار واپس آ جاتی۔
بندر کو غصہ آ گیا۔
اس نے سوچا:
“یہ مکھی میرے دوست کو پریشان کر رہی ہے، میں اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہوں!”
اس نے ایک بھاری پتھر اٹھایا اور جیسے ہی مکھی دوبارہ لکڑہارے کے چہرے پر بیٹھی، بندر نے پوری طاقت سے پتھر اس پر مار دیا۔
مکھی تو اڑ گئی…
مگر لکڑہارا شدید زخمی ہو گیا۔
جب وہ جاگا تو اسے حقیقت کا احساس ہوا کہ اس کے اپنے ہی دوست نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔
بندر ایک طرف کھڑا پریشان اور شرمندہ تھا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
لکڑہارے نے آہ بھری اور آہستہ سے کہا:
“کاش… میرا دوست نادان نہ ہوتا۔”
اخلاقی سبق
- نادان دوست، دانا دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
- نیک نیت ہونا کافی نہیں، عقل بھی ضروری ہے۔
- بغیر سوچے سمجھے کیا گیا کام نقصان پہنچا سکتا ہے۔
