شیخ چلی کا شمار گاؤں کے سب سے زیادہ خواب دیکھنے والے انسانوں میں ہوتا تھا۔ وہ دن رات کچھ نہ کچھ انوکھا سوچتے رہتے، اور اُس سوچ کی بنیاد پر بڑے بڑے منصوبے بناتے۔ گاؤں والوں کو اُن کے خوابوں پر ہنسی آتی، لیکن شیخ چلی کو اپنے ہر خواب پر کامل یقین ہوتا۔
ایک دن وہ منڈی سے آٹے کی بوری خرید کر گدھے پر لاد کر گھر واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ان کے ذہن میں ایک زبردست خیال آیا۔
“اگر میں یہ آٹا بیچ دوں، تو اس سے جو پیسے آئیں گے اُن سے دو بکریاں خرید لوں گا۔ پھر ان بکریوں کے بچے ہوں گے۔ بچے بڑے ہوں گے، دودھ دیں گے، اور میں دودھ بیچ کر گائے خرید لوں گا۔ پھر گائے سے دودھ، دہی، مکھن، گھی۔۔۔ واہ واہ! میں تو امیر ہو جاؤں گا!” وہ خود کلامی کر رہے تھے۔
اسی خواب میں مگن تھے کہ گدھا اچانک رک گیا۔ شیخ چلی کی آنکھیں کھل گئیں، اور انہوں نے دیکھا کہ بوری کے نیچے سے سرخ رنگ کا آٹا بہہ رہا ہے۔ “ارے یہ کیا؟” وہ چیخ پڑے۔
گدھے کی پشت پر بوری کے دونوں طرف سوراخ تھے، اور آٹا زمین پر بہتا جا رہا تھا۔ مگر اصل حیرت یہ تھی کہ اس بہتے آٹے کے پیچھے پیچھے چند سفید چوہے قطار میں چلتے آ رہے تھے، بالکل ایسے جیسے کسی جلوس میں شامل ہوں۔
جب شیخ چلی نے دیکھا کہ چوہے ان کے آٹے کو کھا کھا کر پیچھے آ رہے ہیں، تو وہ غصے سے بولا، “بدتمیز چوہو! میرا آٹا کھا رہے ہو؟ جاؤ یہاں سے!”
مگر چوہے رکے نہیں۔ وہ مسلسل گدھے کے پیچھے آتے رہے۔ تب شیخ چلی نے ایک چھڑی اُٹھائی اور چوہوں کو ڈرانے کے لیے ہلائی، مگر چوہوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
چوہوں کا سردار ایک بڑا سا سفید چوہا تھا جس کی دم میں سرخ دھاگہ بندھا ہوا تھا۔ اس نے شیخ چلی کی طرف دیکھا اور بولا:
“جناب والا، ہم عام چوہے نہیں، ہم سیانے چوہے ہیں۔ ہمیں جو چیز پسند آ جائے، وہ ہماری ہو جاتی ہے۔ تمہارا آٹا بھی۔”
شیخ چلی حیران رہ گئے۔ “یہ چوہے بات کر رہے ہیں؟”
“ہاں جناب، ہم وہ چوہے ہیں جو انسانوں کی حماقتوں پر تحقیق کرتے ہیں، اور تمہاری تو حماقتوں کی لمبی فہرست ہے۔ ہم نے تمہیں مدت سے دیکھا ہے۔ خواب پر خواب دیکھتے ہو، عمل کچھ بھی نہیں کرتے۔”
شیخ چلی شرمندہ ہونے کے بجائے خوش ہو گئے۔ “ارے واہ! میرا مطلب میں اتنا مشہور ہوں کہ چوہے بھی مجھے جانتے ہیں؟”
چوہوں کا سردار بولا، “ہاں، اور اب ہم تمہیں ایک مشورہ دینا چاہتے ہیں۔”
چوہے شیخ چلی کو جنگل کے اندر ایک پرانی ویران کوٹھی میں لے گئے۔ کوٹھی کے اندر دیواروں پر ہزاروں لکیریں تھیں، جیسے کوئی سالوں سے حساب رکھ رہا ہو۔
“یہ ہماری تحقیق کی جگہ ہے۔ ہم چوہے مختلف انسانوں کے رویوں پر نظر رکھتے ہیں، ان کی غلطیاں جمع کرتے ہیں، اور پھر نتائج اخذ کرتے ہیں۔ تمہارا کیس ہمارے لیے خاص ہے۔”
شیخ چلی نے حیرت سے پوچھا، “میرا کیس؟”
“ہاں، تم ہر کام کا منصوبہ بناتے ہو مگر اُسے مکمل کرنے سے پہلے ہی کسی نئے خواب میں کھو جاتے ہو۔”
شیخ چلی نے سر جھکا لیا۔ “سچ کہہ رہے ہو۔”
“ہم تمہیں ایک چانس دینا چاہتے ہیں۔ اگر تم ہماری رہنمائی پر عمل کرو، تو کامیاب ہو سکتے ہو۔”
شیخ چلی کی آنکھوں میں امید چمکنے لگی۔
“کیا کرنا ہوگا؟”
“ہر ہفتے تمہیں ہمیں اپنے عمل کی رپورٹ دینی ہوگی۔ خواب دیکھنے کی نہیں، بلکہ حقیقت میں کیے گئے کام کی۔ اگر جھوٹ بولا، تو ہم تمہارے گدھے کو اپنی بادشاہت میں شامل کر لیں گے۔”
شیخ چلی نے فوراً حامی بھر لی۔
شیخ چلی نے اپنے گھر کے پچھواڑے میں سبزی اگانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے زمین کھودی، بیج بوئے، اور باقاعدگی سے پانی دینے لگے۔ ہر دن کی ایک تحریری رپورٹ بنا کر لکڑی کی چھوٹی سی نالی میں رکھ دیتے، جہاں سے چوہے آ کر اُسے لے جاتے۔
ہفتے کے اختتام پر سردار چوہا خود آیا اور بولا، “بہت خوب! تم نے محنت کی ہے۔ اگلے ہفتے تمہیں ان سبزیوں کو بیچنے کا منصوبہ بنانا ہے۔”
شیخ چلی نے سر ہلایا۔
یونہی مہینے گزرنے لگے۔ شیخ چلی نے سبزی بیچی، اس سے نفع کمایا، اور ایک مرغی خرید لی۔ مرغی سے انڈے حاصل کیے۔ گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ شیخ چلی بدل گئے ہیں۔
کامیابی کے اس سفر میں ایک دن ایسا آیا جب شیخ چلی کو پرانے دنوں کی یاد آئی۔ وہ بازار میں چہل قدمی کر رہے تھے جب انہوں نے ایک سنار کی دکان میں سونے کا چھوٹا سا تاج دیکھا۔ فوراً ان کا دماغ خوابوں میں کھو گیا۔
“میں بھی بادشاہ بنوں گا، سب مجھے سلام کریں گے، میرا تخت ہوگا، درباری ہوں گے۔۔۔”
انہوں نے اپنی ساری کمائی نکال کر تاج خرید لیا اور گھر آ کر گدھے پر بیٹھ کر پورے گاؤں کا چکر لگایا۔
“شیخ چلی بادشاہ! شیخ چلی بادشاہ!” وہ چیخ چیخ کر اعلان کرتے رہے۔
چوہے خاموشی سے سب دیکھتے رہے۔
رات کو سردار چوہا آیا، اور بولا، “تم نے وعدہ توڑا۔ آج تم نے خوابوں میں کھو کر عمل کا راستہ چھوڑا۔ ہمارا معاہدہ ختم ہوا۔”
شیخ چلی کو بہت شرمندگی ہوئی۔ انہوں نے تاج اتارا، اور وعدہ کیا کہ اب دوبارہ ایسا نہیں کریں گے۔
چوہے تھوڑی دیر سوچتے رہے، پھر بولے، “اچھا، آخری موقع۔”
وقت گزرتا گیا۔ شیخ چلی نے اپنے تجربات سے سیکھا کہ خواب دیکھنا اچھا ہے، لیکن عمل کے بغیر خواب، ریت کے قلعے ہوتے ہیں۔
اب وہ گاؤں کے ایک کامیاب کسان اور کاروباری بن چکے تھے۔ ہر ہفتے چوہے اب بھی آتے، لیکن اب وہ محض نگرانی نہیں بلکہ شیخ چلی کی کامیابی کا جشن مناتے۔
شیخ چلی نے آخر میں ایک نصیحت سب کو دی:
“چوہوں سے جو سیکھا، وہ یہی تھا کہ چالاکی عقل کے بغیر بیکار ہے، اور خواب عمل کے بغیر محض دھوکہ ہیں۔”
تمثیلی کہانی
