بلاعنوان۔۔۔😃!

بلاعنوان۔۔۔😃!

جنگل کے شیروں نے ایک گدھے کو یقین دلایا تم ہم میں سے ہو. جیسے ہم جنگل کے بادشاہ ہیں ایسے ہی تم بھی بادشاہ ہو. گدھا واپس اپنی برادری میں آیا اور اعلان کیا وہ گدھوں کا بادشاہ ہے.

شیروں کے ڈر سے گدھوں نے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا. لیکن اب ہر چند دن بعد شیر اس گدھے کے مہمان بنتے اور بادشاہ سلامت صحت مند گدھے ان کی ضیافت میں پیش کر دیتے. کچھ عرصے میں ہی گدھے پریشان ہو گئے. بادشاہ سلامت سے دور دور رہنے لگے.

اگلی دفعہ جب شیر آئے تو بادشاہ سلامت تو موجود تھے گدھوں کا ریوڑ لیکن غائب تھا. شیروں نے پوچھا دوست یہ کیا ماجرا ہے.؟ شیر نے اپنی قوم کی جہالت اور بغاوت کا قصہ سنایا. شیروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا اب یہ بادشاہ ہمارے کسی کام کا نہیں. ہمیں دوسرا بادشاہ دیکھنا ہوگا جس پر اس کی قوم کو اعتبار ہو.

بادشاہ سلامت کا قصہ تو تمام ہوا. لیکن ہماری تیسری دُنیا کے غریب ممالک کا یہی قصہ چل رہا ہوتا ہے. آج کی جدید دُنیا میں اب ممالک کو فتح کر کے غلام نہیں بنایا جاتا بلکہ ایک غلام اشرافیہ بنائی جاتی ہے جن کے سارے مفادات مال دولت جائیداد اور بچے ان ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں.

اس اشرافیہ کے پاس ان غریب کمزور ممالک کا اقتدار ہوتا ہے. یہی اپنے وسائل اونے پونے اپنے مالکوں کو دے رہے ہوتے ہیں. اپنی قوم کو مزید غربت میں دھکیل رہے ہوتے ہیں، لیکن جہاں قوم کسی ایک فرد کے ظلم و زیادتی کے خلاف کھڑی ہو جائے مالک پھر اسے لٹکا کر  دوسرا غلام پیش کر دیتے ہیں.

Leave a Reply

NZ's Corner