بلاعنوان۔۔۔😄!

بلاعنوان۔۔۔😄!

‏چوہدری کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔

پولیس والا (غصے میں): “چوہدری صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!”

چوہدری صاحب نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!”

پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔”

چوہدری صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔”

پولیس والے کی آنکھیں باہر آ گئیں: “کیا؟ گاڑی بھی چوری کی ہے؟ ذرا ڈیش بورڈ کھول کر کاغذات دکھائیں۔”

چوہدری صاحب گھبرا کر بولے: “اوہ نہیں افسر صاحب! ڈیش بورڈ مت کھلوائیے گا، وہاں میں نے وہ پستول رکھا ہے جس سے میں نے اس گاڑی کے اصلی مالک کو ‘فارغ’ کیا تھا، اور اس کی باڈی ابھی بھی پچھلی ڈگی (Trunk) میں پڑی ہے۔”

پولیس والے کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس نے فوراً وائرلیس پر اپنے بڑے افسر (ایس پی صاحب) کو بلایا: “سر! جلدی آئیں، یہاں ایک خطرناک قاتل اور ڈاکو پکڑا گیا ہے۔”

تھوڑی دیر میں ایس پی صاحب بھاری نفری کے ساتھ پہنچے۔ انہوں نے پستول تان کر چوہدری صاحب سے کہا: “گاڑی سے باہر نکلو! ڈگی کھولو!”

ڈگی کھولی گئی تو وہ بالکل خالی تھی۔
ڈیش بورڈ دیکھا گیا تو وہاں صرف گاڑی کے اصلی کاغذات پڑے تھے۔
ایس پی نے پوچھا: “تمہارا لائسنس کہاں ہے؟”
چوہدری صاحب نے جیب سے اپنا ویلڈ لائسنس نکال کر دکھا دیا۔

ایس پی صاحب حیرانی سے اپنے سپاہی کو دیکھنے لگے اور چوہدری صاحب سے بولے: “مگر میرے سپاہی نے تو کہا تھا کہ گاڑی چوری کی ہے، آپ کے پاس پستول ہے اور ڈگی میں لاش ہے!”

چوہدری صاحب نے بڑے پیار سے افسر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے:

“جناب! ان پولیس والوں کا کوئی اعتبار نہ کیا کریں، تھوڑی دیر بعد یہ جھوٹا آپ کو یہ بھی کہے گا کہ میں 160 کی سپیڈ پر گاڑی چلا رہا تھا!” 😎😎🤓🤓


Leave a Reply

NZ's Corner