بلاعنوان۔۔۔😄!

بلاعنوان۔۔۔😄!

پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں ایک شیر بہت پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اُسے روزانہ صرف ایک کلو گوشت دیا جاتا تھا اور مزید طلب کرنے پر اُسے کہہ دیا جاتا تھا کہ مہنگائی بہت ہے۔ اتنے سے ہی کام چلاؤ۔

جب پاکستان اور دبئی کے درمیان جانوروں کی منتقلی کا منصوبہ فائل ہو گیا تو اُس شیر کو دبئی ٹرانسفر کرنے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ وہ شیر سمجھا کہ میری دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔ اب صاف ستھرا چڑیا گھر، اے سی ، اور پیٹ بھر کر کھانا ملے گا۔

دبئی پہنچنے کے بعد پہلے دن اُسے ایک انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے سلا ہوا ایک تھیلا ملا۔ شیر بہت خوش ہوا اور جلدی سے اُسے کھولا تو اس میں چند کیلے تھے۔ شیر بہت حیران ہوا۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید غلطی سے یہ تھیلا میرے پاس آگیا ہو۔ اس نے کیلے کھائے ، پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کر کے سو گیا۔

اگلے دن پھر وہی بات ہوئی۔ کھانے کا تھیلا کھولنے پر اندرسے کیلے نکلے۔ شیر کا دماغ کھل گیا ۔ اسے ڈلیوری بوائے پر انتہائی غصہ آگیا ۔ بولنے لگا ، کل آلینے دو۔ میں اس ڈلیوری بوائے سے نمٹ لوں گا۔

اگلے دن پھر ڈلیوری بوائے آیا تو شیر نے اسے روک لیا اور اس کے سامنے پیکٹ کھولا۔ اندر سے پھر کیلے نکلے۔ شیر نے ڈلیوری بوائے سے نہایت غصے میں کہا: تم ایسے کام کرتے ہو، تمہیں پتا نہیں کہ شیر کیا کھاتا ہے؟ روز غلط کیلوں کا پیکٹ دے جاتے ہو۔ تمہیں پتا نہیں کہ میں شیر ہوں۔ جنگل کا بادشاہ ہوں اور جنگل کا بادشاہ گوشت کھاتا ہے۔

ڈلیوری بوائے نے بہت اطمینان سے اس کی ساری بات سنی۔ اور بہت نرم اور پُر سکون لہجے میں بولا :

جناب میں جانتا ہوں کہ آپ جنگل کے بادشاہ ہیں ۔۔۔ لیکن۔۔۔ معذرت کے ساتھ کہ آپ کو یہاں بندر کے ویزے پر لایا گیا ہے۔😁

Leave a Reply

NZ's Corner