بچپن میں اکثر سنتے تھے کہ زیادہ علم انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔ تب یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن اب میں یہ دعویٰ پورے یقین سے کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے۔
ایک روز میرے مالی ‘جیرے’ نے مجھے بتایا کہ اس کے گاؤں میں ایک شخص زیادہ پڑھ لکھ کر پاگل ہو گیا ہے۔ وہ شہر میں ہیڈ ماسٹر تھا، مگر اب وہ گاؤں میں ہاتھ میں اینٹ اٹھائے “غاؤں غاؤں” کرتا پھرتا ہے۔ تجسس کے مارے میں نے رختِ سفر باندھا اور دشوار گزار راستوں سے ہوتا ہوا اس دور افتادہ گاؤں جا پہنچا۔
وہاں میری ملاقات جیرے کے بہنوئی ‘نہلے’ سے ہوئی، جو گاؤں کا ایک بااثر شخص تھا۔ اس نے ہنستے ہوئے بتایا: “صاحب! وہ واقعی پاگل ہے، ویسے تو ٹھیک رہتا ہے مگر بحث لمبی ہو جائے تو اینٹ اٹھا لیتا ہے۔” اگلے دن پورا گاؤں کسی میلے کے شوق میں میرے ساتھ ہولیا تاکہ ‘ماسٹر’ کا تماشا دیکھ سکیں۔
ہم ماسٹر صاحب کے گھر پہنچے۔ وہ ایک شیشم کے درخت تلے بیٹھے عینک لگائے کتاب پڑھ رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے کتاب سے نظریں اٹھائیں اور مسکرا کر پوچھا: “آؤ! آج کیا پوچھنے آئے ہو؟”
ایک ہٹے کٹے نوجوان نے آگے بڑھ کر پوچھا: “ماسٹر صاحب! چڑیل کو کیسے پکڑا جائے؟”
ماسٹر صاحب نے تحمل سے جواب دیا: “بھئی! کوئی چڑیل وڑیل نہیں ہوتی، یہ سب وہم ہے۔”
مجمع میں دبی دبی ہنسی گونجی۔ نوجوان پھر بولا: “مگر جو بھی قبرستان والے بوہڑ کے نیچے سوتا ہے، وہ مر جاتا ہے۔”
ماسٹر صاحب نے پیار سے سمجھایا: “دیکھو! درخت رات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جس سے آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے اور سونے والا دم گھٹنے سے مر جاتا ہے۔ اس میں چڑیل کا کوئی ہاتھ نہیں۔”
یہ سن کر پورا مجمع قہقہوں سے گونج اٹھا۔ نہلے نے میری طرف فاتحانہ انداز میں دیکھا: “دیکھا صاحب! کر دی نا پاگلوں والی بات؟”
پھر ایک رنگ ریز نے پوچھا: “کالا رنگ کیسے بنتا ہے؟”
ماسٹر صاحب بولے: “کالا کوئی رنگ نہیں ہے، بلکہ جہاں کوئی رنگ نہ ہو (روشنی جذب ہو جائے) وہاں سیاہی نظر آتی ہے۔”
لوگ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے: “اوئے پاگل ماسٹر! میں سفید بالوں پر خضاب لگاتا ہوں تو وہ کالے ہو جاتے ہیں، تو کہتا ہے کالا کوئی رنگ ہی نہیں۔”
آخر میں کسی نے سوال کیا: “اگر چاند سے زمین پر پتھر پھینکیں تو وہ کتنی دیر میں نیچے گرے گا؟”
ماسٹر صاحب کی بے بسی عروج پر تھی: “بھئی! چاند زمین کے اوپر نہیں بلکہ سامنے ہے، وہاں سے زمین نیچے نہیں بلکہ اوپر نظر آئے گی۔”
اب تو مجمع آپے سے باہر ہو گیا۔ ہر طرف تمسخر اور قہقہے تھے۔ ماسٹر صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، انہوں نے غصے میں زمین سے اینٹ اٹھا لی۔ لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے، مگر میں نے لپک کر ان کا وہ ہاتھ تھام لیا جس میں اینٹ تھی اور بڑی عقیدت سے اسے چوم کر کہا:
“ماسٹر صاحب! جہالت کا سمندر دلیل کے پتھر سے پار نہیں ہوتا۔”
ماسٹر صاحب کے ہونٹ کپکپائے، ہاتھ سے اینٹ چھوٹ گئی اور ان کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ وہ پاگل نہیں تھے، بس ایک ایسی بستی میں قید تھے جہاں علم کی زبان سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔
#منقول
