چوہدری صاحب کا “تربیت یافتہ” گھوڑا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک میراسی (جو اپنی حاضر جوابی کے لیے مشہور تھا) چوہدری صاحب کے پاس گیا اور بولا: “چوہدری صاحب! سنا ہے آپ نے ایک ایسا گھوڑا خریدا ہے جو صرف مذہبی کلمات پر چلتا ہے؟”
چوہدری صاحب نے فخر سے مونچھوں کو تاؤ دیا اور بولے: “ہاں بھئی! اسے میں نے خود تربیت دی ہے۔ جب کہو ‘الحمدللہ’ تو یہ گولی کی طرح بھاگتا ہے، اور جب کہو ‘سبحان اللہ’ تو فوراً رک جاتا ہے۔”
میراسی کو یقین نہ آیا، تو چوہدری صاحب نے اسے گھوڑے پر بیٹھ کر تجربہ کرنے کی دعوت دی۔ میراسی گھوڑے پر سوار ہوا اور ڈرتے ڈرتے بولا: “الحمدللہ!”
گھوڑا تو جیسے اسی لفظ کا انتظار کر رہا تھا، وہ ایسی رفتار سے بھاگا کہ میراسی کی سٹی گم ہو گئی۔ سامنے ایک بہت بڑی کھائی تھی اور گھوڑا سیدھا اسی طرف جا رہا تھا۔ میراسی گھبراہٹ میں سب کچھ بھول گیا اور چلانے لگا: “اوئے ٹھہر جا! رک جا! بریک مار!” مگر گھوڑا نہیں رکا۔
بالکل کھائی کے کنارے پر پہنچ کر میراسی کو اچانک صحیح لفظ یاد آیا اور وہ پوری قوت سے چلایا: “سبحان اللہ!”
گھوڑا بالکل کھائی کے آخری کنارے پر آ کر ایک جھٹکے سے رک گیا۔ میراسی کی جان میں جان آئی، اس نے ماتھے سے پسینہ پونچھا، آسمان کی طرف دیکھا اور بڑے اطمینان سے ایک لمبی سانس لے کر بولا:
“شکر ہے مولا! ‘الحمدللہ’ بچ گیا!”
اور پھر کیا تھا… گھوڑا پھر سے گولی کی طرح بھاگ گیا
